Sunday , September 23 2018
Home / سیاسیات / مرکز میں غیر کانگریسی و غیر بی جے پی حکومت یقینی

مرکز میں غیر کانگریسی و غیر بی جے پی حکومت یقینی

نئی دہلی 20 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی ایم نے آج اس یقین کا اظہار کیا کہ آئندہ انتخابات کے بعد بائیں بازو کی اور علاقائی جماعتوں کا موقف مستحکم ہوگا اور وہ غیر کانگریسی و غیر بی جے پی حکومت تشکیل دینگی ۔ سی پی ایم کے جنرل سکریٹری پرکاش کرت نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بائیں بازو کی اور علاقائی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ

نئی دہلی 20 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی ایم نے آج اس یقین کا اظہار کیا کہ آئندہ انتخابات کے بعد بائیں بازو کی اور علاقائی جماعتوں کا موقف مستحکم ہوگا اور وہ غیر کانگریسی و غیر بی جے پی حکومت تشکیل دینگی ۔ سی پی ایم کے جنرل سکریٹری پرکاش کرت نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بائیں بازو کی اور علاقائی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں سے مقابلہ کریں۔ ہم متحدہ مقابلہ کر رہے ہیں اور اپنی طاقت اور نشستوں کی تعداد میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا چاہتے ہیں ۔ انتخابات کے بعد قطعی صورتحال واضح ہوگی ۔ گیارہ علاقائی اور بائیں بازو جماعتوں کی جانب سے کسی محاذ کے قیام سے متعلق سوالات کے جواب میں مسٹرکرت نے کہا کہ ہم اپنے وسائل اور طاقت کو انتخابات کے مجتمع کرینگے ۔

ایسا ہونے والا ہے ۔ مسٹر پرکاش کرت سی پی ایم کے انتخابی منشور کی اجرائی کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے ۔ منشور میں بائیں بازؤ کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ بایاں بازو محاذ ہی ایک سکیولر اور جمہوری محاذ ہے ۔ عوام کو چاہئے کہ وہ کانگریس اور بی جے پی دونوں کو مسترد کردیں۔ اس سوال پر کہ آیا یہ تمام جماعتیں انتخابی مفاہمت کرینگی یا نشستوں پر سمجھوتہ ہوگا مسٹر کرت نے کہا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ ہم متحد ہو رہے ہیں۔ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ ہم انتخابی مفاہمت یا اتحاد کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پی ایم نے ٹاملناڈو میں برسر اقتدار آل انڈیا انا ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ کامیاب نہیں ہوسکی ۔ ترنمول کانگریس کے وفاقی محاذ کے نظریہ کے تعلق سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کی چار جماعتیں ملک بھر میں لوک سبھا کی 100 نشستوں پر مقابلہ کرینگی ۔ انہوں نے آر ایس پی کی کیرالا یونٹ کے بائیں بازو محاذ سے علیحدہ ہونے کے فیصلے کو اہمیت دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ ایسا پہلے بھی ہوا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT