Friday , February 23 2018
Home / مضامین / مرکز بجٹ تلنگانہ کیلئے مایوس کن

مرکز بجٹ تلنگانہ کیلئے مایوس کن

کودنڈا رام پر پابندیاں،پون کلیان کا سرخ قالین استقبال
کانگریس ڈیامیج کنٹرول میں مصروف

محمد نعیم وجاہت
ریاست تلنگانہ میں انتخابی تیاریوں کا عملاً آغاز ہوگیا ہے۔ اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ کانگریس اُمور آر سی کنٹیا نے حیدرآباد میں دو دن قیام کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کا جہاں ڈیامیج کنٹرول کا آغاز کیا ہے وہیں کے ٹی آر اور اتم کمار ریڈی کے چیلنج و جوابی چیلنج نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کو نظرانداز کرنے کا مسئلہ بھی موضوع بحث ہے۔ گجرات میں کانگریس کے مظاہرے کے بعد سارے ملک کے کانگریس کارکنوں میں جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ راجستھان میں منعقدہ لوک سبھا کے 2 اور اسمبلی کے ایک ضمنی انتخابات میں کانگریس کی شاندار کامیابی کے بعد صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی راہول گاندھی نے اپنی ساری توجہ جنوبی ہند کی 2 ریاستوں کرناٹک اور تلنگانہ پر مرکوز کردی ہے۔ پارٹی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انھوں نے کرناٹک کا اپنا پہلا دورہ کیا ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے پردیش کانگریس کمیٹی کی صدارت پر اتم کمار ریڈی کو برقرار رکھتے ہوئے یہ اشارہ دے دیا کہ ریاست میں جب بھی انتخابات ہوں گے اتم کمار ریڈی اس کے کیپٹن ہوں گے۔ راہول گاندھی کی ہدایت پر دو دن تک حیدرآباد میں قیام کرنے والے آر سی کنٹیا نے تقریباً 100 قائدین سے ملاقات کی جبکہ وہ 50 قائدین سے ملاقات کرنے کی فہرست تیار کرتے ہوئے حیدرآباد پہونچے تھے۔ تاہم کانگریس قائدین میں پائے جانے والے جوش و خروش سے وہ بھی حیرت زدہ رہ گئے۔ کنٹیا نے کانگریس کے تمام قائدین کو متحد کرنے کی جو پہل کی اس میں وہ کامیاب بھی رہے۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی صدارت کے دعویداروں نے بھی ہائی کمان کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے اپنی طرف سے پارٹی کو کامیاب بنانے کی تجاویز پیش کی۔ دوسری جماعتوں کے قائدین جو کانگریس ممیں شمولیت اختیار کرنے کے خواہشمند ہیں انھیں دہلی کے بجائے حیدرآباد میں شامل کرانے کا مشورہ دیا ہے۔ ہم خیال سیاسی جماعتوں سے اتحاد کے لئے کانگریس نے اپنے دروازے کھول دیئے۔ کانگریس قائدین نے 6 ماہ قبل ہی ٹکٹوں کا اعلان کرنے کا مشورہ دیا۔ حیدرآباد پہونچنے سے قبل شاید آر سی کنٹیا کو بھی یقین نہیں تھا کہ ان کا یہ دورہ اتنا کامیاب رہے گا۔ اس کی ایک وجہ ہے۔ اتم کمار ریڈی نے حالیہ دنوں میں پارٹی کے سینئر قائدین کا اعتماد حاصل کرنے اور نوجوان نسل کو ساتھ لے کر چلنے کی جو پہل کی ہے اس کے بھی مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ بیشتر سینئر قائدین نے اتم کمار ریڈی کے ساتھ تعاون کرنے کا کانگریس ہائی کمان کو یقین دلایا۔ دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی قائدین کے درمیان جو اتفاق رائے پیدا ہوا ہے وہ کتنے دن باقی رہے گا اور یہ پارٹی کو انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار کرنے کے معاملہ میں کتنی معاون و مددگار ثابت ہوگی۔

ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی دوبارہ کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے ٹی آر ایس کی شکست پر سیاسی سنیاس لے لینے کا اعلان کیا اور کانگریس کی شکست پر سیاسی سنیاس لینے کے لئے تیار رہنے کا صدر تلنگانہ پردیش کاکنگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی کو چیلنج کیا۔ کے ٹی آر کا یہ چیلنج ٹی آر ایس کے کیڈر میں ایک نیا جوش و خروش پیدا کرچکا تھا۔ ٹی آر ایس قائدین کے چہروں پر خوشی جھلک رہی تھی کہ دوبارہ ریاست میں ٹی آر ایس کی کامیابی یقینی ہے۔ اب بال اتم کمار ریڈی کی کورٹ میں تھا یہ چیلنج کانگریس کیڈر کے لئے بہت بڑا سوالیہ نشان بن گیا تھا۔ اتم کمار ریڈی نے بغیر کسی تاخیر چیلنج کو قبوبل کیا اور واضح کردیا کہ اگر انتخابات میں کانگریس کو شکست ہوتی ہے تو وہ اور ان کی شریک حیات جو رکن اسمبلی ہیں سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے۔ اگر ٹی آر ایس کو شکست ہوتی ہے تو انھوں نے کے سی آر، کے ٹی آر، ہریش راؤ اور کویتا کو بھی ہمیشہ کے لئے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلینے کا چیلنج کردیا۔ اتم کمار ریڈی کے چیلنج قبول کرنے اور جوابی چیلنج کرنے سے کانگریس کیڈر کے بھی حوصلے بلند ہوئے۔ ریاست میں حکمراں ٹی آر ایس اور کانگریس انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کیلئے ’’مینڈ گیم‘‘ کھیل رہے ہیں۔ اس میں شک نہیں فی الحال ٹی آر ایس کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ اگر اسمبلی حلقوں کی نشستوں میں اضافہ نہیں ہوگا تو ٹی آر ایس کے لئے مسائل بڑھ سکتے ہیں کیوں کہ دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے 26 ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دینا ٹی آر ایس کے لئے بہت بڑا چیلنج ثابت ہوگا کیوں کہ ریاست کے 119 اسمبلی حلقوں میں 60 حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے والوں کو گورنر حکمرانی کی دعوت دیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹی آر ایس کا کیڈر اور مقامی قائدین ان 26 ارکان اسمبلی کو دوبارہ کامیاب بنانے میں تعاون کریں گے؟ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 24 اسمبلی حلقے موجود ہیں۔ 2014 ء میں ٹی آر ایس کا صرف ایک رکن اسمبلی منتخب ہوا تھا مگر 2016 ء کے جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں ٹی آر ایس نے 99 بلدی حلقوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے تاریخ بنائی تھی۔ بلدی انتخابات میں تعاون کرنے والے عوام کیا اسمبلی انتخابات میں بھی اپنی تائید ٹی آر ایس کے لئے برقرار رکھیں گے۔ ٹی آر ایس کے سروے میں پسماندہ طبقات کے لئے مختص محفوظ حلقوں میں ٹی آر ایس کو 18 حلقوں میں نقصان ہونے کا پتہ چلا ہے۔ کیا حکمراں ٹی آر ایس عوامی ناراضگی کو دور کرنے میں کامیاب ہوگی۔ یہ ایسے سوالات ہیں جو ٹی آر ایس قیادت کے لئے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ اسمبلی کا بجٹ سیشن ٹی آر ایس کے مستقبل کی حکمت عملی کو ظاہر کرے گا۔ چیف منسٹر کے سی آر سماج کے تمام طبقات کے لئے معقول بجٹ پیش کرتے ہوئے ان میں حکومت کے خلاف پائی جانے والی ناراضگیوں کو دور کرسکتے ہیں۔ اسمبلی کا بجٹ سیشن بھی بڑا دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔ حکومت اسمبلی کے پلیٹ فارم سے جہاں اپنے کارنامے پیش کرنے کی کوشش کرے گی وہیں اپوزیشن حکومت کی ناکامیوں کو اُجاگر کرتے ہوئے عوام کا دل جیتنے کی کوشش کرے گی۔

یہ حقیقت ہے ریاست میں مختلف سماجی و رضاکارانہ تنظیمیں حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ تلنگانہ تحریک کے روح رواں پروفیسر کودنڈا رام کو تلنگانہ میں گھومنے پھرنے کی آزادی نہیں ہے۔ مخالف تلنگانہ فلم اسٹار سے سیاست داں بن جانے والے پون کلیان کا تلنگانہ میں سرخ قالین پر استقبال کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے انھیں 20 گاڑیوں کے قافلے میں گھومنے پھرنے کی آزادی دی گئی۔ ایس سی طبقہ کے لئے زمرہ بندی کی تحریک چلانے والے ایم کرشنا مادیگا کو جیل میں بند رکھا گیا۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ 4 ماہ میں مکمل کرنے کا وعدہ کیا گیا 44 ماہ مکمل ہونے کے باوجود مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم نہیں کئے گئے۔ اقلیتوں کے لئے مختص کردہ بجٹ کبھی 50 فیصد بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ گزشتہ 4 بجٹ کے اعداد و شمار اس کی گواہی دے رہے ہیں۔ طلاق ثلاثہ پر ٹی آر ایس کا موقف بی جے پی کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہے۔ اندرون 2 ماہ 66 اُردو مترجمین کی جائیدادوں پر تقررات کرنے کا وعدہ کیا گیا اس پر بھی کوئی عمل آوری نہیں کی گئی۔ حکومت ریاست میں نئی قانون سازی کے ذریعہ اظہار آزادی پر کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ایسا لگتا ہے ٹی آر ایس کو جمہوریت پر ایقان نہیں ہے۔ دھرنا چوک کو برخاست کردیا گیا۔ عوامی مسائل پر احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرتے ہوئے انھیں ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ حالیہ ہفتہ 10 دن میں شہر حیدرآباد کے علاوہ اضلاع میں قتل کی وارداتوں سے ریاست کے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کا پتہ چلتا ہے۔

مرکزی حکومت کا بجٹ تلنگانہ کے لئے مایوس کن ثابت ہوا ہے۔ جبکہ ٹی آر ایس نے نیتی آیوگ، نوٹ بندی، جی ایس ٹی، صدرجمہوریہ اور نائب صدرجمہوریہ کے انتخابات، طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی مکمل تائید کی ہے مگر وزیراعظم نریندر مودی نے بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کیا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے 40 ہزار کروڑ روپئے کے بجٹ تجاویز مرکز کو روانہ کئے تھے جس کو پوری طرح مسترد کردیا گیا۔ پھر بھی چیف منسٹر نے اس پر خاموشی اختیار کی۔ وزیراعظم نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا جو نعرہ دیا تھا وہ مذاق کا موضوع بن کر رہ گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے حج سبسیڈی برخاست کرتے ہوئے یہ وعدہ کیا تھا کہ حج کے لئے جو سبسیڈی دی جارہی ہے وہ اقلیتوں کی تعلیم بالخصوص مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔ ارون جیٹلی نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں اقلیتی بہبود کے لئے گزشتہ سال کے بجٹ میں صرف 505 کروڑ کا اضافہ کرتے ہوئے 4700 کروڑ روپئے کیا گیا ہے۔ حج سبسیڈی کی برخاستگی سے جو 700 کروڑ روپئے کی بچت ہوئی تھی اس کو اقلیتی بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ مرکزی وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی نے جس طرح حج سبسیڈی کی برخاستگی میں اہم رول ادا کیا تھا وہی رول برخاست کردہ حج سبسیڈی کے 700 کروڑ روپئے اقلیتی بجٹ میں شامل کرانے میں ناکام ہوگئے۔ سرکاری ملازمین کے ٹیکس ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی مگر صدرجمہوریہ ، نائب صدرجمہوریہ اور گورنرس کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا گیا۔

تلنگانہ میں انتخابی ماحول تیار ہورہا ہے اور ہر جماعت اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے عوام کو ہمنوا بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ ٹی آر ایس نے جہاں 100 اسمبلی حلقوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے وہیں کانگریس نے 70 سے زیادہ اسمبلی حلقوں پر کامیاب ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ تلنگانہ کے انتخابات بی جے پی اور تلگودیشم کے لئے وجود منوانے کا موقع ثابت ہوں گے۔ تلنگانہ میں تلگودیشم کا تقریباً صفایا ہوگیا ہے۔ مرکز میں اقتدار پر ہونے کے بل پر بی جے پی بھی اقتدار کی دعویداری پیش کررہی ہے مگر زمینی حقائق دونوں جماعتوں کے لئے سازگار نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں نہ چاہتے ہوئے بھی دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے اتحاد کرسکتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے۔ بی جے پی اور تلگودیشم میں ٹکراؤ کی صورتحال ہے۔ ٹی آر ایس این ڈی اے کی حلیف نہیں ہے۔ مگر تلنگانہ میں بھی ٹی آر ایس اور بی جے پی کا ٹکراؤ ہے۔ بہرحال کچھ ہو سیاسی صورتحال دلچسپ ہونے والی ہے۔ کونسی پارٹی عوامی تائید حاصل کرے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

TOPPOPULARRECENT