Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مرکز کا تلنگانہ ریاست سے جانبدارانہ رویہ ‘ خصوصی پیاکیج کے اعلان کا مطالبہ

مرکز کا تلنگانہ ریاست سے جانبدارانہ رویہ ‘ خصوصی پیاکیج کے اعلان کا مطالبہ

تقسیم سے متعلق قانون میں کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل کا مودی حکومت پر الزام : ارکان قانون ساز کونسل کا بیان
حیدرآباد۔/25اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے مرکزی حکومت پر تلنگانہ ریاست کے ساتھ جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ پارٹی کے ارکان قانون ساز کونسل کے پربھاکر اور وینکٹیشورلو نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مانگ کی کہ وہ نوقائم شدہ ریاست تلنگانہ کی ترقی کیلئے خصوصی پیاکیج کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح بہار کیلئے ایک لاکھ 25ہزار کروڑ روپئے کے پیاکیج کا اعلان کیا ہے اسی طرح تلنگانہ کیلئے بھی پیاکیج کا اعلان کیا جانا چاہیئے۔ اس طرح مرکزی حکومت پسماندہ ریاستوں کی ترقی میں یکساں تعاون کے دعوے کو ثابت کرسکتی ہے۔ کے پربھاکر نے الزام عائد کیاکہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے مرکزی حکومت فنڈز کی اجرائی اور پراجکٹس کی منظوری کے سلسلہ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے دیہی علاقوں کی ترقی اور دیگر فلاحی اسکیمات کے سلسلہ میں مرکز سے تعاون کی اپیل کی لیکن مرکز نے کوئی امداد تاحال جاری نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم سے متعلق قانون میں تلنگانہ سے کئی وعدے کئے گئے لیکن نریندر مودی حکومت تلنگانہ ریاست کے ساتھ سوتیلا سلوک اختیار کئے ہوئے ہے۔ پربھاکر نے کہا کہ شاہراہوں کی ترقی، تعلیم اور زراعت جیسے اہم شعبہ جات کے علاوہ دیگر شعبوں میں مرکز کو فوری خصوصی فنڈز جاری کرنے چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرائی حکمرانوں نے تلنگانہ کو ہمیشہ پسماندہ رکھا ہے اور ٹی آر ایس حکومت سنہرے تلنگانہ کے قیام کے مقصد کی تکمیل کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی تقسیم کے معاملہ میں بھی تلنگانہ کو ناانصافی کا سامنا ہے۔ تلنگانہ کو 1200ٹی ایم سی پانی کے حصول کا اختیار ہے لیکن 58ٹی ایم سی پانی کے حق سے محروم کردیا گیا۔ مرکزی حکومت کو چاہیئے کہ وہ تلنگانہ میں آبپاشی ضرورتوں اور پینے کے پانی کی ضرورت کی تکمیل کیلئے پالمور لفٹ اریگیشن پراجکٹ کو 25 ہزار کروڑ روپئے منظور کرے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے گوداوری اور کرشنا کے تحت کئی چھوٹے پراجکٹس کی تعمیر کا منصوبہ ہے جس کے ذریعہ تلنگانہ کو خشک سالی سے نجات دی جاسکتی ہے۔انہوںنے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ فلاحی، ترقیاتی اور غریبوں کی بھلائی کے منصوبہ کے ساتھ دن رات محنت کررہے ہیں۔ پربھاکر نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی قائدین سے مطالبہ کیا کہ وہ فنڈز کی اجرائی کیلئے مرکز پر دباؤ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ وہ متحدہ طور پر خصوصی پیاکیج کیلئے کوشش کریں۔ رکن قانون ساز کونسل وینکٹیشورلو نے تلگودیشم قائدین پر الزام عائد کیا کہ وہ سستی شراب کے مسئلہ پر غیر ضروری الزامات عائد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت ملاوٹ  شدہ شراب سے ہونے والی اموات اور نقصانات کو روکنے سستی شراب کی فراہمی کا منصوبہ رکھتی ہے اس کا مقصد شراب کو عام کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم قائدین کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ این ٹی راما راؤ نے جب نشہ بندی نافذ کی تھی اسوقت چندرا بابو نائیڈو نے نشہ بندی کو ختم کرتے ہوئے شراب کو عام کردیا تھا۔ آج چندرا بابو نائیڈو کے ایجنٹس ٹی آر ایس حکومت کو غیرضروری تنقیدوں کا نشانہ بنارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT