Sunday , November 19 2017
Home / اداریہ / مرکزی عظیم اتحاد ‘ لالو کی خواہش

مرکزی عظیم اتحاد ‘ لالو کی خواہش

اٹھ کہ پیدا ہوئی ظلمت افق خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کردیں
مرکزی عظیم اتحاد ‘ لالو کی خواہش
راشٹریہ جنتادل کے سربراہ و سابق چیف منسٹر بہار لالو پرساد یادو نے قومی سطح پر ایک عظیم اتحاد قائم ہونے اور 2019 کے عام انتخابات میں اس اتحاد کی کامیابی کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ در اصل لالو پرساد یادو اب 70 سال کے ہوگئے اور انہوں نے اپنی سالگرہ کے موقع پر اس خواہش کا اظہار کیا جب مختلف قائدین اور حامیوں کی کثیر تعداد انہیں سالگرہ کی مبارکباد پیش کرنے کیلئے پہونچی تھی ۔ لالو پرساد یادو کو سالگرہ کی مبارکباد دینے کیلئے آنے والوں میں چیف منسٹر بہار نتیش کمار بھی شامل تھے ۔ لالو پرساد یادو نے نتیش کمار کی آمد کے بعد ہی کہا کہ ریاست بہار میں جو عظیم اتحاد اسمبلی انتخابات کیلئے قائم ہوا تھا وہ اب بھی قائم ہے اور اس میں کسی طرح کے اختلافات نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایک عظیم اتحاد قومی سطح پر بھی قائم ہوجائے تاکہ اسے عام انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار کیا جاسکے ۔ لالو یادو کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی اور ان کا اتحاد نہ صرف بہار میں بلکہ بہار کے باہر بھی بی جے پی کی مخالفت پوری شدت کے ساتھ جاری رکھے گا ۔ لالو پرساد یادو کا کہنا تھا کہ انہوں نے بہار کے باہر ماہ اگسٹ میں ایک بڑی ریلی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اس ریلی میں تمام غیر بی جے پی جماعتوں کے اہم قائدین کو مدعو کرتے ہوئے انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ یہ ریلی ملک میں اپوزیشن کے اتحاد کا نقطہ آغاز ثابت ہوسکتی ہے ۔ ویسے تو سبھی گوشوں سے اس خیال کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ملک میں ایک عظیم اتحاد قائم ہونا چاہئے تاکہ بی جے پی کی پیشرفت اور اس کی کامیابیوں کے سلسلہ کو روکا جاسکے ۔ تاہم اس اتحاد کے قیام کیلئے کوششیں کسی نے بھی ابھی سنجیدگی کے ساتھ شروع نہیں کی ہیں۔ کانگریس پارٹی مسائل کی بنیاد پر اپوزیشن کو مجتمع کرنے میں مصروف تو ہے لیکن اسے ابھی تک اس میں کوئی خاص کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔ حالانکہ کانگریس چاہتی ہے کہ تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر مجتمع کرتے ہوئے صدارتی انتخابات میں حکومت کو اپوزیشن کے اتحاد کی طاقت سے مرعوب کرسکے ۔ ابھی تک اس میں اسے کامیابی نہیں مل سکی ہے کیونکہ کچھ جماعتیں ہیں جو ہیں تو اپوزیشن کی صفوںمیں لیکن حکومت کی گود میں گرنے کیلئے موقع کی تاک میں ہیں۔
لالو پرساد یاود کا جہاں تک تعلق ہے شائد ملک بھر میں اس لئے انفرادیت رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے انتہائی ابتر اور مشکل ترین حالات میں بھی بی جے پی کے کبھی دوستی نہیں کی تھی ۔ ایل کے اڈوانی کی رتھ یاترا روکنے کی اگر ملک میں کسی نے ہمت کی تھی تو وہ لالو پرساد یادو ہی تھے ۔ انہوں نے کسی بھی موقع پر بی جے پی سے دوستی نہیں کی اور نہ بی جے پی کا کسی مسئلہ پر ساتھ دیا ہے ۔ باقی دوسری تمام جماعتوں کے تعلق سے اگر دیکھا جائے تو سوائے کانگریس اور کمیونسٹوں کے تقریبا سبھی جماعتوں نے کسی نہ کسی موقع پر اور کسی نہ کسی انداز میں بی جے پی سے دوستی کی ہے ۔ کچھ جماعتوں نے کھلے عام اتحاد کیا تو کسی نے در پردہ ساز باز کے ساتھ کام کیا ہے ۔ ممتابنرجی ہوں کہ نتیش کمار ہوں ‘ دیوے گوڑا ہوں کہ نوین پٹنائک ہوں ‘ مایاوتی ہوں کہ ٹاملناڈو کی جماعتیں ہوں سبھی نے بی جے پی کے ساتھ کام کیا ہے اور اس کے ساتھ اتحاد کیا ہے ۔ اب ان تمام جماعتوں کو یہ احسا س ہونے لگا ہے کہ بی جے پی نے انہیں استعمال کیا ہے اور اب انہیں کی گردنوں پر پیر رکھتے ہوئے ان کا گلا گھوٹ کر خود آگے نکل گئی ہے ۔ مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد بی جے پی کے توسیع پسندانہ عزائم اور بھی بڑھ گئے ہیں۔ کانگریس سے پاک ہندوستان کے نعرہ کو در اصل اپوزیشن سے پاک ہندوستان کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اپوزیشن میںموجود جماعتوں کو شائد دھیرے دھیر ے اس بات کا اندازہ ہونے لگا ہے ۔ ان جماعتوں کو یہ غلطی تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ بی جے پی کے فروغ میں ان جماعتوں کا بھی رول ضرور ہے ۔
اب اگر اپوزیشن کی صفوں میںاتحاد نہیں ہوتا اور جس طرح سے لالو پرساد یادو نے قومی سطح پر عظیم اتحاد کی خواہش ظاہر کی ہے اس کو آگے نہیں بڑھایا جاسکتا تو پھر ہر جماعت کو یہ سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ آج کسی کی تو کل ان کی باری بھی ضرور آئیگی ۔ جب بی جے پی اپنے ساتھ ملا کر کام کرچکی جماعتوں کو دبا کر اور کچل کر آگے بڑھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی تو پھر اپوزیشن کی صفوں کو ختم کرنے میں بھی اسے کوئی رکاوٹ نہیںپیش آئیگی ۔ حکومت نے اکثریتی رائے کی اہمیت پر کام کرنا شروع کردیا ہے اور وہ اسی سمت میں سفر کر رہی ہے ۔ کانگریس کے نام پر اس ملک سے اپوزیشن جماعتوں کے ہی صفایہ کو یقینی بنانے کیلئے کام کیا جا رہا ہے اور اگر اپوزیشن اب بھی اس سازش کو نہیںسمجھتی تو پھر انہیں مستقبل کے تعلق سے لازما فکر مند ہونے کی ضرورت ہے جب انہیں خود بھی شائد اپنے وجود کا احساس دلانے میں مشکل پیش آئیگی ۔

TOPPOPULARRECENT