Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / مرکز میں بی جے پی حکومت کی تشکیل کیساتھ ہی قومی تفتیشی ایجنسی کے تیور تبدیل

مرکز میں بی جے پی حکومت کی تشکیل کیساتھ ہی قومی تفتیشی ایجنسی کے تیور تبدیل

مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں تازہ فرد جرم مسترد کردینے عدالت سے جمعیۃ العلماء کی درخواست
ممبئی 8جون(سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹر کے گنجان مسلم آبادی والے شہر میں رونما ہوئے مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملے میںآج جمعیت علمامہااشٹر (ارشد مدنی) نے ان دھماکوں کے متاثرین کی جانب سے ایک اہم عرضداشت خصوصی مکوکا عدالت میں داخل کرتے ہوئے حال ہی میں قومی تفتیشی ایجنسی NIA کی جانب سے داخل کردہ تازہ فرد جرم (چار شیٹ ) کو سرے سے خارج کئے جانے کی مانگ کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ فرد جرم کے تعلق سے مہاراشٹر اے ٹی ایس سے بھی جواب طلب کیا جائے ۔واضح رہے کہ بی جے پی قیادت والی نئی حکومت بننے کے بعد سے ہی این آئی اے کے تیور تبدیل ہوگئے ہیں اور وہ اس مقدمہ کا سامنا کررہے بھگواملزمین خصوصا سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر، شیو نارائن کالسنگرا، شیام بھاورلال، پروین ٹکلکی اور کرنل پروہیت کو کلین چٹ دیئے جانے کی حمایت کررہی ہے اور اس تعلق سے اس نے تازہ فرد جرم میں ان ملزمین کے خلاف کوئی بھی ثبوت نہیں ہونے کی بات کہی ہے ۔آج جب ممبئی کی سیشن عدالت میں قائم خصوصی مکوکا عدالت کی کارروائی کاآغاز ہوا توجمعیت علمامہاراشٹر کی جانب سے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے دیگر دفاعی وکلاء4 ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری، ایڈوکیٹ آصف نقوی و دیگر کی موجودگی میں ایک ”احتجاجی عرضداشت(پروٹیسٹ پٹیشن )داخل کی اور عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں اے ٹی ایس نے بھگواء4 جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ملزمین کے خلاف پختہ ثبوت وشواہد آنجہانی ہیمنت کرکرے کی سربراہی میں اکھٹا کیئے تھے

 

لیکن جب سے مرکز میں نئی سرکار بنی ہے قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے ATS کے تمام ثبوتوں کو مسترد کردیا اور بھگوا ملزمین کی رہائی کی راہ ہموار کردی ہے نیز اگر ملزمین رہا ہوتے ہیں تو یہ متاثرین کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی لہذا این آئی اے کی چارج شیٹ کو مسترد کیا جائے اور اے ٹی ایس کی جانب سے داخل کردہ فرد جرم کے مطابق ملزمین کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے ۔خصوصی مکوکا جج ٹیکولے نے جمعیت کی عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہو ئے قومی تفتیشی ایجنسی اور ملزمین کو اس تعلق سے اپنے موقف کا اظہار کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی سماعت جمعہ یعنی کے 10جون تک ملتوی کئے جانے کے احکامات صادر کئے ۔اسی درمیان بھگواملزمین کی جانب سے داخل کردہ ضمانت عرضداشت میں بطور مداخلت کار حصہ لینے والی جمعیت کی عرضداشت کو مزید تقویت دیتے ہوئے ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان نے عدالت میں ایک مزید عرضداشت داخل کرکے بھگواملزمین کی جانب سے داخل کردہ ضمانت عرضداشت پر اے ٹی ایس کا جواب طلب کرنے کی گذارش کی ہے جسے عدالت نے اپنے ریکارڈ پر لینے کے بعد جمعہ کو فریقین کو اپنے موقف کا اظہار کرنے کا حکم دیا۔جمعیت علماکی جانب سے یکے بعد دیگرے عرضداشتیں داخل ہوتے دیکھتے ملزم سدھاکر دھر درویدی عرف سوامی نے اس کی ضمانت عرضداشت کو واپس لے لیا اور عدالت سے گذارش کی کہ اسے ضمانت عرضداشت واپس لینے کی اجازت دی جائے جسے عدالت نے منظورکرلیا۔

TOPPOPULARRECENT