Tuesday , December 11 2018

مرکزی کابینہ کی جانب سے نیا صارفین تحفظ بل منظور

صارفین کے حقوق کی حفاظت کرنے کا اختیار، کمپنیوں کی جانب سے گمراہ کرنے پر جیل کی سزاء ممکن
نئی دہلی ۔ 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کابینہ نے آج نیا صارفین تحفظ بل کو منظور کردیا ہے۔ اس بل میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے عہدیداروں کو مکمل اتھاریٹی دی گئی ہے جن کمپنیوں کی جانب سے گمراہ کن اشہار بازی کی جاتی ہے اور اشیاء میں آمیزش کے ذریعہ دھوکہ دیا جاتا ہے تو ایسے کیس میں کمپنیوں پر جرمانہ عائد ہوگا اور مالکین کو جیل کی سزاء ہوگی جو اہم شخصییتں عوام کو گمراہ کرنے والی تشہیر کرتے ہیں اور ناقص اشیاء کی فروخت کیلئے اپنی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو انہیں جرمانہ کا سامنا کرنا پڑے گا اور 3 سال کی سزاء بھگتنی پڑے گی۔ ذرائع کے مطابق کابینہ نے صارفین تحفظ بل 2017ء کو متعارف کرتے ہوئے منظوری دے دی ہے۔ 2015ء میں لائے گئے بل سے دستبرداری اختیار کی جائے گی۔ اگست 2015ء میں مرکز نے لوک سبھا میں صارفین تحفظ بل کو متعارف کیا تھا اور یہ بل 30 سال قدیم صارفین تحفظ قانون 1986ء کی جگہ لے رہا تھا۔ پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی نے گذشتہ سال اپریل میں اپنی سفارشات پیش کردی تھی۔ وزارت امورصارفین نے اس بل کو تیار کیا اور اس میں کئی ترمیمات انجام دی گئی۔ گمراہ کرنے والے اشتہارات کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور اس بلکے تحت کمپنیوں کے علاوہ تشہیر کرنے والے اہم شخصیتوں کو سزاء ہوگی۔ پہلی مرتبہ کئے گئے جرم کی صورت میں جرمانہ کی رقم 10 لاکھ تک ہوگی اور ایک سال کی سزاء دی جائے گی۔ دوسری مرتبہ جرم کرنے پر جرمانہ کی رقم 50 لاکھ ہوگی اور 3 سال تک سزاء ہوگی۔ تاہم مینوفیچکررس اور کمپنیوں کو 10 لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ذرائع نے کہا کہ نئے بل میں موجودہ قانون کو وسعت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT