Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / مرکز نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا فیصلہ کرلیا

مرکز نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا فیصلہ کرلیا

نئی دہلی ۔ 27 جنوری ۔ (سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر آندھراپردیش این کرن کمارریڈی کی تلنگانہ تقسیم سے متعلق بل واپس بھیج دینے کیلئے ریاستی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کی کوشش کا ایسا لگتا ہے کہ مرکز پر کوئی اثر نہیں ہوا ہے ۔ ایک سینئر وزیر نے جو تلنگانہ مسودہ بل کو قطعیت دینے والے وزارتی گروپ کے رکن ہیں کہا کہ یو پی اے حکومت نے تلنگانہ کی

نئی دہلی ۔ 27 جنوری ۔ (سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر آندھراپردیش این کرن کمارریڈی کی تلنگانہ تقسیم سے متعلق بل واپس بھیج دینے کیلئے ریاستی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کی کوشش کا ایسا لگتا ہے کہ مرکز پر کوئی اثر نہیں ہوا ہے ۔ ایک سینئر وزیر نے جو تلنگانہ مسودہ بل کو قطعیت دینے والے وزارتی گروپ کے رکن ہیں کہا کہ یو پی اے حکومت نے تلنگانہ کی تشکیل کا فیصلہ کرلیا ہے اور مکمل بل پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں پیش کیا جائے گا ۔ انھوں نے کہا کہ اس بل میں تمام مسائل اور تشویش کا احاطہ کیا جائے گا ۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ کرن کمار ریڈی دستور کے بارے میں خاطر خواہ واقفیت نہیں رکھتے ۔ انھوں نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی خواہش پر کہا کہ مرکز نے تلنگانہ بل کو آندھراپردیش اسمبلی سے رائے حاصل کرنے کیلئے رجوع کیا ہے ۔ اسمبلی میں اس بل کی منظوری ضروری نہیں ہے کیوں کہ دستور میں یہ واضح طورپر درج ہے کہ نئی ریاست کی تشکیل کا انحصار بالکلیہ مرکز پر ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ریاستیں اس معاملے میں مداخلت نہیں کرسکتیں۔ اس ضمن میں انھوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ موقف کا بھی حوالہ دیا جس میں عدالت نے کہاتھا کہ یہ معاملہ مرکزی حکومت کے زیرغور ہے ۔

اس دوران ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ کے قیام کیلئے تشکیل دیا گیا وزارتی گروپ کا ایک اور اجلاس 30 جنوری کے بعد دوبارہ منعقد ہوگا جس میں اس معاملے کو قطعیت دی جائے گی ۔ اس دوران علحدہ تلنگانہ کے قیام کے مسودہ بل کو واپس کرنے کیلئے آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی میں ایک تحریک کی پیشکشی کیلئے نوٹس متعارف کرنے کے باوجود ریاستی چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کے خلاف تادیبی کارروائی کئے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ جنرل سکریٹری مکل واسنک نے بحیثیت کانگریس ترجمان اے آئی سی سی کی طرف سے آج پہلی مرتبہ میڈیا کا سامنا کیا ۔ اس موقع پر ان سے کئی سوالات کئے گئے تھے ۔ یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ آیا آندھراپردیش کے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کے خلاف کانگریس کوئی تادیبی کارروائی کرسکتی ہے ؟ مسٹر واسنک سے یہ سوال بھی کیا گیا

کہ علحدہ تلنگانہ کے قیام سے متعلق کانگریس ورکنگ کمیٹی ( سی ڈبلیو سی ) کی قرارداد کی مخالفت میں کام کرنے والے آندھراپردیش کے چیف منسٹر کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ ان سوالات پر مکل واسنک نے جواب دیا کہ ’’یہ مسئلہ اب اسمبلی میں زیربحث ہے اور سمجھتا ہوں کہ تقریباً 85 ارکان اس پر اپنی رائے ظاہر کرچکے ہیں۔ پارٹی نے کوئی وہپ جاری نہیں کی ہے ۔ صدرجمہوریہ نے اسمبلی سے مسودہ بل کی واپسی کے لئے مقررہ مہلت میں 30 جنوری تک توسیع کی ہے ۔ 8000 ترمیمات پیش کی گئی ہیں‘‘۔ واضح رہے کہ مسٹر کرن کمار ریڈی کا تعلق حلقہ رائلسیما سے ہے اور وہ متعدد مرتبہ متحدہ آندھراپردیش کے کاز کی پرزور وکالت کرچکے ہیں۔ مسئلہ تلنگانہ پر ریاست آندھراپردیش علاقائی خطوط پر منقسم ہوگئی ہے ۔ جہاں ایک طویل عرصہ سے عجیب و غریب صورتحال دیکھی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT