Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / مرکز کو جواب دینے کے بجائے پارلیمنٹ میں دھرنا دینا مسلمانوں سے دھوکہ

مرکز کو جواب دینے کے بجائے پارلیمنٹ میں دھرنا دینا مسلمانوں سے دھوکہ

…… : تحفظات کا مسئلہ :……
ٹی آر ایس پرمودی اور شاہ کی بانسری پر رقص کرنے کا الزام، چیف منسٹر کی نیت صاف نہیں، محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/21مارچ، ( سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے تحفظات کے مسئلہ پر مرکز کے تین مکتوبات کا جواب نہ دیتے ہوئے تلنگانہ کے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا اور مودی۔ شاہ کی بانسری پر رقص کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو موضوع بحث بننے سے روکنے پارلیمنٹ میں ڈرامہ بازی کرنے کا دعویٰ کیا ۔ انہوں نے آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر سابق مرکزی وزیر بلرام نائیک اور ترجمان اعلیٰ پردیش کانگریس کمیٹی ڈی شراون بھی موجود تھے۔ محمد علی شبیر نے مسلم و قبائیلی تحفظات کے معاملہ میں چیف منسٹر کی نیت صاف نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر 16 اپریل 2017 کو اسمبلی اور کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے مسلمانوں کے 4 فیصد تحفظات میں توسیع کرتے ہوئے 12 فیصد کرنے اور ایس ٹی طبقہ کے 6 فیصد تحفظات میں توسیع کرتے ہوئے 10فیصد کرنے کا دونوں ایوانوں میں بل منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کیا جس پر مرکزی حکومت نے 11 ڈسمبر 2017 کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے اندرا ساہنی احکامات کا حوالہ دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ تحفظات 50 فیصد سے تجاوز کررہے ہیں۔ پھر بھی مرکزی حکومت نے اس کا جائزہ لینے کیلئے دہلی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس کو نامزد کیا ہے۔

تلنگانہ حکومت تحفظات میں کیوں توسیع چاہتی ہے تمام تفصیلات ریٹائرڈ چیف جسٹس کو پیش کریں۔ جس پر ریاستی حکومت نے مرکز کو کوئی وضاحت نہیں کی۔ اس کے بعد مرکزی حکومت دوبارہ 18 ڈسمبر 2017 اور پھر 2 جنوری 2018 اور یکم مارچ 2018 یعنی چار ماہ کے دوران تین مکتوبات تلنگانہ حکومت کو روانہ کرتے ہوئے تحفظات کی توسیع کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے ۔ ایس ٹی طبقہ کی آبادی 9.08 فیصد ہے تو انہیں 10فیصد تحفظات کیسے فراہم کئے جاسکتے ہیں اس کی تفصیلات طلب کی اور بی سی کمیشن کی جانب سے بی سی ۔ ای زمرہ کیلئے 10فیصد تحفظات کی سفارشات کی تو 12 فیصد تحفظات کا بل منظور کرنے کی بھی تفصیلات طلب کی مگر تلنگانہ حکومت نے مرکز کو کوئی جواب نہیں دیا۔ محمد علی شبیر نے آج مرکز سے وصول ہونے والے تین مکتوبات کو منظر عام پر لاتے ہوئے حکومت تلنگانہ سے استفسار کیا کہ اس کو چھپاکر رکھنے کی وجہ کیا ہے؟۔

مرکز سے مکتوبات وصول ہوئے ہیں یا نہیں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ کے عوام سے اس کی وضاحت کریں یا جو مکتوبات وہ آج میڈیا کے ذریعہ منظر عام پر لارہے ہیں ان کو جھوٹا ثابت کریں۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے کہا کہ بل کی منظوری کے موقع پر ایوانوں میں کانگریس نے جن شکوک کا اظہار کیا تھا وہ آج درست ثابت ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات میں توسیع کیلئے ابتداء سے کے سی آر سنجیدہ نہیں ہیں صرف اس کو انتخابات میں سیاسی مسئلہ بناکر فائدہ اٹھانے کیلئے پیش کیا اور کامیابی حاصل کرتے ہی اسے فراموش کردیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے جان بوجھ کر یہ غلطی کی ہے۔ بی سی کمیشن نے بی سی ۔ ای مسلم کوٹہ کیلئے 10فیصد تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کی تھی لیکن کے سی آر نے اس کو فراموش کرتے ہوئے 12فیصد کردیا۔ ایس ٹی طبقہ کی آبادی 9فیصد ہے تو انہیں ایک فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے 10فیصد کردیا۔

جب انہوں نے ان تکنیکی غلطیوں کی کونسل میں نشاندہی کی تب چیف منسٹر نے کہا :’’ شبیر صاحب آپ ہوشیار ہیں تو میں آپ سے زیادہ ہوشیار ہوں۔‘‘ انہوںنے تحفظات میں اضافہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مرکزی حکومت کے مکتوبات کا جواب دینے کے بجائے ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ ون نیشن، ون ریزرویشن کا نعرہ لگاتے ہوئے پارلیمنٹ میں احتجاج کررہے ہیں۔ جبکہ ون نیشن ۔ ون ٹیکس کے معاملے میں اور پٹرول و ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرہ میں شامل کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس پارلیمنٹ میں بی جے پی کی بی ٹیم بن کر کام کررہی ہے۔ اصل میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوگیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کو پارلیمنٹ میں موضوع بحث بننے سے روکنے کیلئے ٹی آر ایس لوک سبھا میں احتجاج کررہی ہے۔ ٹی آر ایس ایک طرف مسلمانوں اور قبائیلی طبقات کو دھوکہ دے رہی ہے دوسری طرف بی جے پی کو بچارہی ہے۔ کانگریس پارٹی نے مسلمانوں سے 5 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا مگر 4فیصد فراہم کیا۔ اگر ٹی آر ایس اپنے وعدے کی پابند ہے تو کچھ تناسب کم کرکے ہی سہی مسلمانوں اور ایس ٹی کو نئے تعلیمی سال سے تحفظات فراہم کرنے کیلئے جی او کی اجرائی عمل میں لائے۔ ریاستی وزیر کے ٹی آر کی جانب سے پرانے شہر میں میٹرو ریل چلانے کے فیصلہ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ پراجکٹ کے 90 فیصد کی شیئر ہولڈر ایل اینڈ ٹی کمپنی ہے اس نے صاف انکار کردیا ہے، اگر حکومت سارے مصارف برداشت کرنے تیار بھی ہوتی ہے تو 3500 کروڑ روپئے کے مصارف ہوں گے۔ پرانے شہر پر 300 کروڑ روپئے خرچ نہ کرنے والی حکومت 3500 کروڑ روپئے کیسے خرچ کرے گی۔؟ ٹی آر ایس اور مجلس ایک دوسرے سے میچ فکسنگ کرتے ہوئے پرانے شہر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT