Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / مرکز کے رویہ کے خلاف جویلرس کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال

مرکز کے رویہ کے خلاف جویلرس کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال

اکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کے فیصلہ کے خلاف قومی سطح پر احتجاج میں شدت
حیدرآباد /8 مارچ ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد کے جویلری تاجرین نے اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مرکزی حکومت کے فیصلہ کے خلاف متحد ان تاجرین نے غیر معلنہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کردی ہے اور ہر دن احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شہر حیدرآباد کی تقریباً 30  اسوسی ایشنوں پر مشتمل ایک متحدہ محاذ کی جویلر تاجرین نے تشکیل دیا ہے او اس محاذ کے ذریعہ احتجاج کو جاری کئے ہوئے ان قائدین کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت ایک فیصد اکسائز ڈیوٹی عائد کرتے ہوئے جو صنعت کو برباد کرنا چاہتی ہے اور میک ان انڈیا کے نام پر اس طرح کے فیصلہ تباہی کی علامتیں ہیں ۔ اس خصوص میں ٹوئن سٹیز جویلرس اسوسی ایشن کے سکریٹری مسٹر مہیندر نہال نے بتایا کہ حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ احتجاج قومی سطح پر جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا ۔ جب تک مرکزی حکومت اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی ۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کے اس فیصلہ سے تقریباً 6 کروڑ افراد متاثر ہو رہے ہیں چونکہ اس صنعت سے 6 کروڑ سے زائد افراد جڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ قومی سطح پر 350 اسوسی ایشن اس احتجاج میں شامل ہیں اور ایک کرور سے زائد افراد کا اس جویلری صنعت سے تعلق ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک فیصد اکسائز ڈیوٹی کے سبب صنعت کو غیر تلافی نقصان ہوگا اور حکومت کے اس فیصلے کو جویلری کاروباری برادشت نہیں کرسکتے ۔ حالانکہ 6 کروڑ ٹرن اوور کی شرط رکھی گئی ہے تاہم اب چھوٹے کاروباری کو اکسائز کے سوالات کا جواب اور ان کی مبینہ ہراسانی کا سامنا کرنا پرے گا ۔ جویلری کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ یہ قانون جویلری دوکانات کے مالکین اور کاروباری افراد کے حق میں سیاہ  قانون ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اکسائز ڈیوٹی اس وقت عائد کرنا حق بہ جانب تھا ۔ تب تمام تر کارروائی ایک ہی چھت کے نیچے ہوئی لیکن جویلری کے کاروبار میں ایسا نہیں ہے ۔ ایک جویلری 4 مختلف مقامات پر مراحل طئے کرنے کے بعد تیار ہوئی ہے اور یہ مکمل طور پر دست کاری صنعت ہے اور اس کا تحفظ ضروری ہے جبکہ حکومت اس دست کاری صنعت کو فروغ دینے کے بجائے ایسے تباہ و برباد کردیا ہے اور حکومت کو اس فیصلے سے دستبرداری اختیار کرنی چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری اپنے فیصلے سے دستبرداری اختیار کرے ۔ دیگر صورت احتجاج جاری رہے گا ۔ اس موقع پر دیگر قائدین موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT