Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / مرکزی وزراء کا طلاق ثلاثہ قانون سازی پر تبادلہ خیال

مرکزی وزراء کا طلاق ثلاثہ قانون سازی پر تبادلہ خیال

سماجی کارکن مسلم مردوں کے خلاف طلاق ثلاثہ پر فوجداری مقدمہ کے مخالف

نئی دہلی ۔ /23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزراء کے ایک گروپ نے آج تقریباً ایک گھنٹہ تک طلاق ثلاثہ کی روایت ختم کرنے کیلئے قانون سازی پر تبادلہ خیال کیا ۔ سپریم کورٹ کے اس رواج کے خلاف فیصلہ سنایا تھا اور اسے روک دینے کی ہدایت دی تھی ۔ مرکز اس سلسلے میں ایک قانون سازی پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنا چاہتا ہے ۔ سرمائی اجلاس کا آغاز امکان ہے کہ /15 ڈسمبر کو ہوگا ۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی زیرصدارت اجلاس میں مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا جو مجوزہ مسودہ قانون سے متعلق ہیں ۔ وزیر خارجہ سشما سواراج ، وزیر قانون روی شنکر پرساد ، وزیر سماجی انصاف و بااختیاری تھاور چند گیہلوٹ ، وزیر اقلیتی امور مختبار عباس نقوی ، اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کے علاوہ دیگر اہم افراد نے اجلاس میں شرکت کی ۔ آج کے اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور آئندہ دنوں میں مزید تبادلہ خیال کا اعلان کیا گیا ۔ ممبئی سے موصولہ اطلاع کے بموجب حکومت نے قانون سازی پر غور کیلئے ایک وزارتی کمیٹی طلاق ثلاثہ کے خلاف قائم کی ہے ۔ جبکہ مسلم خواتین کارکنوں نے تجویز پیش کی کہ ان مسلم مردوں کے خلاف جو طلاق بدعت کی روایت پر عمل کریں ان کے خلاف فوجداری مقدمہ نہ چلایا جائے ۔ فوری طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے اس کے خلاف فیصلہ کے باوجود اب بھی عمل جاری ہے ۔ بے باک کلکٹیو فاؤنڈر حسینا خان نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے مقدمات دیوانی قانون کے تحت چلائے جائیں ۔ ہم کسی مسلم مرد کے خلاف جو یکطرفہ طور پر طلاق ثلاثہ کے رواج پر عمل کرتا ہے فوجداری مقدمہ چلایا جائے ۔ انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ ایک نظام قائم کیا جائے جس کے تحت ایسے مقدمات سے دیوانی قانون کے تحت نمٹا جائے اور انصاف بحال کیا جائے تاکہ مسلم مرد شادی اور طلاق کے حقوق کا مطالبہ نہ کرسکیں ۔

TOPPOPULARRECENT