مزاج میں مد و جزر

ڈاکٹر مجید خان

ڈاکٹر مجید خان
یہ نوجوان پہلی مرتبہ 2009 میں آیا تھا جب اسکی عمر 13 سال کی تھی ۔ والد صاحب عصری نفسیات کے قائل تھے اور کالج میں پڑھایا کرتے تھے ۔ لڑکے کے مزاج میں تھوڑی سی تبدیلی کو بھانپ گئے اور مشورے کیلئے آگئے ۔ طبیعت میں تند مزاجی اور بحث و تکرار جو پہلے اس کے فرمانبردار رویہ میں نہیں دیکھی گئی تھی وہ بڑھتی ہوئی نظر آنے لگی ۔ والد صاحب ایک اصول پسند شخص اور اپنی زندگی کو منصوبہ بندی کے ساتھ گذار رہے تھے ۔ خاندانی منصوبہ بندی کے تحت دو لڑکوں کے بعد ہی فیملی پلاننگ کئے اور اپنی استطاعت کے مطابق اپنے حالات کو سنوارہے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا فرض اب بچوں کو اچھی تعلیم دلوانا تھا ، بڑا لڑکا ایک ہونہار نوجوان کی طرح اپنی تعلیمی ، گھریلو اور سماجی سمتوں میں صحیح پیش رفت کررہا تھا ۔ گھر کا ماحول انتہائی دوستانہ اور ادب و لحاظ کا حامل تھا ۔ چاروں گھر کے افراد اپنی اپنی ذمہ داریوں سے واقف تھے اور اپنا اپنا کردار بخوبی ادا کررہے تھے ۔

اس خاموش ترقی پسند ماحول میں جب والد صاحب نے محسوس کیا کہ چھوٹا لڑکا کچھ بغاوت کے ہنر سیکھ رہا ہے تو ان کو تشویش ہونے لگی ۔ میرے مضامین اور کتابیں بڑی پابندی سے پڑھا کرتے ہیں اور بچوں کو بھی ان کے مطابق ہدایات دیا کرتے ہیں ۔ انکا کہنا تھا کہ نفسیاتی معاملات میں وہ اپنے آپ کو حالات حاضرہ سے مقابلہ کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں سے مطمئن ہیں ۔ جب اس لڑکے کی چال میں انھوں نے ایک نئی لغزش دیکھی تو تھوڑے سے متفکر ہوئے ۔ اس کے احباب کے تعلق سے معلومات حاصل کئے تو پتہ چلا کہ ہنسی مذاق بڑھ گیا ہے ۔ دوستوں میں وقت گذاری زیادہ کرنے لگے تو اس کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر جب چڑچڑاپن اور غصے میں اضافہ ہونے لگا تو پہلی مرتبہ 5 سال پہلے مجھ سے ملنے آئے تھے ۔ مجھے بیماری پہچاننے میں کوئی دقت نہیں ہوئی اور میں نے دوائیں تجویز کی اور والد صاحب کا کہنا تھا کہ دوائیں موثر ثابت ہوئیں اور مزاج میں تیزی سے بھڑکتی آگ بجھ گئی اور ہرکام میں تیز رفتاری جو دکھائی دے رہی تھی وہ معمول کے مطابق آگئی اور زندگی ایک بار پھر سکون سے رواں دواں ہوگئی ۔

والد صاحب بچوں کی ہمہ جہتی ترقی میں انکے معاون رہے مگر میرے کہنے کے مطابق بیماری کے عود کر آنے کے ابتدائی علامات پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے ۔ پانچ سال کے بعد ان کو محسوس ہوا کہ مرض واپس آیا ہے اور اب کی مرتبہ تیزی سے مزاج اور برتاؤ میں بغاوت نظر آرہی ہے ۔ سیدھے بغیر وقت گنوائے میرے پاس آئے اور کیفیت تحریر میں لائے جو میں نیچے نقل کررہا ہوں ۔
۱۔ اب اس کی عمر 3 ماہ کم 18 سال ہوچکی ہے ۔
۲۔ پالی ٹکنیک کے پہلے سال میں اوباش زندگی دیکھ کر دل و دماغ میں دنیا پرستی رچ بس گئی ہے (مجھے ان الفاظ کا استعمال بہت پسند آیا)
۳ ۔کالج بند کروادیا گیا
۴ ۔ صبح ٹیوشن 8 تا 12 ہے ۔ شام 3 تا 9 قریب کے ایک میڈیکل اسٹور میں کام بھی کرتے ہیں ۔
۵۔ چند دنوں سے جلد غصے میں آنا ۔ اپنی مرضی پر چلنا اور ضد کرنا ان کا رویہ بن گیا ہے ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ہماری مرضی کے خلاف ہے ان کو اسکی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔
۶ ۔ بڑوں کے خلاف غلط الفاظ استعمال کرنا ، دنیا کے لہو و لعب کی فرمائش کرنا
۷ ۔ گھر والوں کو ڈرا کر رکھنا مگر باہر والوں میں انتہائی ہردلعزیز ۔
۸ ۔کسی بھی ایک چیز پر دماغ لگا رہتا ہے مثلاً بغیر کسی شرم و حیا کے لڑکیوں کے تعلق سے بات کرنا ۔ سیل فون کا مسلسل استعمال اور فلم بینی میں اضافہ ۔
۹ ۔ اخراجات کیلئے غیر معمولی مطالبات کرنا اور زبردستی ماں کے پاس سے پیسے وصول کرنا ۔
۱۰ ۔ تعلیم میں برائے نام دلچسپی اور یہی حال رہا تو کورس مکمل کرنے کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔
۱۱ ۔ میں سمجھ گیا کہ قدیم مرض واپس آیا ہے اور دوڑے دوڑے آپ کے پاس لایا ہوں ۔
۱۲ ۔ میں آپ کے مضامین میں یہ ہدایات پڑھتا ہوں کہ ایسے امراض میں خاص طور سے جب بیماری عود کر آتی ہے تو جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے ۔ یعنی مرض بے قابو ہوجاتا ہے۔ اپنے آپ کو بیمار نہیں سمجھنا اور ڈاکٹر کے پاس کسی صورت میں آنا نہیں چاہتے ۔ خوش قسمتی سے میرا لڑکا بخوشی آپ کے پاس آنے کے لئے راضی ہوگیا ۔ اس کا مطلب جیسا کہ آپ سمجھاتے ہیں کہ اس کی اندرونی بصیرت ابھی بھی برقرار ہے اور وہ بھی سمجھتا ہے کہ یہ مرض ہوسکتا ہے اور دوائیں استعمال کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔
دوا لکھ دی گئی اور پھر 5 سال کی فرصت مل گئی ۔ یہ مرض ایک دورے کی طرح آتا ہے ۔ دونوں دوروں کے درمیان وقفہ جداگانہ ہوا کرتا ہے ۔ بعض کو سال میں ایک ہی مرتبہ تو بعض کو سال میں دوچار بار بھی آسکتا ہے۔ علامات کو سمجھنے والے تیزی سے دوائیں شروع کردیتے ہیں اور وہ ذہنی تلاطم ٹل جاتا ہے ۔ یہ تلاطم خود مریض اور خاندان والوں کیلئے کافی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے ۔

اس کی ایک اور خطرناک کیفیت جو تھوڑے دنوں کے بعد رونما ہوتی ہے وہ ہے بے خوابی ۔ ظاہر ہے کسی نوجوان کے دن رات ایک ہوجائیں اور طبیعت میں وحشیانہ ضد اور مارپیٹ کا تشدد آجائے تو اس کی تباہ کاریوں کا انداز بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ میرے مشاہدے میں ایسے مریض اب زیادہ آرہے ہیں ۔ اگر یہ لوگ شراب ، گانجہ اور منشیات کے عادی ہوجائیں تو سونے پر سہاگا کے مصداق ایک ہنگامی کیفیت پیدا ہوجائے گی ۔
شروع میں ایک گولی پر معاملہ قابو میں آسکتا ہے مگر حالات بے قابو ہوجائیں تو مریض کی مرضی کے خلاف دواخانے میں شرکت ، بجلی کا علاج ، خواب آور قوی سے قوی تر انجکشن دینے پڑتے ہیں ۔ مریض آپ کی بات نہیں مانتا کیونکہ اس کی اندرونی بصیرت بیماری کی وجہ سے غائب ہوچکی ہوتی ہے جو صحتیابی کے بعد لوٹ کر آتی ہے ۔
ہمارے اوپر بیان کئے ہوئے مریض کے والد کو ڈر تھا کہ چونکہ یہ لڑکا بے لگام ہوتا جارہا ہے اس لئے سیل فون اور عاشقی کا اشتراک خطرناک نتائج پیدا کرسکتا ہے ۔ اکثر ہمارے ہاں غیر شادی شدہ مریض ہوں تو معاشقے کا چکر ہوتا ہے یا شادی شدہ ہوں تو دوسری یا تیسری بیوی یکے بعد دیگرے آنے لگتے ہیں ۔

جسمانی طور پر ایسے مریضوں کی چاہے عورت ہو یا مرد ہر قسم کی خواہش بے پناہ طور پر بڑھ جاتی ہے ۔ جیسا کہ کھانے پینے کی ، جنسی اور عشق و معاشقے کی ، ہنسی مذاق اور خطرات مول لینے کی ۔ موٹر سائیکل اور کار تیز چلانا اور حادثات کرنا عام ہوجاتا ہے ۔
یعنی بس یہ سمجھئے کہ ہر قسم کے مہذب آداب سے اپنے آپ کو آزاد سمجھنے لگتے ہیں ۔ اپنی ایک نئی طاقت پر زعم کرنے لگتے ہیں ۔
قانون ان کے لئے ایک مذاق بن جاتا ہے ۔ بیوقوف اور غیر حقیقی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری ان کا شعار بنتا جاتا ہے ۔ ان کی ہر حرکت خطرے سے خالی نہیں ہوتی ۔
مریض کے والد کا یہ بھی کہنا تھاکہ پہلی مرتبہ جب دوا دی گئی تو چند دنوں میں وہ دماغی بھیانک کیفیت جاتی رہی مگر حالات اس کے برعکس ہوگئے یعنی ایسا محسوس ہورہا تھا کہ نوجوان لڑکے کی ساری توانائی سلب کرلی گئی اور اس میں انتہائی کمزوری ، سستی اور پستی آگئی تھی اور مایوسی کا شکار ہوگیا تھا ۔

اب اس مرض کے Bipolar یعنی دو رخی مرض ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہیں تھا ۔ عام حالات میں جب یہ لوگ کسی غیر ملک کو جاتے ہیں اور اکیلے زندگی گذارتے ہیں اور تشدد بھری دنیاسے جب کمپیوٹر ، انٹرنیٹ ، ٹوئیٹر وغیرہ سے ربط قائم کرنے لگتے ہیں تو ان کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔ یہ بیماری تشدد سے لیکر دہشت پسندی میں بدلتی جاتی ہے اور ایسے ہی لوگ مذہبی جنون کو اپنا آلہ کار بنا کر بین الاقوامی شہرت پانے کے لئے ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے انتقام کے نام پر اپنا رول ادا کرتے ہیں اور پھر مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں اور خودکشی بھی کربیٹھتے ہیں ۔
یہ نئے قسم کے واقعات دنیا کے ہر خطے میں ہورہے ہیں اور عام فہم سے باہر ہیں ۔ دماغ کا کوئی ایسا امتحان ابھی تک ایجاد نہیں ہوا جس کی بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ شخص اس خاص بیماری میں مبتلا تھا مگر سائنس جس طرح سے ترقی کررہی ہے مستقبل میں یہ بھی ممکن ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ انتہائی دہشت گردی کرنے اور سوچنے کیلئے دماغ کی بناوٹ مختلف ہونی چاہئے ۔
مگر میری نصیحت والدین اور اساتذہ کو یہ ہے کہ تعلیمی بہتری اور کمزوری پر توجہ کے ساتھ ساتھ طلبا کے برتاؤ اور رویے کو نظر انداز نہ کریں۔ انتہائی ذہن اور کند ذہن طلباء دونوں بھی خاص توجہ کے مستحق ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں اسے خاص طور پر تربیت دیئے گئے اساتذہ ہوا کرتے ہیں جو ایسے بچوں پر نظر رکھتے ہیں ۔ موجودہ طریقۂ تعلیم پر حکومت کی ایک نئی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں ہمارے پورے تعلیمی نظام پرائمری سے لیکر یونیورسٹی تک پر کڑی تنقید کی گئی ہے اور غالباً اس کمیٹی کے صدر امرتیا سین نوبل پرائز یافتہ تھے ۔
بہرحال موجودہ طریقۂ تعلیم آج کل کے حالات سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بہترین اسکول کے اساتذہ بھی عصری تعلیمی نفسیات سے بے بہرہ ہیں ۔
٭٭٭

Top Stories

TOPPOPULARRECENT