Wednesday , May 23 2018
Home / Top Stories / مرکزی وزارت اقلیتی امور نے مختص بجٹ خرچ نہیں کیا

مرکزی وزارت اقلیتی امور نے مختص بجٹ خرچ نہیں کیا

صرف 66 فیصد بجٹ کے استعمال پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی کا اظہار مایوسی ۔ پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش
نئی دہلی ۔ 11 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک پارلیمانی پیانل نے مرکزی وزارت اقلیتی امور کی جانب سے بجٹ میں مختص کردہ رقومات کے عدم استعمال اور اس طرح کے عام مسائل پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اس مسئلہ پر اب وزارت کو مزید کوئی تجاویز روانہ نہیں کی جائیں گی ۔ سماجی انصاف و امپاورمنٹ پر پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی نے وزارت اقلیتی امور کی جانب سے رقومات کے عدم خرچ پر اس رائے کا اظہار کیا ہے ۔ وزارت کیلئے بجٹ میں 4,195.48 کروڑ روپئلآے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا اور جاریہ سال 20 فبروری تک وزارت نے صرف 66.58 کروڑ روپئے ہی خرچ کئے ہیں۔ اس کمیٹی کے سربراہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بیاس ہیں ۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ وزارت کی جانب سے فنڈز کے عدم استعمال یا کم استعمال کی وجوہات وہی ہیں جو وزارت نے گذشتہ سال بھی پیش کی تھیں۔ اس کمیٹی نے اپنی 53 ویں رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا کہ اب یہ وزارت کا عام مسئلہ بن گیا ہے اور وہ مالیاتی سال کے آخری مہینے میں اپنے جملہ بجٹ کا 30 فیصد یا 40 فیصد حصہ خرچ کئے جانے کی روایت اور رجحان کو ختم کرنے میں بے بس ہوگئی ہے ۔ کمیٹی نے کہا کہ جب یہ سوال کیا گیا کہ آیا فنڈز کے کم استعمال کی وجہ سے وزارت فینانس سے فنڈز کی اجرائی پر اثر نہیں ہوگا تو وزارت اقلیتی امور نے یہ جواب دیا کہ وہ وزارت فینانس سے اس معاملہ میں استثنی کی خواہش کریگی ۔ کمیٹی نے کہا کہ وزارت اقلیتی امور کو چاہئے کہ وہ اس روایت کو آسان نہ سمجھے کہ اسے ہمیشہ ہی وزارت فینانس سے اس معاملہ میں منظوری مل جائیگی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر وزارت فینانس اس کی منظوری نہ دے تو وزارت اقلیتی امور اس صورتحال کا اندازہ کرسکتی ہے کہ ان اسکیمات کا کیا ہوگا جن کیلئے رقومات خرچ نہیں کی جا رہی ہیں۔ ایسا پہلے بھی ہوچکا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت اقلیتی امور اس بات سے بھی واقف ہے کہ بجٹ میں مختص کردہ فنڈز کو استعمال نہ کرکے واپس بھیجنا جرم ہے کیونکہ اس سے وزارت کے مستقبل کے بجٹ تخمینہ پر بھی اثر ہوسکتا ہے اور بجٹ کو کم کیا جاسکتا ہے ۔ کمیٹی نے کہا کہ اس نے گذشتہ برسوں میں وزارت کو کوئی تجاویز اس سلسلہ میں روانہ کی تھیں اور فنڈز خرچ کرنے کو کہا تھا لیکن ان کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے اس لئے کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اب اس مسئلہ پر وزارت کو مزید کوئی تجاویز روانہ نہیں کی جائیں گی ۔ کمیٹی نے اب یہ معاملہ خود وزارت کیلئے چھوڑ دیا ہے کہ وہ وزارت فینانس کے رہنما خطوط پر عمل آوری کیلئے اپنی راہوں کا تعین کرے ۔ کمیٹی نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ وزارت کی جانب سے گذشتہ سال کتنے فیصد بجٹ خرچ کیا گیا تھا ۔ یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں گذشتہ جمعرات کو پیش کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT