Friday , August 17 2018
Home / شہر کی خبریں / مرکزی و ریاستی حکومتوں سے شعبہ تعلیمات نظر انداز

مرکزی و ریاستی حکومتوں سے شعبہ تعلیمات نظر انداز

حکومت کی سرد مہری پر تمثیلی اسمبلی اجلاس ، طلباء کے مختلف امور پر مباحث کی ستائش
حیدرآباد۔19فبروری(سیاست نیوز) اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) نے عثمانیہ یونیورسٹی کے محکمہ تعلیم کے اشتراک سے آئی سی ایس ایس آر ہال میں تمثیلی اسمبلی منعقد کیا ۔ پروفیسر مسعوداحمد‘ پروفیسر جے ایل این رائو کے علاوہ ،ڈاکٹر طلحہ فیاض الدین‘ اور ڈاکٹر مجاہد نے اسپیکرس کے فرائض انجام دئے جبکہ 13سے زائد طلبہ نے بطور منتخب عوامی نمائندے شرکت کی۔ بحث کا آغاز تعلیمی بجٹ پر ہوا اور طلبہ کی جانب سے دنیا بھر میںتعلیم پر خرچ کی جانے والی رقم اور ہندوستان میںتعلیم کے لئے مختص کئے جانے والے فنڈس پیش کئے گئے۔ طلبہ نے اپنی بحث میں مرکزی اور ریاستی حکومتو ںکو تعلیمی بجٹ کی اجرائی میں کوتاہی برتنے کا ذمہ دار ٹھرایا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ دنیا کے بہت سارے ایسے ممالک ہیں جہاں پر ملک کی جی ڈی پی کا دس فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کیاجاتا ہے اور ہماری حکومتیں ایک فیصد سے بھی کم خرچ کرتی ہیںجس کے سبب تعلیمی معیار بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ تمثیلی اسمبلی میںحصہ لینے والے طلبہ نے حکومتوں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ تحقیق کے شعبے کو مرکزی او رریاستی حکومتیں پوری طرح نظر انداز کررہی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیق ایک ایسا شعبہ ہے جس کا فروغ بہتر ہندوستان کی ضمانت ہے‘ مگر حکومت ہند تحقیق کے شعبہ کے ساتھ امتیازی سلوک برت رہی ہے۔ سرکاری ذرائع تعلیم کو غیرمعروف بنانے کے اسباب بیان کرتے ہوئے طلبہ نے کہاکہ تعلیم کے خانگی شعبوں کو فروغ دینے کے مقصد سے سرکاری اسکولوں ‘ کالج او ریونیورسٹیوں کویا تو انفراسٹرکچر سے محروم کیاجارہا ہے یا پھر سیاسی اکھاڑہ بناکر ان اداروں کوپس پشت ڈالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ طلبہ نے اپنی رائے میں کہاکہ سرکاری تعلیم میں وسائل کی کمی کے باوجود طلبہ کا شاندار مظاہرہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر حکومت سرکاری ذرائع تعلیم کے فروغ میں دلچسپی دیکھاتی ہے تو یقینا نتائج توقع سے بہتر آئیں گے۔ طلبہ نے تحقیق کے شعبہ جات کے فروغ میںحکومت کے تعاون کو ضروری قراردیتے ہوئے کہاکہ موثر فنڈز کی اجرائی تحقیق کے کاموں میںتیزی پیدا کرنے میںمددگار ثابت ہوگی۔ اسپیکرس نے تمثیلی اسمبلی میںحصہ لینے والے طلبہ کے انداز بحث کو سراہا او رکہاکہ اسمبلی کے ذریعہ طلبہ کے رحجان کو پیش کرنے میںہمیںبڑی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT