Thursday , October 18 2018
Home / ہندوستان / مرکزی حکومت ہمیں ڈی این اے رپورٹس دکھائے

مرکزی حکومت ہمیں ڈی این اے رپورٹس دکھائے

عراق میں ہلا ک ہندوستانیوںکے ارکان خاندان کا مطالبہ
نئی دہلی21 مارچ(سیاست ڈاٹ کام)عراق میں سال 2014 میں اغوا کر کے ہلاک کئے گئے 39 ہندستانیوں کے ارکان خاندان کے لوگ اس غمگین خبر سے ابھرنے کی کوشش کررہے ہیںلیکن ان کا سوال ہیکہ آخر مرکز نے ان سالوں میں انہیں اندھیرے میں کیوں رکھا؟وہیں کئی اہل خانہ حکومت سے انہیں ڈی این اے رپورٹس دکھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وزیر خارجہ سشما سوراج نے منگل کو راجیہ سبھا میں جانکاری دی کہ آئی ایس آئی ایس کے ذریعے اغوا 39 لوگ مارے جا چکے ہیں۔اس کے بعد پنجاب میں متاثر اہل خانہ کے سامنے دل دہلانے والا منظر دیکھنے کو ملا۔مہلوکین کام گاروں کے کئی رشتہ داروں نے کہا کہ افسران نے انہیں ان کے مارے جانے کے بارے میں سرکاری طور پر اطلاع نہیں دی تھی۔ امرتسر کے رہنے والے سرون نے دعوی کیا کہ حکومت نے ان سالوں میں ہمیں اندھیرے میں رکھا۔انہوں نے بہت اداس لہجے میں کہا کہ اب چار سال بعد وہ اس طرح کا حیران کر دینے والا بیان دے رہے ہیں۔سرون نے کہا “ہم نے مرکزی وزیر سشما سوراج سے 11سے 12مرتبہ ملاقات کی ۔وہ کہتے رہے ہیں کہ ہرجیت مسیح آئی ایس کے چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب اکیلا ہندستانی ہے۔اگر ان کے ذریعہ یہ بات بتا تے رہے ہیں کہ وہ زندہ ہیں تواچانک اب کیا ہوا؟حکومت کو جھوٹے بیان دینے کی بجائے یہ کہنا چاہئے تھا کہ ان کے پاس لاپتہ ہندستانیوں کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔اپنے 27 سالہ بھائی منجندر کو کھو چکی گرپیندر کوربڑے صدمہ میں ہیں۔انہوں نے بیحد غمگین آواز میں کہا ہے۔شروعات میں تو وہ کہہ رہے تھے کہ سبھی ہندستانی زندہ ہیں۔اب وزیر خارجہ نے بیان یہ بیان دیا۔ہمیں تو اس کی پہلے کوئی جانکاری بھی نہیں دی گئی۔ہمیں ٹی وی سے اس کا پتہ چلاوہ کہتی ہیں کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ڈی این اے رپورٹس مہیا کرائیں۔”۔27 سالہ دھرمیندر کمار کی بہن ڈمپل جیت کور کہتی ہیں کہ’ہمیں حکومت کی جانب سے جھوٹی یقین دہانی کرائی گئی۔کہا ہماری ساری امیدیں ختم ہو گئیں۔

TOPPOPULARRECENT