Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مرکز کی بی جے پی حکومت ملک کی ایک اور تقسیم کے نظریہ پر گامزن

مرکز کی بی جے پی حکومت ملک کی ایک اور تقسیم کے نظریہ پر گامزن

ترقی کے تمام دعوے جھوٹ کا پلندہ ، کل جماعتی گول میز کانفرنس سے سرکردہ شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد ۔29اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں بڑھتی عدم روادری اور فرقہ پرستی کے خلاف ایس سی ‘ ایس ٹی‘ بی سی ‘ مسلم فرنٹ کی جانب سے کل جماعتی گول میز کانفرنس کا گولڈن جوبلی ہال‘ احاطہ سیاست میں انعقاد عمل میںآیا۔ کنونیر فرنٹ حیات حسین حبیب کی نگرانی میںمنعقدہ گول میز کانفرنس میں جناب ظہیر الدین علی خان کے علاوہ ممتاز مورخ و سماجی جہدکار کیپٹن لنگالہ پانڈو رنگاریڈی‘ شریمتی شاردہ گوڑ ایڈوکیٹ‘ تلنگانہ 1969جہدکار رام داس ‘ صدرنشین ایچ اے ایس انڈیا مولانا سید طارق قادری‘مولانا نصیر الدین ‘پروفیسر پی ایل ویشوویشو ار رائو‘ سی ایل یادگیری’ ساجد خان ‘ جہانگیر گوڑ ‘ بی شنکر‘ پریم کمار شیخ فھیم‘ حافظ متین‘محمد شاہد‘ عبدالقدوس غوری‘ ایم ایم شریف ‘ راشد خان آزاد کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں سے وابستہ دلت اور مسلم قائدین نے شرکت کی ۔ صدر مسلم تھینک ٹینک جناب شمشا د قادری نے نظامت کے فرائض انجام دئے جبکہ اسلم عبدالرحمن نے شکریہ ادا کیا۔ کیپٹن لنگالہ پانڈو رنگاریڈی نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر ملک کی ایک اور تقسیم کے نظریہ پر گامز ن ہونے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے بابری مسجد سے لیکر دادری سانحہ تک فرقہ پرستوں کی جانب سے مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم کی منظر کشی کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی حکومت کی نگرانی میںجس طرح سے غیرجمہوری واقعات پیش آرہے ہیں اس سے صاف ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں ہندوستان کی ایک اورتقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مرکزمیں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلمانوں پر بڑھتے مظالم کو فرقہ پرستوں کی سونچی سمجھی سازش کا حصہ قراردیا او رکہاکہ اس ملک میں جمہوریت کی برقراری اور ہندوستان کو ایک او رتقسیم سے بچانے کے لئے اس قسم کے واقعات کا سدباب ضروری ہے۔کیپٹن لنگالہ پانڈورنگار ریڈی نے کہاکہ مرکز کی بی جے پی حکومت ترقی کے تمام دعوئوں کے وعدوں کو چھوڑ کر اس ملک میں فرقہ پرستی کو فروغ دے رہی ہے جس کی ہر گوشہ سے مذمت ضروری ہے۔ انہوں نے سکیولر ذہن کے حامل افراد سے فرقہ پرستی کے خلاف چلائی جانے والی تحریکات کا حصہ بننے اور ایک بڑا سیکو لر محاذ تیار کرنے کی اپیل کی ۔ انہو ںنے دہلی کے جنتر منتر سے ایک ایسی تحریک شروع کرنے کا بھی مشورہ دیا جس کی گونج ساری ملک میںسنائی دے۔شریمتی شاردھا گوڑ نے عوامی نمائندوں کو دستور ہند سے ناواقف قراردیا ۔ انہو ںنے کہاکہ عوامی نمائندوں کی پشت پر فرقہ پرست طاقتیں گاندھیائی نظریات کے عین خلاف کام کررہی ہیں۔ کسی جانور یا پرندے کو مارنے سے انسانیت کو اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا کہ ایک انسان کے بیجا قتل سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی ایک انسان کے بیجا قتل سے اس کے لواحقین اور اس گھر کی معیشت پر کیا اثر پڑتا ہے اس کا احساس فرقہ پرست طاقتوں کو نہیں ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی بہار انتخابات کے پیش نظر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں مگر انہیں اس بات کا ذرا بھی احساس نہیںہے کہ اقتدار سے بڑھ کر انسانی جانیں قیمتی ہوتی ہیں۔مولانا سید طار ق قادری نے کہاکہ ہندوستان کی عظیم تاریخ میںامن وبھائی چارے کی سینکڑوں مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جس کو توڑنے کے لئے موقع پرست سیاسی قائدین حسب ضرورت اشتعال انگیز بیانات کاسہارا لیتے ہیں۔ انہوں نے اس قسم کی اشتعال انگیزی سے باز رہنے کا مفاد پرست سیاست دانوں کومشورہ دیا۔ انہوں نے اس موقع پر تہاڑ جیل کی ایک مثال پیش کی جہاں پر آج بھی ہندومسلم مقدس ماہ صیام میںساتھ ملکر روزہ رہتے ہیں اور حالیہ دنوں میںہونے والی نوراتری جشن کے موقع پر ممبئی کے کرلہ میںمحرم کے پیش نظر نوراتری کا جشن صبح 9بجے سے لیکر شام8بجے تک چلایا اور شام آٹھ بجے کے بعد محرم کی محفلیں منعقد کی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ فرقہ پرستوں کی ہرکوشش کو ہندوستان کے امن پسند شہری اپنے اتحاد کے ذریعہ ناکام بنارہے ہیں۔ بعدازاں گول میز کے تمام شرکاء نے مجسمے امبیڈکر کے روبرو عدم روادری کے خلاف پرامن احتجاج منظم کیا اور ہاتھوں میں موم بتیاں تھامے قومی سطح پر بڑھتی عدم رواداری پر مرکزی حکومت کی خاموشی کے خلاف نعرے لگائے ۔

TOPPOPULARRECENT