Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مرکز کی ڈیجیٹل انڈیا اور ریاست کے اسمارٹ سٹی منصوبہ سے خانگی اسکولس پر اثرات

مرکز کی ڈیجیٹل انڈیا اور ریاست کے اسمارٹ سٹی منصوبہ سے خانگی اسکولس پر اثرات

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کیلئے پابند بنانے پر غور، ضلع واری کمیٹیوں کی تشکیل، تفصیلات کا حصول
حیدرآباد 11 اکٹوبر (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے چلائے جارہے ڈیجیٹل انڈیا کے علاوہ ریاستی حکومت کے اسمارٹ سٹی کے منصوبہ کے اثرات خانگی اسکولوں پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں اِس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ تلنگانہ میں صرف 28.84 فیصد ایسے اسکولس ہیں جہاں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے۔ جبکہ زائداز ایک کروڑ طلبہ والی اِس ریاست میں تقریباً 29 فیصد طلبہ کو ہی انٹرنیٹ کے متعلق معلومات ہیں جبکہ مابقی طلبہ انٹرنیٹ کی سہولت سے بہرہ ور نہیں ہیں۔ تلنگانہ کے 30.09 فیصد سیکنڈری اسکولس میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے جبکہ 23.17 فیصد ہائیر سکینڈری اسکولس انٹرنیٹ و کمپیوٹر جیسی سہولت سے آراستہ ہیں۔ اِس رپورٹ کے بعد ریاستی سطح پر اِس بات کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے کہ نہ صرف سرکاری اسکولوں بلکہ تمام خانگی اسکولوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اسکول میں سیکنڈری اسکول کی سطح پر ہی طلبہ کو عصری ٹیکنالوجی سے واقف کروانے کے عمل کا آغاز کریں اور اُنھیں انٹرنیٹ اور کمپیوٹر جیسی عصری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری سطح پر اس بات پر بھی غور کیا جارہا ہے کہ تمام اسکولوں میں عصری سہولتوںکی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کے طور پر ضلع واری اساس پر ٹیمیں تشکیل دی جائیں تاکہ اس سلسلہ میں عملی اقدامات ممکن بنائے جاسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں موجود کمپیوٹر لیابس سہولتیں اور انٹرنیٹ سے استفادہ کے متعلق تفصیلات اکٹھا کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب ریاست تلنگانہ میں کئی سرکاری اسکولس بالخصوص شہر حیدرآباد اور رنگاریڈی کے اطراف و اکناف کے اسکولوں میں انٹرنیٹ و کمپیوٹرس کی سہولت فراہم کی جاچکی ہے لیکن کئی اسکولوں میں ان کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے۔ جن اسکولوں میں انٹرنیٹ اور کمپیوٹرس کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے اُن کے متعلق تفصیلات اکٹھا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ وجوہات کا جائزہ لیا جاسکے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ بیشتر اسکولوں میں تکنیکی خرابیوں کے علاوہ عملہ کی عدم موجودگی کے سبب عصری سہولتوں کے متعلق طلبہ کو تعلیم کی فراہمی میں دشواریاں پیدا ہورہی ہیں جبکہ بعض اسکولوں کے ذمہ داران کا ادعا ہے کہ اسکولوں میں برقی سربراہی کی بنیادی سہولت ہی نہ ہونے کے باعث یہ کمپیوٹر سنٹرس غیر کارکرد ہیں۔ ڈیجیٹل انڈیا اور اسمارٹ سٹی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اسکولوں میں برقی سربراہی کو یقینی بنایا جائے۔ چونکہ شہری علاقوں میں ہی کئی ایسے سرکاری اسکول موجود ہیں جہاں کئی ماہ تک برقی منقطع رہتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT