Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مرکزی کابینہ میں تلنگانہ بل کی منظوری کا خیرمقدم: جناب محمد علی شبیر

مرکزی کابینہ میں تلنگانہ بل کی منظوری کا خیرمقدم: جناب محمد علی شبیر

حیدرآباد۔/8فبروری، ( سیاست نیوز) پردیش کانگریس کے نائب صدر اور رکن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے مرکزی کابینہ کی جانب سے تلنگانہ بل کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے سیما آندھرا قائدین بشمول چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کی شدید مخالفت کے باوجود مرکزی کابینہ کی جانب سے تلنگانہ بل کی منظوری سے متعلق فیصلہ کو جرأتمندانہ قراردیا۔ مح

حیدرآباد۔/8فبروری، ( سیاست نیوز) پردیش کانگریس کے نائب صدر اور رکن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے مرکزی کابینہ کی جانب سے تلنگانہ بل کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے سیما آندھرا قائدین بشمول چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کی شدید مخالفت کے باوجود مرکزی کابینہ کی جانب سے تلنگانہ بل کی منظوری سے متعلق فیصلہ کو جرأتمندانہ قراردیا۔ محمد علی شبیر نے اس سلسلہ میں یو پی اے کی صدر نشین سونیا گاندھی، نائب صدر کانگریس پارٹی راہول گاندھی، وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور گروپ آف منسٹرس میں شامل وزراء سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے2004ء میں تلنگانہ عوام سے علحدہ ریاست کے قیام کے سلسلہ میں جو وعدہ کیا تھا اس کی تکمیل اب یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اپنے وعدہ کو وفا کرنے کیلئے نہ صرف تینوں علاقوں کے قائدین سے طویل مشاورت کی بلکہ سیما آندھرا علاقوں کے ساتھ مناسب انصاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیما آندھرا کی ترقی کیلئے خصوصی پیاکیج کی منظوری کا تلنگانہ قائدین بھی خیرمقدم کریں گے کیونکہ گذشتہ 60برسوں تک تینوں علاقوں کے عوام شیر و شکر کی طرح زندگی بسر کرچکے ہیں۔ تلنگانہ عوام اور قائدین کبھی بھی سیما آندھرا عوام کے مخالف نہیں رہے۔وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ریاستیں یکساں طور پر ترقی کریں۔ محمد علی شبیر نے یقین ظاہر کیا کہ 10یا 11فبروری کو راجیہ سبھا میں تلنگانہ بل پیش کیا جائے گا جہاں بی جے پی کی تائید کے ساتھ بل کی منظوری یقینی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی جانب سے تائید نہ کئے جانے سے متعلق اندیشوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ

اگر بی جے پی تلنگانہ سے متعلق اپنے موقف سے انحراف کرے گی تو اسے تلنگانہ میں عوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی اور سیما آندھرا وزراء کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ قائدین تقسیم ریاست کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی ہاری ہوئی بازی کھیل رہے ہیں۔ درحقیقت چیف منسٹر کو اسی وقت شکست ہوگئی تھی جس وقت کانگریس ورکنگ کمیٹی نے 30جولائی کو تلنگانہ کے حق میں قرارداد منظور کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں یکطرفہ طور پر بل کی مخالفت میںقرارداد کی منظوری کا ریاست کی تقسیم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اسمبلی کی اس قرارداد کی کوئی اہمیت نہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کرن کمار ریڈی کے بحیثیت چیف منسٹر دن قریب آچکے ہیں اور کانگریس ہائی کمان کسی بھی وقت انہیں عہدہ سے برطرف کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش کی تاریخ کے آخری چیف منسٹر اور مخالف تلنگانہ قائد کی حیثیت سے کرن کمار ریڈی کا تاریخ میں شمار ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT