Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / مرکزی وزیر کی زہرافشانی اور مرکز کے فرقہ پرست اقدامات کی مذمت

مرکزی وزیر کی زہرافشانی اور مرکز کے فرقہ پرست اقدامات کی مذمت

سیکولر ملک میں تمام طبقات کا احترام ضروری، کونسل میں محمد فاروق حسین کا شدید ردعمل

سیکولر ملک میں تمام طبقات کا احترام ضروری، کونسل میں محمد فاروق حسین کا شدید ردعمل
حیدرآباد ۔ 16 فبروری (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین نے مساجد کے خلاف مرکزی وزیر سبرامنیم سوامی کی زہرافشانی، گوا میں گاندھی جینتی کی عام تعطیل برخاست کرنے اور ہریانہ کے تعلیمی نصاب میں بھگوت گیتا کو شامل کرنے کے فیصلوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے تمام سیکولر ذہنیت کے حامل شخصیتوں کو سیاسی، جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر اس کی سخت مذمت کرنے پر زور دیا۔ مسٹر محمد فاروق حسین نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے۔ تاہم ترقی کو بنیاد بنا کر بی جے پی کی جانب سے اقتدار حاصل کرنے کے بعد فرقہ پرست بی جے پی اور اس کی ہم خیال فرقہ پرست طاقتیں اقلیتوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کرتے ہوئے اکثریتی طبقہ میں اقلیتوں کیلئے نفرت پیدا کررہے ہیں جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر سبرامنیم سوامی کا ذہنی توازن بگڑ چکا ہے۔ مرکزی وزارت کا حلف لیتے وقت انہوں نے تمام مذاہب اور قانون کا احترام کرنے اور کسی سے کوئی امتیاز نہ برتنے کی قسم کھائی ہے۔ آر ایس ایس کو خوش کرنے اور نریندر مودی کی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کرتے ہوئے عوام کو الجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے سبرامنیم سوامی کے معاملے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ردعمل کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سعودی عرب کا حوالہ دیا جارہا ہے تو وہاں کے قانون پر بھی عمل کیا جائے۔ فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف منظم مہم چلائی جارہی ہے۔ مہاراشٹرا میں بڑے گوشت پر امتناع عائد کرنے کے بعد سارے ملک میں اس پر عمل کرنے کیلئے وزارت قانون سے رائے طلب کی گئی ہے۔ گوا میں گاندھی جی کی یوم پیدائش کی سرکاری تعطیل کو سرکاری تعطیلات کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے اور سارا الزام سرکاری مشنری پر تھوپتے ہوئے ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم سرکاری ملازمین نے ذمہ داروں کی اجازت حاصل کرنے کے بعد ہی فہرست جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے۔ ہریانہ کے سرکاری مدارس میں بھگوت گیتا کو نصابی تعلیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دستور کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ مہاراشٹرا میں مسلم تحفظات کو قانون سازی کے ذریعہ برخاست کردیا گیا ہے۔ پھر سے رام مندر کے مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچایا جارہا ہے۔ مسٹر محمد فاروق حسین نے کہاکہ مرکز میں بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت قائم ہونے کے بعد مسلمانوں کے خلاف قانون سازی کیلئے بی جے پی کی زیراقتدار ریاستوں کو تجربے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT