Tuesday , October 16 2018
Home / Top Stories / مرکزی نمائندہ برائے کشمیر کے غیرواضح رول سے الجھن

مرکزی نمائندہ برائے کشمیر کے غیرواضح رول سے الجھن

دنیش شرما محض اجیت دوول کے ماتحت تک محدود ، رپورٹ کی پارلیمنٹ میں پیشکشی ضروری : فاروق عبداللہ
سرینگر ۔ /12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سینئر سیاستداں فاروق عبداللہ نے کہا کہ مرکز کے خصوصی نمائندہ برائے کشمیر کی مساعی صرف اسی وقت پیشرفت کرسکتی ہے جب دنیشور شرما کی قطعی رپورٹ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کی جائے ۔ جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر نے جنہیں پھر ایک مرتبہ نیشنل کانفرنس کا صدر منتحب کیا گیا ہے ۔ اس بات پر زور دیا کہ نئی دہلی کو یہ بیان کرنے کی ضرورت بھی ہے کہ وہ شرما کو کشمیر پر بات چیت کے لئے خصوصی نمائندہ مقرر کرتے ہوئے آخر کیا حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ اس ریاست میں اصل اپوزیشن جماعت کے سربراہ فاروق عبداللہ نے کہا کہ اقتدار کی راہداریوں سے اٹھنے والی مختلف آوازوں نے انہیں (دنیشور شرما) کو اپنا کام شروع کرنے سے پہلے ہی صفر تک گھٹادیا ہے ۔ 80 سالہ رہنما فاروق عبداللہ نے کہا کہ وہ بات چیت کے کبھی بھی مخالف نہیں رہے لیکن مرکز کے اقدام پر وضاحت کے فقدان سے متذبذب ہوگئے ہیں ۔ سابق چیف منسٹر نے کہا کہ ’’ان (شرما) کے وادی پہونچنے سے قبل میں نئی دہلی سے مختلف آوازیں اٹھنے لگیں ۔ جن میں وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) میں مملکتی وزیر جیتندر سنگھ بھی شامل ہیں ۔ جنہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ شرما کوئی ثالثی یا مصالحت کار نہیں ہیں ‘‘ ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ شرما کا موقف اور دائرہ اختیار غیر واضح ہے ۔ لوک سبھا کے رکن نے مزیدکہا کہ ’’ہمیں اس بات پر الجھن ہے کہ وہ (شرما) کیا ہیں اور ان کے ایجنڈہ کیا ہوگا ‘‘ ۔ اس سوال پر کہ انہوں نے شرما سے ملاقات کیوں نہیں کی ۔ فاروق عبداللہ نے جواب دیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں تاوقتیکہ نئی دہلی ان کے اختیارات واضح نہیں کردیتی اور یہ کہ وہ جو بھی قطعی سفارشات کریں گے انہیں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے ۔ یہی پیشرفت کا واحد راستہ ہے ‘‘ ۔ فاروق عبداللہ نے ماضی میں ایسے ہی اقدامات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’’ ماضی نے دکھادیا ہے کہ ایسی کوئی بھی مساعی مخلصانہ نہیں تھی ۔ کیا کسی نے دلیپ پڈگاؤنکر اور ان کی ٹیم رادھا کمار اور ایم ایم انصاری کی رپورٹ کی بات کی ہے ؟ ‘‘ ۔ انہوں نے شرما کے مشن پرمایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’ مجھے اس مشن پر پیشرفت کی کوئی امید نہیں ہوگی جب تک حکومت ہند اپنا ذہن واضح نہیں کرتی اور انہیں (شرماکو) رپورٹ پیش کرنے کی اتھاریٹی نہیں دیتی ۔ ورنہ وہ (شرما) تو محض (قومی سلامتی کے مشیر) اجیت ڈول کے ماتحت بن کر رہ جائیں گے ۔

 

TOPPOPULARRECENT