Tuesday , December 11 2018

مرکزی فنڈز میں کٹوتی کے نام پر ملک کو گمراہ کرنے کا الزام

گلبرگہ /9 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) :ریاست کی کانگریس قیادت والی حکومت نے آج مرکزی نریندر مودی کی قیادت والی حکومت سے سوال کیا ہے کہ بھلا کیوں کر وزیر اعظم مسٹر مودی اس قسم کا دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی حکومت اب تک کا سب سے بڑا فنڈ ریاستوں کو دے رہی ہے جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ ریاست کرناٹک کو مالی سال 2015-16میں مرکز کے فنڈز سے 6000کروڑ روپیے

گلبرگہ /9 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) :ریاست کی کانگریس قیادت والی حکومت نے آج مرکزی نریندر مودی کی قیادت والی حکومت سے سوال کیا ہے کہ بھلا کیوں کر وزیر اعظم مسٹر مودی اس قسم کا دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی حکومت اب تک کا سب سے بڑا فنڈ ریاستوں کو دے رہی ہے جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ ریاست کرناٹک کو مالی سال 2015-16میں مرکز کے فنڈز سے 6000کروڑ روپیے کم کر دیے گئے ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاستی وزیر تغذیہ و شہری رسدات مسٹر دنیش گنڈو رائو نے کہا ہے کہ چودہویں فائنانس کمیشن کے پہلے سال میں ریاست کو 5212کروڑ روپیے کم حاصل ہوئے۔جب کہ 2343کروڑ روپیے مرکزی پلان میں تخفیف کا بہانہ کرتے ہوئے کم کر دیے گئے ۔اسی کے ساتھ شرح نمو اور محصلہ نشانہ کو پورا کرنے کے لیے جو فرق پیدا ہوا تھا اس کے نام پر بھی مرکز نے ریاست کے فنڈز میں بھاری کٹوتی کی ہے۔وزیر اعظم کے اس بیان پر کہ ریاستوں کو مرکز بھاری فنڈز فراہم کرے گا رد عمل ظاہر کرتیہوئے مسٹر رائو نے کہا کہ وزیر اعظم اس قسم کی کذب بیانی سے کام لے کر کرناتک کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگرچہ مرکز کے محصولات کے حصہ میں سے اسے ریاست سے 8230کروڑ روپیے کی بھاری رقم زائد موصول ہوئی ہیاس کے باوجود جاریہ مالی سال کے اخراجات کے لیے فائنانس کمیشن کی گرانٹ میں 1737کروڑ روپیے کی کمی کر دی گئی ہے۔مرکز نے شرح نمو میں کمی کو بہانہ بتاتے ہوئے ریاست کے مالی حصے کو بھی کم کرنے کی کوشش کی ہے اور اس نے مزید 1504کروڑ روپیے کی تخفیف کر دی ہے۔انھوں نے کہا کہ شہر میں بی جے پی کے مجلس عاملہ کے اجلاس میں مرکزی وزیر کامرس نرملا سیتا رام اور پارٹی کے ترجمان مسٹر سی ٹی روی نے بلند بانگ دعوے ضرور کیے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے اور اگر وہ کسی بھی وقت عوامی بحث کے لیے اس موضوع پر آگے آنے کو تیار ہیں تو ہم انھیں موثر جواب دیں گے اور ان کے دعوئوں کی قلعی کھول کر رکھ دیں گے۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم جیسے بڑے عہدے پر فائز رہتے ہوئے بھی مسٹر مودی نے جھوٹ بالا اور اس معاملہ میں انھوں نے غلط بیانی سے کام لیا اس طرح انھوں نے سارے ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جو بے حد شرمناک بات ہے۔مسٹر مودی نے گذژتہ ہفتے شہر میں منعقدہ بی جے پی کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت ریاستوں پر بھروسہ کرتی ہے اور انھوں ملک کی ترقی کے لیے مساوی شراکت دار سمجھتی ہے۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ مرکز سیاسی نقاط نظر کے فرق کے باوجود ترقی کے نام پر کسی بھی غیر بی جے پی ریاست سے سوتیلا سلوک نہیں کرے گی اور کرناٹک کو اگلے پانچ سالوں میں 1.84لاکھ کروڑ روپیے کے فنڈز حاصل ہوں گے۔مسٹر رائو نے نشاندہی کی ہے کہ پنچایت راج ،مجالس مقامی اور دیگر عوامی کارپوریشنوں کے کام کاج کے لیے مرکز نے پہلے ہی رقومات و فنڈز میں بھاری کٹوتی کی ہیجے این یو آر آڑ ایم نامی اسکیم کو ختم کر دیا گیا اور اس کا فنڈ روک دیا گیا۔دیگر فلاحی اسکیمات شیتریہ کرشی یوجنا،مڈڈے میل پراجکٹ،پینے کے پانی کا پراجکٹ،آئی سی ڈی ایس پراجکٹ،سروا شکشھنا ابھیان پراجکٹوغیرہ میں بھاری فنڈز کی کٹوتی کی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ان ساری رکاوٹوں کے باوجود کرناٹک حکومت عوامی اور سماجی و فلاحی اسکیمات کو جو کرناٹک میں سدرامیا حکومت نے شروع کر رکھا ہے کسی قیمت پر بھی روکے گی نہیں۔ان اسکیموں کے لیے مرکز کا شئیر گر کر 6695کروڑ سے 2615کروڑ روپیے تک پہنچ گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ کانگریس کا یہ ماننا ہے کہ ملک اور ریاست کی ترقی سماج کی ترقی سے وابستہ ہے اور سماجی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت سماج کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلے اور اسی کام کو گذشتہ دو سالوں سے سدرامیا حکومت کامیابی سے پورا کرتی چلی آرہی ہے۔قومی ترقی عوام کی ترقی کے بغیر ہرگز ممکن نہیں ہے ۔بی جے پی کے موافق عوام فلاحی اسکیموں کے دعوئوں کی قلعی جلد ہی کھل جائے گی اور حقیقت سے عوام آگاہ ہوجائیں گے۔کل چیف جسٹس کانفرنس کے موقع پر مسٹر مودی کی جانب سے عدالتوں کو 900کروڑ روپیے ان کی ترقی کے لیے مختص کردیے جانے کے اعلان پر بھی مسٹر رائو نے سوال قائم کیا ہے انھوں نے وضٓحت کی ہے کہ حقیقت میں یہ فنڈز ریاستوں کو دیا جاتا ہے اور عدالتیں اپنی ضروریات ریاستی حکومت سے طلب کرتی ہیںا ور وزیر اعظم صرف اس کا اختصاص ہی کر سکتے ہیں۔انھیں اس فنڈز کے استعمال کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔یہاں مسٹر مودی کسی اور کے کام کا کریڈٹ خود حاصل کرنے کی مذموم کوشش میں ملوث نظر آرہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ججس وزیر اعلیٰ سے فنڈز طلب کرتے ہیں۔مسٹر رائو نے الزام عائد کیا ہے کہ مسٹر مودی ججوں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT