Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / مرکزی کابینہ سے دتاتریہ کی علحدگی پر اظہار افسوس

مرکزی کابینہ سے دتاتریہ کی علحدگی پر اظہار افسوس

کمزور طبقات کی توہین ، گورنمنٹ وہپ بی وینکٹیشوراؤ کا بیان
حیدرآباد ۔ 4 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں گورنمنٹ وہپ بی وینکٹیشورلو نے مرکزی کابینہ سے تلنگانہ کے واحد نمائندہ بنڈارو دتاتریہ کو علحدہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دہلی میں مرکزی وزیر کی حیثیت سے تلنگانہ کے معاملات میں مدد کرنے والے بنڈارو دتاتریہ کو وزارت سے علحدہ کرنا کمزور طبقات کی توہین کے مترادف ہے ۔ کم از کم ان کی جگہ کسی اور قائد کو کابینہ میں جگہ دی جانی چاہئے تھی ۔ بی جے پی کے اس اقدام سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ قیادت کو تلنگانہ سے کس قدر محبت ہے۔ بی جے پی کے ریاستی قائدین پر مودی اور امیت شاہ کو بھروسہ نہیں ہے۔ جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں بی جے پی کو ڈپازٹ بھی حاصل نہیں ہوئی تھی لیکن وہ آج ریاست میں اقتدار کا خواب دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان دوسرے مقام کیلئے جدوجہد ہے۔ وینکٹیشورلو نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کی غلط فہمی ہے کہ اگر حکومت کو برا بھلا کہا گیا تو عوام کی تائید حاصل ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی الزام تراشی سے دونوں پارٹیوں کو عوام سبق سکھائیں گے۔ بی وینکٹیشورلو نے الزام عائد کیا کہ ریاستی بی جے پی قائدین کانگریس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حکومت پر بے بنیاد الزام تراشی کر رہے ہیں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تھا تو بی جے پی کا حشر بھی تلنگانہ میں کانگریس کی طرح ہوجائے گا ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی وینکٹیشورلو نے کہا کہ کے سی آر کی قیادت میں ٹی آر ایس حکومت عوام کی بھلائی کے ایجنڈہ کے ساتھ کام کر رہی ہے اور تلنگانہ کے عوام مکمل طورپر حکومت کے ساتھ ہیں۔ اگر الزام تراشی کے ذریعہ ترقی کو روکنے کی کوشش کی گئی تو بی جے پی کا حشر بھی عوام کانگریس کی طرح کردیں گے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن کی جانب سے ویموچنا یاترا کے نام پر چیف منسٹر کے سی آر کو نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔ وینکٹیشورلو نے کہا کہ تلنگانہ جدوجہد کے دوران بی جے پی کیوں تحریک سے پیچھے رہ گئی تھی۔ کے سی آر نے جہد مسلسل اور قربانیوں کے ذریعہ تلنگانہ حاصل کیا اور ریاست کے عوام اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ترقی اور بھلائی کے شعبوں میں تلنگانہ ریاست ملک میں سرفہرست ہے۔ وزیراعظم اور کئی مرکزی وزراء مختلف ریاستوں کے چیف منسٹرس نے کے سی آر حکومت کی بارہا ستائش کی ہے۔ تلنگانہ حکومت کو قومی سطح کے کئی ایوارڈس حاصل ہوئے اور حال ہی میں وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کو مثالی آئی ٹی منسٹر کا ایوارڈ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے بی جے پی قائدین سے سوال کیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ انہوں نے گزشتہ تین برسوں میں عوام سے کئے گئے وعدوں کی اس حد تک تکمیل کی ہے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے تلنگانہ کو بہترین اور موضوع مقام کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ کسانوں کو آئندہ سال سے دو فصلوں کیلئے فی ایکر 8000 روپئے ادا کئے جائیں گے۔ غریب لڑکیوں کی شادی کے سلسلہ میں شادی مبارک اور کلیان لکشمی جیسی اسکیمات کو متعارف کیا گیا جو ٹی آر ایس حکومت کا کارنامہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT