Sunday , October 21 2018
Home / شہر کی خبریں / مرکز میں ٹی آر ایس کا فیصلہ کن رول رہے گا

مرکز میں ٹی آر ایس کا فیصلہ کن رول رہے گا

لوک سبھا کی 16 نشستوں پر پارٹی کا موقف مستحکم : راجیشور ریڈی کا دعوی
حیدرآباد۔ 22 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹریہ سمیتی آئندہ لوک سبھا انتخابات کیلئے حکمت عملی کی تیاریوں میں جٹ گئی ہے۔ اسے یقین ہے کہ ریاست میں لوک سبھا کی 16 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی اور مرکز میں ٹی آر ایس کا اہم رول رہے گا۔ پارٹی کے سینئر قائد اور قانون ساز کونسل میں گورنمنٹ وہپ ٹی راجیشور ریڈی نے دعوی کیا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی لہر ہے اور عوام اسمبلی اور لوک سبھا میں اسے کامیاب بنانے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کی 17 کے منجملہ 16 نشستوں پر پارٹی کا موقف مستحکم ہے اور کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ انہوںنے کہا کہ 119 اسمبلی نشستوں میں 100 نشستوں پر ٹی آر ایس کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ راجیشور ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں حلیف مقامی جماعت کو لوک سبھا کی ایک اور اسمبلی کی 7 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ ا نہوں نے واضح کیا کہ دونوں پارٹیوں میں انتخابی مفاہمت نہیں ہے لہٰذا ٹی آر ایس ان کے حلقوں میں بھی اپنے امیدوار کھڑا کریگی۔ راجیشور ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کا موقف انتہائی کمزور ہے اور وہ ایک بھی اسمبلی نشست حاصل کرنے کے موقف میں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 107 نشستوں پر ٹی آر ایس اور حلیف مقامی جماعت کا قبضہ رہے گا جبکہ باقی 12 نشستیں اپوزیشن کے حصے میں آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ریاست میں اپوزیشن کا موقف حاصل نہیں کر پائے گی اور موجودہ نشستوں پر دوبارہ کامیابی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس لاکھ کوششیں کرلے لیکن وہ عوامی تائید حاصل نہیں کر پائیگی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت نے انتخابی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ لوک سبھا کے عام انتخابات کے بعد مرکز میں ٹی آر ایس کا اہم رول رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو مرکز میں تشکیل حکومت کے لیے درکار نشستیں حاصل نہیں ہونگی اور کانگریس بھی حکومت کے قیام کے موقف میں نہیں ہوگی۔ ایسے میں ٹی آر ایس اور دیگر علاقائی جماعتیں فیصلہ کن رول ادا کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس مرکز میں اہم رول ادا کرکے ریاست کیلئے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرے گی۔ مرکز میں چاہے کوئی حکومت قائم ہو اسے ٹی آر ایس کی تائید کی ضرورت پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء میں بی جے پی کو تلنگانہ میں جو 5 نشستیں حاصل ہوئیں وہ دوست جماعتوں کی تائید کا نتیجہ ہے۔ 2019ء میں بی جے پی کو ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو نلگنڈہ، ناگرکرنول لوک سبھا حلقوں سے کامیابی حاصل ہوئی تھی اور نلگنڈہ کے رکن پارلیمنٹ سکھیندر ریڈی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ اسی طرح کھمم سے وائی ایس آر کانگریس کے سرینواس ریڈی کامیاب ہوئے اور ملکاجگری سے تلگودیشم کے ملاریڈی کو کامیابی ملی اور ان دونوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔

TOPPOPULARRECENT