Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / مرکزی کابینہ میں برقی شرحوں کی نئی پالیسی منظور

مرکزی کابینہ میں برقی شرحوں کی نئی پالیسی منظور

برقی تقسیم کے اداروں کو فعال اور مستحکم بنانے پر زور
نئی دہلی ۔ 20 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : مرکزی کابینہ نے آج برقی شرحوں کی نئی پالیسی کی منظوری دیدی ہے جس کا مقصد فضائی آلودگی سے پاک توانائی کا فروغ ، برقی تقسیم کے اداروں کے خسارہ پر قابو اور سرمایہ کاری کی ترغیب ہے ۔ کابینہ اجلاس کے بعد سرکاری ذرائع نے بتایا کہ نئی برقی شرحوں کی پالیسی سے کلین انرجی کا فروغ سوچھ بھارت پروگرام کی تائید ، ڈسکامس کے انتظام و انصرام میں بہتری اور برقی شعبہ میں خانگی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔ نئی برقی پالیسی میں سب سے زیادہ توجہ تحفظ ماحولیات اور قابل تجدید توانائی پر دی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں برقی تقسیم کے اداروں ( ڈسکامس ) کو مزید فعال اور صارفین کی موثر خدمات کے لیے ریگولیٹری میکانزم کو مضبوط و مستحکم بنایا جائے گا ۔ واضح رہے کہ سال 2006 میں مرکزی حکومت نے الکٹرسٹی ایکٹ 2003 کے تحت نیشنل ٹیرف پالیسی کی منظوری دی تھی ۔ حال ہی میں مرکزی وزیر توانائی مسٹر پیوش گوئیل نے یہ اشارہ دیا تھا کہ نئی پالیسی میں پاک و صاف توانائی پر توجہ مرکوز کی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ اب 1.75 لاکھ میگاواٹ قابل تجدید توانائی کا چیلنج درپیش ہے اور پالیسی میں رد و بدل کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں قابل تجدید توانائی کو فروغ حاصل ہوگا ۔ مرکزی وزیر نے بتایا کہ سوچھ بھارت ابھیان کی ترغیب اور برقی کے استعمال میں کفایت شعاری کے لیے بعض عناصر کو شامل کیا گیا ہے ۔ جب کہ سوچھ بھارت ابھیان کے تحت بلدیات سے حاصل ہونے والے کوڑا کرکٹ کو برقی پلانٹ کے لیے استعمال کیا جائے گا ۔ اور نئی پالیسی میں کئی ایک نئے پہلوؤں کو شامل کیا گیا جو کہ سابق میں نظر انداز کردئیے گئے تھے اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو یہ اختیار تفویض کیا گیا ہے کہ ناکارہ اشیاء سے تیار کی جانے والی برقی کو کسی بھی قیمت پر حاصل کریں ۔۔

TOPPOPULARRECENT