Saturday , January 20 2018
Home / Top Stories / مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کم ٹیکسوں کے حامی

مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کم ٹیکسوں کے حامی

واشنگٹن 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )جدید ٹیکس نظام کے تحت کمتر شرح اور عالمی مسابقتی شرحوں پر ٹیکس عائد کرنے کا تیقن دیتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جو کسی بھی استقدامی اثر سے کارروائی کے مخالف ہیں کہا کہ ٹیکس دہندگان کو حکومت کے شراکت دار تصور کیا جائے گا انہیں یرغمال نہیں سمجھا جائے گا اور نہ اُن کو ہ

واشنگٹن 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )جدید ٹیکس نظام کے تحت کمتر شرح اور عالمی مسابقتی شرحوں پر ٹیکس عائد کرنے کا تیقن دیتے ہوئے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جو کسی بھی استقدامی اثر سے کارروائی کے مخالف ہیں کہا کہ ٹیکس دہندگان کو حکومت کے شراکت دار تصور کیا جائے گا انہیں یرغمال نہیں سمجھا جائے گا اور نہ اُن کو ہراساس کیا جائے گا ۔ اندرون ملک ٹیکس دہندگان کو بھی کمتر ٹیکس شرح کی ضرورت کیونکہ رقم زبردستی مملکت کے شہریوں کو منتقل کی جارہی ہے تاہم ٹیکس نیٹ کافی وسیع ہوگا تا کہ ہر ایک کو حکومت کا ایک حصہ ہونے کا احساس ہوسکے ۔ جیٹلی نے کہا کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ استقدامی اثر سے ٹیکس اندازی ‘ ٹیکس ہراسانی اور ٹیکس انتظامیہ کی جانب داری خاص طور پر منتقلی کی قیمت کے معاملات سے متعلق سخت اندیشے پائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر یہ اصطلاح غیر ملکی گروپس سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کیلئے استعمال کی جاتی ہے ۔

ارون جیٹلی نے کہا کہ حکومت ایک شفاف اور قابل قیاس ٹیکس نظام کی پابندی ہیں انہوں نے کہا کہ یہ اُن کے صرف تاثرات نہیں ہے بلکہ انہیں عملی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تنازعات کم کرنے کیلئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں اور محکمہ ٹیکس کے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ معمول کے انداز میں کمزور اپیلیں درج رجسٹر نہ کریں ۔ حکومت ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتی جو ووڈا فون اورشیل کے بارے میں دیئے گئے ہیں۔ جیٹلی پیٹرسن ادارہ برائے بین الاقوامی معاشیات سے خطاب کررہے تھے ۔ انہو ںنے کہا کہ وہ اُجاگر کرنا چاہتے ہیں کہ حکومت ہند مکمل طور پر شفافیت اور قابل قیاس ٹیکس نظام کی پابند ہے ۔ استقدامی اثر سے کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ٹیکس دہندگان کو حکومت کے شراکت دار سمجھا جائے گا ۔ امکانی یرغمالی یا متاثرین نہیں ۔ انہوں نے جدید ٹیکس نظام کے بارے میں اپنے نظریہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس پالیسی اور انتظامیہ کو ایک دوسرے کے ہم آہنگ ہونا چاہئے اور ایک دوسرے کی خواہش کی تکمیل کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ احکام کو ایسے انداز میں نافذ کیا جانا چاہئے جس سے ترغیب حاصل ہوتی ہو ۔ ان کے نفاذ کا انداز منصفانہ ‘شفاف اور اقل ترین تعصب کے ساتھ ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس چوری کرنے والوں کے ساتھ منصفانہ انداز سے نمٹا جائے گا اور ٹیکس دہندگان کو ہراساں نہیں کیا جائے گا ۔ انہو ںنے تیقن دیا کہ حکومت ہند مسابقتی شرح ٹیکس برقرار اور عالمی سطحوں کے مطابق رکھے گی۔

TOPPOPULARRECENT