Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / مرکز اور حکومت تلنگانہ کے درمیان نئے تنازعہ کا اندیشہ

مرکز اور حکومت تلنگانہ کے درمیان نئے تنازعہ کا اندیشہ

گھریلو سروے پر مرکز کی نظر، تفصیلات کی طلبی کیلئے مداخلت ممکن

گھریلو سروے پر مرکز کی نظر، تفصیلات کی طلبی کیلئے مداخلت ممکن
نئی دہلی 19 اگسٹ (پی ٹی آئی) مرکز اور حکومت تلنگانہ کے درمیان اب مزید ایک نیا تنازعہ ناگزیر نظر آرہا ہے کیونکہ مرکزی وزارت داخلہ ممکن ہے کہ تلنگانہ میں 84 لاکھ خاندانوں کی تفصیلات کا پتہ چلانے کیلئے کئے گئے جامع گھریلو سروے میں مداخلت کرسکتی ہے تاکہ اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ مرکزی حکومت اس مسئلہ سے باخبر ہے اور آج صبح شروع کئے گئے تلنگانہ سروے پر نظر رکھی ہوئی ہے کیونکہ سیما آندھرا کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے عوام میں سروے کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جارہے ہیں۔ اس عہدیدار نے کہاکہ ’’اگر ضروری ہو تو مناسب وقت وزارت داخلہ کی طرف سے مناسب مداخلت کی جاسکتی ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت توقع کرتی ہے کہ تلنگانہ کی صورتحال بالخصوص حیدرآباد جہاں زبردست کشیدگی پائی جاتی ہے، امن و سکون رہے گا اور کوئی پرتشدد واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ اس عہدیدار نے کہاکہ ’’ہم توقع کرتے ہیں خوشگوار احساسات برقرار رہیں گے اور حکومت ایسا کچھ نہیں کرے گی جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے‘‘۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے سیما آندھرا کے عوام کی نشاندہی کے لئے یہ سروے کئے جانے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اتوار کو کہا تھا کہ اس عمل کا مقصد حکومت کی فلاحی اسکیمات کے ثمرات کو عوام کے منتخب طبقات تک پہونچانا ہے۔ حیدرآباد میں امن و قانون پر گورنر کو خصوصی اختیارات سے متعلق مرکزی وزارت داخلہ کے احکام کو چیف منسٹر کے سی آر نے فاشسٹ قرار دیا تھا اور وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان احکام کی تنسیخ کا مطالبہ کیا تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT