مرکز کو جلد فیصلوں کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا : سپریم کورٹ

نئی دہلی ۔ 17 نومبر ۔( سیاست ڈاٹ کام )سپریم کورٹ نے آج جموںو کشمیر حکومت کو واضح کیا کہ وہ سیلاب کے متاثرین کو راحت اور بازآبادکاری کیلئے 44ہزار کروڑ روپئے کے مطالبہ پر مرکز کو فوری فیصلے کیلئے مجبور نہیں کرسکتی ۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو اور جسٹس اے کے سکری پر مشتمل بنچ نے کہاکہ ہم مرکز کو مجبور نہیں کرسکتے کہ کل ہی فیصلہ کرے۔ وزارت فینانس

نئی دہلی ۔ 17 نومبر ۔( سیاست ڈاٹ کام )سپریم کورٹ نے آج جموںو کشمیر حکومت کو واضح کیا کہ وہ سیلاب کے متاثرین کو راحت اور بازآبادکاری کیلئے 44ہزار کروڑ روپئے کے مطالبہ پر مرکز کو فوری فیصلے کیلئے مجبور نہیں کرسکتی ۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو اور جسٹس اے کے سکری پر مشتمل بنچ نے کہاکہ ہم مرکز کو مجبور نہیں کرسکتے کہ کل ہی فیصلہ کرے۔ وزارت فینانس اور منصوبہ بندی کمیشن اس بارے میں مناسب فیصلہ کرے گا ۔ ریاستی حکومت نے سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کیلئے مرکز سے 44 ہزار کروڑ روپئے گرانٹ کا مطالبہ کیا ہے ۔ مرکز نے ریاست کو متاثرین کی مدد کیلئے 1700 کرورڑ وپئے کا اعلان کیا ہے۔سپریم کورٹ نے آج ریاستی حکومت کو بازآبادکاری اقدامات کے بارے میں واقف کروانے کی ہدایت دی ۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اس موقف میں ہونا چاہئے کہ وہ ہمیں بتا سکے کہ اب تک کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے کہاکہ ایک اتھاریٹی قائم کی گئی ہے اور وہ کارکرد ہے ۔ تاہم ایڈوکیٹ جنرل اس کے فیصلوں کے بارے میں کچھ نہیں بتاسکے ۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو آئندہ سماعت کی تاریخ 24 نومبر کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ۔ اس دوران عدالت نے ریاستی حکومت سے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرین کو گرم ملبوسات اور غذائی اشیاء کی قلت درپیش نہ ہوں۔ بنچ بھیم سنگھ کی دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کررہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT