Friday , September 21 2018
Home / اضلاع کی خبریں / مرکز و ریاست میں قبل از وقت انتخابی بگل کی پیش قیاسیاں

مرکز و ریاست میں قبل از وقت انتخابی بگل کی پیش قیاسیاں

ضلع نرمل میں سیاسی سرگرمیاں تیز، سبھی قائدین کا خیرمقدم، رائے دہندوںکا مزاج پرکھنا مشکل

نرمل۔/7نومبر، ( سید جلیل ازہر کی رپورٹ ) عام انتخابات کے لئے ابھی کافی وقت ہے تاہم ریاست ہو کہ مرکز قبل از وقت انتخابات کی بھی امید سیاسی حلقوں میں کی جارہی ہے ۔ تاہم ہر علاقہ میں تمام سیاسی جماعتیں انتخابی تیاریوں میں مصروف ہوگئی ہیں ، ہر دیہی ، بلدی، شہری حدود کے تمام سیاسی جماعتیں انتخابی لائحہ عمل کی تیاری شروع کرچکی ہیں۔ دیہی علاقوں کے عوام سے رجوع ہونے والی کسی بھی جماعت کے قائد کو رائے دہندے مایوسی کا شکار ہونے نہیں دے رہے ہیں، آج کے رائے دہندوں کے مزاج کو پرکھنا اب سیاسی جماعتوں کے بس میں نہیں رہا۔ پہلے یہ اندازہ با آسانی اس طرح سے قائم کیا جاسکتا تھا کہ فلاں دیہات میں فلاں پارٹی کی لہر ہے اب تو دیہات میں کوئی بھی جماعت کا قائد عوام سے رجوع ہوتا ہے تو رائے دہندے ان کا ایسا خیرمقدم کرتے ہیں کہ قائد کچھ دیر کیلئے اس علاقہ سے اکثریت حاصل ہوجانے کی پوری پوری امید رکھتا ہے۔نومولود ضلع نرمل جو اب تین اسمبلی نشستوں پر محدود ہوگیا ہے ضلع مستقر نرمل جہاں گزشتہ انتخابات میں ٹی آر ایس کی طوفانی لہر کے باوجود اے اندرا کرن ریڈی نے بہوجن سماج وادی پارٹی سے شاندار کامیابی کے ذریعہ سیاسی حلقوں میں طوفان برپا کردیا تھا۔ ہر عام و خاص کو اس بات کا اندازہ تھا کہ اے اندرا کرن ریڈی کی یہ شخصی کامیابی ہے تاہم بعد ازاں انہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی اور وزیر اعلیٰ نے انہیں کابینہ میں شامل کرتے ہوئے ریاستی وزیرامکنہ، قانون اور انڈومنٹ کا قلمدان حوالہ کیا۔ جبکہ حلقہ اسمبلی مدھول سے بھی ٹی آر ایس کو شکست کا سامنا کرنا پڑ ا اور وہاں سے آنجہانی جی گڈنڈ کے فرزند مسٹر وٹھل ریڈی نے کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی اور ٹی آر ایس کو قدم جمانے کا موقع نہیں دیا۔ اس نومولود ضلع کے ایک اور اسمبلی حلقہ خانہ پور سے خاتون رکن اسمبلی ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئیں جبکہ حلقہ مدہول سے منتخب وٹھل ریڈی نے بھی ٹی آر ایس میں شمولیت اختیارکرلی۔ اس طرح دیکھا جائے تو اس ضلع میں تین اسمبلی حلقوں میں تین علحدہ علحدہ جماعتوں کے نمائندے منتخب ہوئے اب جبکہ 2019 کے انتخابات کو قبل از وقت منعقد کئے جانے کی اطلاعات کے تناظر میںحلقہ اسمبلی مدہول سے نیا چہرہ راما راؤ پٹیل جن کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں فلاحی کاموں کے ذریعہ تمام طبقات میں ایک منفرد چھاپ چھوڑی ہے اور آثار و قرائین کے ساتھ ساتھ عوامی تبصروں سے یہ بات واضح دکھائی دے رہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں راما راؤ پٹیل کانگریس کے امیدوار ہوں گے اس لئے کہ ان کی شخصیت عوام پر کافی اثر انداز ہے۔ اس طرح حلقہ اسمبلی نرمل میں ان دنوں ایک خاتون معروف ڈاکٹر اے سورنا ریڈی جو آنجہانی اے بھیم ریڈی کی دختر ہیں ۔ انہوں نے دو برسوں سے اپنی سیاسی سرگرمیاں کافی تیز کردی ہیںبلکہ آج انہوں نے اپنے اپنے آنجہانی والد اے بھیم ریڈی کے حامیوں اور ان کے حامیوں کے ہمراہ ایک سو سالہ قدیم مندر جو نرمل سے 23 کلو میٹر دور دلاور پور منڈل میں واقع ہے نرمل سے بدھوار پیٹھ کی ایک مندر سے پدیاترا نکال کر عوام کی خوشحالی اور تمام طبقات کی صحت کیلئے پرارتھنا کرتے ہوئے کدری کی قدیم مندر پہنچ کر خصوصی پوجا کی ۔ ان کی پدیاترا کے دوران راستہ میں خواتین نے جگہ جگہ ان کا خیرمقدم کیا اور ان کی گلپوشی کی ۔ واضح رہے کہ اے سورنا ریڈی نے اپنا ذہن بنالیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں حلقہ اسمبلی نرمل سے انتخابی میدان میں آرہی ہیں پارٹی کونسی ہوگی اس کا ابھی کوئی خلاصہ نہیں ہوا ۔ اس ضلع کے ایک اور اسمبلی حلقہ خانہ پور جہاں ٹی آر ایس کی خاتون امیدوار ہیں اس علاقہ سے سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر رمیش راتھوڑ جو حال ہی میں تلگودیشم سے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں اس حلقہ میں اپنا شخصی اثر رکھتے ہیںایک طاقتور سیاسی قائد کی حیثیت سے انہیں مقام حاصل ہے ۔ اس بار اسمبلی کیلئے ان پر داؤ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں سیاسی جماعتیں رائے دہندوں پر اثر انداز ہوں گی یا سیاسی شخصیتیںرائے دہندوں پر غالب آئیں گی۔

TOPPOPULARRECENT