Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / مرکزی وزیرتیل دھرمیندر پردھان کا مجوزہ دورہ ایران

مرکزی وزیرتیل دھرمیندر پردھان کا مجوزہ دورہ ایران

تحدیدات کی برخاستگی کے بعد باہمی تجارت میں اضافہ کی کوشش، ایرانی قیادت سے بات چیت
نئی دہلی ۔ 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بہترین توازن برقرار رکھنے کے مقصد سے ہندوستان اپنے مرکزی وزیرتیل دھرمیندر پردھان کو آئندہ ماہ کے اوائل میں ایران روانہ کرے گا۔ اس سے چند دن قبل وزیراعظم نریندر مودی مشرق وسطیٰ کے ایران کے قریب ملک سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں۔ امکان ہیکہ دھرمیندر پردھان 6 تا 7 اپریل ایران کا دورہ کریں گے اور مودی کا دو روزہ دورہ سعودی عرب 2 اپریل سے شروع ہوگا۔ مرکزی وزیر تیل کے ہمراہ او این جی سی ودیش لمیٹیڈ کے منیجنگ ڈائرکٹر نریندر کے ورما اور انڈین آئیل کارپوریشن کے صدرنشین پی اشوک، مرکزی وزیر تیل پردھان کے ہمراہ ہوں گے اور ایرانی وزارت تیل اور گیس سے بین الاقوامی تحدیدات کی برخاستگی کے بعد باہمی تجارت میں اضافہ کی کوشش کریں گے۔ تحدیدات کی برخاستگی کے بعد کسی بھی ہندوستانی وزیر تیل کا یہ اولین دورہ ایران ہوگا۔ چند ہی دن قبل صدر چین ژی جن پنگ ایران کا دورہ کرچکے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان 17 معاہدے ہوئے اور باہمی تجارت 10 گنا کرنے سے اتفاق کیا گیا۔ آئندہ 10 سال میں باہمی تجارت کی مالیت 600 ارب امریکی ڈالر ہونے کا امکان ہے۔ سعودی عرب کے برہم ہوجانے سے گریز کیلئے صدر چین ژی نے ایران کے دورہ سے قبل سعودی عرب میں مصر کا دورہ کیا تھا۔ نئی دہلی تحدیدات کی برخاستگی کے بعد ایران سے تیل کی درآمدات میں اضافہ کا خواہاں ہے اور چاہتا ہیکہ قدرتی گیس بھی بحری جہازوں کے ذریعہ ہندوستان منتقلی کی جائے۔ ہندوستان چاہتا ہیکہ خلیج فارس میں فرزار ۔ بی گیس کا کنواں قائم کیا جائے جس کی دریافت OVL نے کی ہے۔ ذرائع کے بموجب اس شعبہ میں پردھان کے دورہ کے موقع پر کسی معاہدہ پر دستخط نہیں ہوں گے کیونکہ ایرانی پارلیمنٹ نے ایران کے نئی پٹرولیم کے معاہدوں کی ہے، منظوری نہیں دی ہے۔ آئی پی سی 20 سال قبل ختم ہوچکا ہے جس کے تحت تیل کی خریداری کا نظام قائم تھا اور غیرملکی کمپنیوں کو ذخائر کی بکنگ کی اجازت نہیں تھی۔ وہ ایرانی کمپنیوں کے حصص خرید سکتی تھیں۔ غیرملکی کمپنیاں اب بھی تیل کے کنوؤں کی مالک نہیں ہیں۔ ماضی میں غیرملکی کمپنیوں کو مقررہ فیس ادا کرنی پڑتی تھی جس کے بعد ہی انہیں تیل کی کے کنویں دریافت کرنے اور تیل اور گیس کی پیداوار کی اجازت دی جاتی تھی۔ نئے قانون سے ان کے منافع میں زمرہ بندی کی گئی ہے جو ادا کردہ فیس اور کنوؤں کے قیام میں لاحق خطروں کی بنیاد پر ہے۔ یہ معاہدہ 25 سال کیلئے ہوگا اور سرمایہ کے خرچ پر کوئی تحدید عائد نہیں کی جائے گی۔ غیرملکی کمپنیوں کو فی بیارل فیس ادا کرنی ہوگی اور وہ منافع میں اضافہ کے بھی مستحق ہوں گے بشرطیکہ تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوجائے ۔ ذرائع کے بموجب امکان ہیکہ پردھان معاہد ہ کو قطعیت دیں گے لیکن اس پر ددستخط نہیں کئے جائیں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT