Sunday , April 22 2018
Home / شہر کی خبریں / مرکز سے کے سی آر کی آنکھ مچولی، اچانک نرم موقف

مرکز سے کے سی آر کی آنکھ مچولی، اچانک نرم موقف

عام انتخابات میں شکست کا خوف، کانگریس سے مقابلہ کیلئے بی جے پی کی مدد، ٹی آر ایس قائدین الجھن کا شکار
حیدرآباد ۔ 11 ۔ اپریل (سیاست نیوز) 2019 ء عام انتخابات میں شکست کا خوف چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو ابھی سے ستانے لگا ہے ۔ 14 برسوں تک تلنگانہ جدوجہد کے ذریعہ علحدہ ریاست حاصل کرنے والے کے سی آر جو ملک میں ایک شاطر سیاستداں کے طور پر شہرت رکھتے ہیں، گزشتہ 4 برسوں کے اقتدار میں انہیں فیصلہ سازی اور خاص طور پر سیاسی حکمت عملی کے تعین میں کمزور ثابت کیا ہے۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات اور دوسری طرف حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی کا کانگریس کی جانب سے استحصال کے اندیشے کے سبب چندر شیکھر راؤ مرکزی حکومت سے ٹکراؤ کے لئے تیار نہیں۔ حالیہ عرصہ میں کے سی آر نے بعض ایسے سیاسی فیصلے کئے جن پر وہ خود قائم نہ رہ سکے جس کے نتیجہ میں پارٹی قائدین میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ کے سی آر جو اپنے فیصلوں پر قائم رہنے کیلئے مشہور ہیں، انہوں نے کانگریس کو طاقتور ہونے سے روکنے کیلئے بی جے پی کا سہارا لینے کا من بنالیا ہے ۔ اگرچہ اس سلسلہ میں انہوں نے پارٹی قائدین سے کوئی مشاورت نہیں کی اور نہ ہی اس بات کا کوئی اشارہ دیا لیکن گزشتہ ایک ماہ کے دوران سیاسی فیصلوں میں قلاء بازی سے سیاسی مبصرین پیش قیاسی کر رہے ہیں کہ 2019 ء میں کے سی آر بی جے پی سے خفیہ مفاہمت کرسکتے ہیں۔ قومی سطح پر بی جے پی اور کانگریس کے خلاف تیسرے محاذ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ تحفظات کے اختیارات ریاستوں کو سونپنے کے مطالبہ پر پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی۔ کے سی آر نے ریاست سے ناانصافی کا مرکز پر الزام عائد کیا ۔

 

حتیٰ کہ وزیر فینانس ای راجندر نے آگے بڑھ کر یہ کہہ دیا کہ نریندر مودی حکومت سے لٹیروں کو فائدہ ہورہا ہے۔ ان تمام تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے کے سی آر مخالف بی جے پی موقف اختیار کریں گے لیکن گزشتہ ہفتہ اچانک ان کے موقف میں نرمی آگئی ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بی جے پی کی قومی قیادت نے تلنگانہ بی جے پی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ ٹی آر ایس حکومت کے خلاف الزام تراشی اور مہم سے گریز کریں۔ کے سی آر نے اچانک اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے مرکز کے ساتھ خیر سگالی کا معاملہ کیا ہے ۔ انہوں نے تیسرے محاذ کے قیام کی کوششوں کو ترک کردیا اور ریاستوں سے انصاف کے مسئلہ پر چیف منسٹر کیرالا کی جانب سے طلب کردہ جنوبی ریاستوں کے فینانس منسٹرس کی کانفرنس سے دور رہنے کا لمحہ آخر میں فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ پارٹی قائدین کے لئے بھی چونکانے والا تھا کیونکہ پارٹی مرکز پر تلنگانہ سے فنڈس کے معاملہ میں ناانصافی کا الزام عائد کر رہی تھی۔ ٹیکسوں میں ریاست کی حصہ داری کے مسئلہ پر جنوبی ریاستوں کے وزرائے فینانس کے اجلاس میں تلگو دیشم نے شرکت کی لیکن تلنگانہ اور ٹاملناڈو نے خود کو اجلاس سے دور رکھا۔ یہ دونوں پارٹیاں پارلیمنٹ میں اپنے احتجاج کے ذریعہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر مباحث کو روکنے میں اہم رول ادا کرچکی ہیں۔ پارٹی قائدین نے اعتراف کیا کہ کے سی آر اہم سیاسی فیصلوں میں کسی سے مشاورت کئے بغیر اعلانات کر رہے ہیں اور اپنے قدم واپس لے رہے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال پارٹی کے وقاف کو مجروح کرسکتی ہے لیکن کوئی بھی قائد اس موقف میں نہیں کہ پارٹی صدر سے سوال کرے۔ مبصرین کے مطابق کے سی آر نے مرکز سے دوستی کیلئے تمام امکانات کھلے رکھے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات تک مرکز کے ساتھ ٹکراؤ کا رویہ اختیار کرنے سے گریز کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے 27 اپریل کو پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر ہر سال کی طرح جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ لمحہ آخر میں منسوخ کردیا جبکہ انہوں نے ہم خیال جماعتوں کے قائدین کو مدعو کرتے ہوئے تیسرے محاذ کے قیام کا اعلان کرنے کا اشارہ دیا تھا لیکن پلینری سیشن کے بعد جلسہ عام کو اکتوبر یا نومبر تک ٹال دیا گیا۔ تھرڈ فرنٹ کے قیام کی سرگرمیوں کو اچانک روک دیئے جانے سے پارٹی حلقوں میں مختلف چے میگوئیاں جاری ہیں۔ پارٹی کے قائد نے کہا کہ دراصل مرکز کے ساتھ کے سی آر کی آنکھ مچولی کا کھیل چل رہا ہے جس کا نتیجہ اکتوبر تک برآمد ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT