Friday , April 27 2018
Home / Top Stories / مرکز کیخلاف نتیش اور پاسوان کا بیان ، نئی سیاسی بساط کا اشارہ ؟

مرکز کیخلاف نتیش اور پاسوان کا بیان ، نئی سیاسی بساط کا اشارہ ؟

مودی حکومت میں حلیف ہونے کے باوجود مستحقہ مقام سے محرومی کا احساس

نئی دہلی۔ 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) این ڈی اے زیراقتدار مرکزی حکومت میں سینئر وزیر رام ولاس پاسوان پچھلے چار سال میں پہلی مرتبہ مودی حکومت میں رہتے ہوئے بی جے پی پر بالواسطہ تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں اور اقلیتوں کے مفادات کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر دوسرے ہی دن چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے بھی رام ولاس پاسوان کی حمایت میں بیان جاری کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔ رام ولاس پاسوان اور نتیش کمار کی ایک سُر میں بیان دینا نئے سیاسی بساط کا اشارہ دے رہا ہے جو اپنے بیانات کے ذریعہ بی جے پی کو سخت پیغام دینا چاہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں کی تشویش بہار سے لے کر دہلی تک نہ صرف ان کو نظرانداز کرنے کے حوالے سے ہے بلکہ حلیف جماعت کے قائد ہونے کے باوجود ان کی سیاسی مقام میں مداخلت کرنے کی وجہ سے بھی ہے۔ واضح رہے کہ نتیش کمار نے گزشتہ روز پٹنہ میں کہا تھا کہ وہ کسی بھی اتحاد کے ساتھ رہے لیکن ان کے بنیادی اصولوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن اور سماج کو توڑنے والی پالیسی سے وہ سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ دراصل وہ اشاروں اشاروں میں بہار سے مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے اشتعال انگیز بیانات پر اعتراض کررہے تھے۔ نتیش کمار نے اس موقع پر رام ولاس پاسوان کے اس بیان کی بھی حمایت کی جس میں انہوں نے بی جے پی سے دلت اور اقلیت کے مفاد کیلئے سنجیدگی سے غور کرنے کیلئے کہا تھا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ دونوں حلیف جماعتوں کا فی الحال این ڈی اے سے علیحدہ ہونے کا کوئی ارادہ بظاہر نظر نہیں آتا ہے لیکن دونوں جماعتوں نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ بی جے پی نے انہیں حلیف ہونے کے باوجود مناسب مقام سے محروم رکھا ہے۔ دونوں قائدین 2019ء کے انتخابات میں نشستوں کی تقسیم کے حوالے سے بھی فکرمند ہیں۔ ذرائع کے مطابق نتیش کمار نے بی جے پی قیادت سے جتنی جلد ہوسکے ، اس بارے میں تصویر واضح کرنے کیلئے کہا ہے تاکہ کارکنوں کو الجھنوں کا سامنا نہ کرنے پڑے تاہم ان کا یہ مطالبہ بھی نظرانداز کردیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT