Thursday , September 20 2018
Home / اداریہ / مرکز کے مصالحت کار کا دورہ کشمیر

مرکز کے مصالحت کار کا دورہ کشمیر

آج کیوں ان کی تسلی کا خیال آتا ہے
ان کے آنے کا نہیں آج تو امکاں کوئی
مرکز کے مصالحت کار کا دورہ کشمیر
جموں و کشمیر میں امن مذاکرات کے لئے جب مرکزی حکومت نے سابق انٹلی جنس بیورو سربراہ دنیشورشرما کو نامزد کیا تو ہر کسی نے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا تھا لیکن اب جبکہ دنیشور شرما نے وادی کشمیر کا دورہ شروع کیا ہے تو ان سے ملاقات کرنے والوں میں صرف چند نام ہی سامنے آئے ہیں ۔ کشمیری پنڈتوں سے ملاقات کر کے مرکزی نمائندہ نے ان کے مسائل اور نکات کی سماعت کی جبکہ کشمیر کے دیگر فریقین تک ان کی رسائی ہنوز نہیں ہوسکی ۔ یا پھر کشمیر کے اہم فریقین ان سے ملاقات کے لئے تیار نظر نہیں آ رہے ہیں ۔ سابق چیف منسٹر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی نمائئدہ کے غیر واضح رول پرنکتہ چینی کی ہے ۔ مرکز نے کشمیر میں امن کے قیام کے غرض سے ایک مصالحت کار کا تقرر تو کیا ہے مگر اس مصالحت کار کے اختیارات اور کام کرنے کی مساعی پر چند گوشوں نے شبہات کا اظہار کیا ہے ۔ وادی کشمیر میں پانچ روزہ دورہ کرنے والے دنیشور شرما جب نئی دہلی واپس ہوں گے تو ان کے ہمراہ جو تاثرات جائیں گے وہ وادی کشمیر کے مسائل کی یکسوئی کے لئے کارگر ثابت ہوں تو اس دورہ کو کامیاب قرار دیا جائیگا ۔ لیکن شرما کے دورہ سے کشمیر کے اہم سیاسی پارٹیوں اور تجارتی اداروں نے خود کو دور رکھ کر پیام دیا ہے وہ مرکز کے نمائندہ کو تسلیم کرنا نہیں چاہتے یا انہیں اس طرح کی مساعی پر ایقان نہیں ہے ۔ وادی کشمیر میں صورتحال گذشتہ چند دنوں سے مفلوج ہے خاص کر وادی میں بی جے پی ۔ پی ڈی پی اتحاد کی حکومت میں وادی کے اندر بدامنی کے واقعات کو افسوسناک حد تک دیکھا گیا ہے ۔ مرکزی نمائندہ کی حیثیت سے دنیشور شرما نے اپنے دورہ کو کامیاب بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے امن و امان کے قیام کی خاطر وادی کے ہر فرد سے بات چیت کرنے کا عہد کیا ہے ۔ مصالحت کار شرما کو وادی کشمیر کے صورتحال کا علم ہے تو انہیں اس ریاست کے ہرفرد کی مصیبت اور مسئلہ کی سماعت کرتے ہوئے اپنی رپورٹ مرکز تک دیانتدارانہ طور پر پہونچانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ ان سے ملاقات کرنے والوں میں اب تک کشمیری نوجوانوں کو آگے آتے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔ وادی کے نوجوانوں کو مذاکرات کے اہم دائرہ میں رکھنے کی کوشش سے ہی وادی کے حالات کا موثر جائزہ لینے کا موقع ملے گا۔ کشمیری نوجوانوں کو انتہاپسندی سے دور رکھنے کی اشد ضرورت محسوس کرنے والے شرما کو یہ بھی نوٹ کرنا ہوگا کہ آخر کشمیری نوجوان بندوق اٹھانے کے لئے کیوں مجبور ہورہے ہیں ۔ وادی کی موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر نوجوان طبقہ ہوا ہے ان کا تعلیمی مستقبل تاریک ہوتا جا رہا ہے اور روزگار کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ کشمیریوں نے اب تک کئی زخم کھائے ہیں اور عام شکایت ہے کہ حکمرانوں نے ان کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار نہیںکیا ہے ۔ وادی کے حالات کو معمول پر لانے کے لئے صرف سطحی اقدامات کرنے سے صورتحال نازک رخ اختیار کرتی چلی گئی ہے ۔ مرکز نے مصالحت کار کو کامل اختیارات دیئے ہیں تو یہ ایک اچھی شروعات ہے لیکن وادی کشمیر کے اہم فریقین نے مرکز کی اس کوشش پر شبہ کی انگلی اٹھا کر دنیشور شرما کے دورہ کشمیر کو ہی مشکوک بتادیا ہے تو پھر اس سلسلہ میں صفائی اور وضاحت کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نئی دہلی سے استفسار کیا کہ آخر وہ شرما کو کشمیر پر بات چیت کے لئے خصوصی نمائندہ کے طور پر مقرر کرکے کیا حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہے ۔ جبکہ وزیراعظم کے دفتر کے وزیر جیتندر سنگھ نے دنیشور شرما کی مصالحت کار کی حیثیت سے خدمات پر جو تبصرہ کیا ہے اس سے وادی کشمیر کی صورتحال کو بہتر بنانے مرکز کی کوشش کو غیر واضح کر دیا ہے ۔ شرما اگر وادی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ثالثی یا مصالحت کار کا رول ادا نہیں کر رہے ہیں تو پھر وادی میں تمام فریقین تک پہنچ کر ان کی بات چیت کی تمام کوشش صرف وقت ضائع کرنے کی ایک فضول مشق ہوگا ۔ جیسا کہ فاروق عبداللہ کو دنیشورشرما کے اس مشن میں کسی پیشرفت کی امید ہی نظر نہیں آ رہی ہے تو اس بارے میں مرکزی حکومت اور خود مصالحت کار کے طور پر وادی کشمیر پہونچے دنیشورشرما کو اپنے دورہ کے مقاصد کو کامیاب بنانے کی کام کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ وادی کشمیر کے بارے میں مرکز کے ذہن کو پڑھتے آ رہے وادی کے تمام فریقین کو مطمئن کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مرکز اور اس کے نمائندہ سے کامل اتھاریٹی کا مظاہرہ کریں اور عوام کی شکایات کی سماعت کے بعد اس کے فوری ازالہ کی کوشش کریں ۔ خون ریزی سے متاثرہ وادی میں اب تک زائد از 40,000 جانیں ضائع ہونے کا ادعا کیا جا رہا ہے اور دنیشور شرما کا یہ پانچ روزہ دورہ وادی کشمیر کو اس کی موجودہ نازک صورتحال سے باہر نکالنے میں کس طرح کارآمد ہوگا ۔ ان کی مرکز کو پیش کی جانے والی رپورٹ بعد ہی واضح ہوگا ۔

 

TOPPOPULARRECENT