Tuesday , November 13 2018
Home / شہر کی خبریں / مرکز پر تلنگانہ کے ساتھ سوتیلا سلوک کرنے کا الزام

مرکز پر تلنگانہ کے ساتھ سوتیلا سلوک کرنے کا الزام

اندرون تین یوم وزیر تعلیم و ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ کڈیم سری ہری کی دوسری مرتبہ تنقید
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے پھر ایک مرتبہ مرکز پر تلنگانہ کے ساتھ سوتیلا سلوک کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ بی جے پی کے قائدین اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں ۔ انہیں مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کی تعلیمی فلاحی و تعمیری اسکیمات کی ستائش دیکھائی و سنائی نہیں دے رہی ہے ۔ تین دن قبل دہلی میں مرکزی حکومت پر اپنی برہمی کا اظہار کرنے والے ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے آج سکریٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ اور چیف منسٹر کے سی آر وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور کئی نمائندگیاں کرنے کے باوجود ریاست تلنگانہ کو ایک بھی تعلیمی ادارہ منظور نہیں کیا گیا جب کہ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کو 17 تعلیمی ادارے دئیے گئے ہیں ۔ تلنگانہ سے مرکز کا جانبدارانہ رویہ تشویش کا باعث بنا ہوا ہے کڈیم سری ہری نے کہا کہ مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر نے تلنگانہ کے تعلیمی اسکیمات کی ستائش کی ہے ۔ اس کے علاوہ خود وزیراعظم مودی کے ساتھ دوسرے مرکزی وزراء نے تلنگانہ میں متعارف کردہ فلاحی تعمیری اور ترقیاتی اسکیمات کی ستائش کی ۔ ملک کی مختلف ریاستوں بشمول بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں کے وزراء اور عہدیداروں نے تلنگانہ کی اسکیمات کی ستائش کرتے ہوئے اپنے اپنے ریاستوں میں اس کو روبہ عمل لانے میں تلنگانہ حکومت سے تعاون طلب کیا ۔ نیتی آیوگ نے بھی ریاست کے کئی اسکیمات کی تعریف کرتے ہوئے اس کی تقلید کرنے کا ملک کی دوسری ریاستوں کو مشورہ دیا ہے ۔ تلنگانہ کے بی جے پی کے قائدین آنکھ رکھ کر بھی اندھے ہیں اور کان رکھ کر بھی بہرے ہیں ۔ تلنگانہ کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف وہ دہلی میں منعقدہ اجلاس میں ہی آواز اٹھا چکے ہیں ۔ تلنگانہ کے بی جے پی قائدین کو دیکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ مرکز آندھرا پردیش سے ہمدردی کا اظہار کررہی ہے اور تلنگانہ کے ساتھ سوتیلا سلوک کررہی ہے ۔ اس مسئلہ پر تلنگانہ کے بی جے پی کے قائدین نے کبھی مرکز سے کوئی نمائندگی کی ہے ۔ این ڈی اے کی حکومت تشکیل پانے کے بعد ہر سال تلنگانہ کا تعلیمی بجٹ بتدریج گھٹ رہا ہے ۔ محکمہ تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کرنے کا تمام ریاستوں کے وزرائے تعلیم نے مطالبہ کیا ہے ۔ اس کی وضاحت کیے بغیر تلنگانہ بی جے پی کے صدر ڈاکٹر لکشمن کی برہمی جائز نہیں ہے ۔ اگر مرکز پر ناراضگی کا اظہار کرنے سے تلنگانہ بی جے پی قائدین کو تکلیف ہورہی ہے تو وہ نئے تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے مرکز سے نمائندگی کریں ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ترک تعلیم کا رجحان گھٹا ہے ۔ ریاست میں کہیں بھی اسکولس کو بند یا ایک دوسرے میں ضم نہیں کیا گیا ۔ 5 ہزار اسکولس کہاں ضم ہوئے بی جے پی کو ثبوت پیش کرنے کا چیلنج کیا ۔ انہوں نے 40 ہزار ٹیچرس کے جائیدادیں مخلوعہ ہونے کی تردید کی اور کہا کہ ماضی میں تلنگانہ عوام کی عزت نفس کے لیے تلگو دیشم میں شامل ہوئے تھے اور تحریک کے دوران تلنگانہ کی عزت نفس کے لیے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے کڈیم سری ہری نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کی خدمات اور جذبہ سے متاثر ہو کر دوسری جماعتوں کے قائدین ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT