Sunday , September 23 2018
Home / ہندوستان / مرکزی کابینہ میں ’ داغدار ‘ وزرا کی شمولیت کا الزام بالکلیہ بے بنیاد

مرکزی کابینہ میں ’ داغدار ‘ وزرا کی شمولیت کا الزام بالکلیہ بے بنیاد

حکومت کی وضاحت : کانگریس مودی کی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار : ارون جیٹلی ۔ بی جے پی کی بھی جوابی تنقید

حکومت کی وضاحت : کانگریس مودی کی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار : ارون جیٹلی ۔ بی جے پی کی بھی جوابی تنقید

نئی دہلی 10 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت نے آج کانگریس کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ مودی کابینہ میں داغدار وزرا کو شامل کیا گیا ہے ۔ حکومت نے کہا کہ ان وزرا کے کردار کا خود وزیر اعظم نے جائزہ لیا ہے ۔ بی جے پی نے بھی کانگریس پر جوابی وار کیا ہے اور اس پر المام عائد کیا کہ عوام میں وزیر اعظم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے کانگریس بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے اسی لئے وہ بے بنیاد الزامات عائد کر رہی یہ ۔ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات مسٹر ارون جیٹلی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کا پورا الزام بے بنیاد ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی کے پاس اب کوئی سیاسی مسائل نہیں رہ گئے ہیں۔ کانگریس کو چاہئے کہ وہ خود کو اپنی خراب حکمرانی تک محدود کرلے جو اس نے فراہم کی تھی ۔ اسے چاہئے کہ وہ اپنی کارکردگی کا این ڈی اے کی کارکردگی سے تقابل کرے ۔ این ڈی اے معیاری حکمرانی فراہم کر رہی ہے ۔ کانگریس کو اس طرح کے بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ کانگریس کے الزامات پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جیٹلی نے کہا کہ یو پی اے کے دور حکومت میں کچھ وزرا کے خلاف نہ صرف الزامات اور مقدمات تھے بلکہ کچھ کو سزا بھی دی گئی اور یو پی اے دور حکومت میں کئے گئے تقریبا ہر فیصلے کے تعلق سے تنازعہ پیدا ہوا تھا ۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یو پی اے دور حکومت میں وہ لب کشائی سے بھی گریز کرتے تھے ۔ انہیں یو پی اے دور میں وزرا کے انتخاب میں کوئی اختیار نہیں دیا گیا تھا جبکہ این ڈی اے دور حکومت میں وزیر اعظم ہی حرف آخر ہیں اور وہ اپنے ہر وزیر کے تعلق سے شخصی طور پر حقائق معلوم کرتے ہیں۔ وزیر فینانس نے اپنے ساتھی وزرا رام شنکر کتھاریہ اور وائی ایس چودھری کے خلاف الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ ان دونوں کے خلاف جو مقدمات ہیں وہ سیاسی نوعیت کے اور کارپوریٹ مسائل کے ہیں اخلاقی اعتبار کے یا دیگر جرائم کے نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور وزیر گری راج سنگھ کے خلاف بھی کوئی مقدمہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں یا پھر کارپوریٹ نوعیت کے ہیں ۔ یہ اخلاقی معاملات نہیں ہیں اور نہ ہی کسی طرح کے جرائم سے متعلق مقدمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان وزرا نے کسی طرح کے جرائم نہیں کئے ہیں۔ بی جے پی کے قومی سکریٹری سریکانت شرما نے کہا کہ مرکزی کابینہ میں کوئی داغدار وزرا نہیں ہیں اور نہ ہی کسی وزیر کا مجرمانہ ریکارڈ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ وزرا کے خلاف جو مقدمات ہیں وہ کانگریس یا اس کی حلیف جماعتوں کی جانب سے دائر کئے گئے سیاسی اغراض پر مبنی مقدمات ہیں اور ان کی تائید میں عدالتوں میں کسی طرح کا ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے ۔ کانگریس نے کابینہ کی توسیع کے بعد مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت میں جو وزرا شامل کئے گئے ہیں وہ داغدار ہیں جبکہ مودی نے انتخابات سے پہلے کہا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو مجرمین سے پاک کرنا چاہتے ہیں ۔ کانگریس جنرل سکریٹری اجئے ماکین نے وزیر اعظم سے معذرت کا بھی مطالبہ کیا تھا کیونکہ وہ اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوگئے تھے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ مرکزی وزیر وائی ایس چودھری مستعفی ہوجائیں کیونکہ وہ بینک کا قرض واپس کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ مسٹر ماکین نے کہا تھا کہ وزیر اعظم کو اس مسئلہ پر وضاحت کرنی چاہئے اور مرکزی وزیر کی حیثیت سے مسٹر وائی ایس چودھری کو مستعفی ہوجانا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT