Friday , June 22 2018
Home / Top Stories / مرکزی وزیر گوپی ناتھ منڈے کا سڑک حادثہ میں انتقال

مرکزی وزیر گوپی ناتھ منڈے کا سڑک حادثہ میں انتقال

نئی دہلی ۔ /3 جون (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر دیہی ترقیات اور مہاراشٹرا کے مقبول ترین پسماندہ طبقات کے لیڈر گوپی ناتھ منڈے کا آج صبح وسطی دہلی میں سڑک حادثہ میں انتقال ہوگیا ۔ 64 سالہ منڈے کو گزشتہ ہفتے پہلی مرتبہ مرکزی کابینہ میں شامل کیا گیا تھا ۔ وہ آج صبح اپنی کار میں ایرپورٹ جارہے تھے کہ دوسری گاڑی نے ٹکر دیدی ۔ یہ حادثہ دارالحکومت

نئی دہلی ۔ /3 جون (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر دیہی ترقیات اور مہاراشٹرا کے مقبول ترین پسماندہ طبقات کے لیڈر گوپی ناتھ منڈے کا آج صبح وسطی دہلی میں سڑک حادثہ میں انتقال ہوگیا ۔ 64 سالہ منڈے کو گزشتہ ہفتے پہلی مرتبہ مرکزی کابینہ میں شامل کیا گیا تھا ۔ وہ آج صبح اپنی کار میں ایرپورٹ جارہے تھے کہ دوسری گاڑی نے ٹکر دیدی ۔ یہ حادثہ دارالحکومت کے قلب میں واقع پرتھوی راج روڈ ۔

تغلق روڈ پر پیش آیا ۔ آنجہانی بی جے پی لیڈر پرمود مہاجن کے برادر نسبتی گوپی ناتھ منڈے کے پسماندگان میں اہلیہ اور تین دختران شامل ہیں ۔ ان کی ایک لڑکی مہاراشٹرا کے ضلع بیڑ میں پارلی حلقہ سے رکن اسمبلی ہیں ۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس (ایمس) کے ترجمان ڈاکٹر امیت گپتا نے بتایا کہ ڈاکٹرس کی ایک ٹیم نے گوپی ناتھ منڈے کا پوسٹ مارٹم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اندرون جسم کئی زخموں کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی ۔ ان کے جسم پر بیرونی زخم کے کوئی نشان نہیں تھے ۔ جب انہیں ٹراما سنٹر لایا گیا اس وقت ان کی نبض اور قلب کی حرکت بندتھی ۔ مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن نے کہا کہ منڈے کو کئی فریکچر آئے اور دماغ و پھیپھڑوں کے زخمی ہونے کی وجہ سے آکسیجن کی سربراہی رک گئی ۔

ان کے جگر کو بھی دو تا تین جگہ نقصان پہونچا جس کی وجہ سے ان کے پیٹ سے تقریباً دیڑھ لیٹر خون خارج ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ منڈے کو سب سے زیادہ گردن کے فریکچر سے نقصان پہونچا ۔ اس نوعیت کے فریکچر میں دماغ کو خون کی سربراہی بند ہوجاتی ہے اور رگوں کو بھی کافی نقصان ہوتا ہے ۔ ہرش وردھن جو خود ایک ڈاکٹر ہیں کہا کہ حادثہ میں منڈے کی موت کا سبب بھی یہی وجہ تھی ۔ منڈے کے سکریٹری ایس نیئر جو کار میں تھے کہا کہ حادثہ کے فوری بعد گوپی ناتھ منڈے کو گہرا صدمہ پہونچا اور ان کے قلب پر حملہ ہوا ۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ انڈیکا کار اروبندو چوک پر ٹریفک سگنل کو توڑتے ہوئے آگے نکل گئی اور تیز رفتار سے ماروتی سوزوکی SX4 کو ٹکر دیدی جس میں منڈے سوار تھے ۔ وہ پرتھوی راج روڈ سے صفدر روڈ کی سمت جارہے تھے ۔ منڈے ان کی کار میں پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ وہ شوگر کے مریض اور ذہنی تناؤ کے عارضہ کا بھی شکار تھے ۔ انڈیکا کار کے ڈرائیور کو فوری حراست میں لے لیا گیا ۔

پولیس نے بتایا کہ حادثہ کے بعد منڈے نے پانی طلب کیا اور ڈرائیور سے کہا کہ انہیں ہاسپٹل لے جائیں ۔ ان کی موت ایک ایسے وقت ہوئی جبکہ وہ مرکزی وزیر بننے کے بعد پہلی مرتبہ اپنے حلقہ انتخاب جارہے تھے جہاں انہیں تہنیت پیش کی جانے والی تھی ۔ حادثے سے ایک دن قبل انہوں نے مجلس وزراء کے اجلاس میں شرکت کی ۔ منڈے ایک غریب خاندان اور پسماندہ مرہٹواڑہ علاقہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ آنجہانی بی جے پی لیڈر وسنت راؤ بھاگوت نے انہیں سیاست میں متعارف کیا اور پھر وہ ترقی کرتے چلے گئے ۔ منڈے حال ہی میں تعلیمی قابلیت کے تعلق سے تنازعہ کا شکار ہوگئے تھے ۔ کانگریس نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے کالج سے 1976ء میں گریجویشن کیا جبکہ یہ کالج 1978ء میں قائم ہوا ۔ آج ان کے انتقال کی وجہ سے دہلی اور ریاستی دارالحکومت و مرکزی زیرانتظام علاقوں میں پرچم نصف بلندی پر لہرائے گئے ۔

صدرجمہوریہ پرنب مکرجی ، نائب صدر حامد انصاری ، وزیراعظم نریندر مودی ، صدر کانگریس سونیا گاندھی اور دیگر کئی قومی قائدین نے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر منڈے کی موت پر اظہار افسوس اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا ۔ منڈے کی نعش بی جے پی کے قومی ہیڈکوارٹر لائی گئی تھی ۔ بعد ازاں خصوصی طیارہ کے ذریعہ ان کی نعش ممبئی لائی گئی ۔ توقع ہے کہ آخری رسومات کل 4.30 بجے دن ادا کی جائے گی ۔ منڈے کی نعش ان کی قیامگاہ پہونچتے ہی شیوسینا سربراہ اودھو ٹھاکرے ، ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے ، بی جے پی ایم پی ہیما مالینی اور این سی پی قائدین چھگن بھوجبل اور پرفل پٹیل نے آنجہانی کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ ان کی نعش ریاستی بی جے پی آفس میں رکھی گئی تاکہ عوام خراج عقیدت پیش کرسکیں ۔ کل صبح ان کی نعش لاتور اور پھر یہاں سے 70 کیلو میٹر دور پرالی لے جائی جائے گی جو بی جے پی لیڈرمنڈے کا آبائی مقام ہے ۔

TOPPOPULARRECENT