Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مزاح نگاری محض اتفاق، شخصی طور پر میںسنجیدہ اور غمگین انسان ہوں

مزاح نگاری محض اتفاق، شخصی طور پر میںسنجیدہ اور غمگین انسان ہوں

جناب عابد علی خاں اور جناب محبوب حسین جگر کی مرہون منت، پدم شری ڈاکٹر مجتبیٰ حسین کا ’ ’ میں اور میری مزاح نگاری ‘‘ پر جذباتی خطاب
حیدرآباد۔/21اگسٹ، ( سیاست نیوز) اردو کے عالمی شہرت یافتہ مزاح نگار پدم شری جناب مجتبیٰ حسین نے کہا کہ ان کی مزاح نگاری محض اتفاق ہے ورنہ شخصی طور پر وہ ایک سنجیدہ اور غمگین انسان ہیں۔ انہوں نے 1962سے اپنی مزاح نگاری کا آغاز اخبار ’سیاست‘ کے طنزیہ کالم’’ شیشہ و تیشہ ‘‘ سے کیا تھا۔ جناب مجتبیٰ حسین کل شام ابوالکلام آزاد اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ان کے اعزاز میں منعقدہ جلسہ کو مخاطب کررہے تھے۔ ’’ میں اور میری مزاح نگاری ‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مزاح نگاری کے 54سالہ سفر میں انہوں نے کئی انشایئے، مزاحیہ کالمس، خاکے، سفر نامے، رپور تاژ اور مضامین تحریرکئے ہیں جن پر مشتمل 45کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ عابد علی خاں صاحب اور محبوب حسین جگر صاحب نے انہیں طنز و مزاح کے راستے لگایا تھا۔ جناب مجتبیٰ حسین نے کہا کہ ان کی مزاح نگاری کا آغاز کالم نگاری سے ہوا۔ ان کے کالموں کو نہ صرف قارئین ’سیاست‘ بلکہ ملک کے کئی مشاہیر اور دانشوروں نے پسند کیا۔ ابتداء میں ’ ابن انشاء ‘ پطرس بخاری، شوکت تھانوی اور اپنے بھائی ابراہیم جلیس اور اس کے بعد مشتاق احمد یوسفی جیسے بلند پایہ مزاح نگاروں سے متاثر رہے لیکن مزاحیہ ادب میں انہوں نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ عام قاری کیلئے بھی ان کی تحریریں دلچسپی کا باعث بنی وہیں جس کو وہ اپنے لئے بہت بڑا اعزاز سمجھتے ہیں۔ مجتبیٰ حسین نے کہا کہ ان کی زندگی غم و الم سے دوچار رہی ہے چنانچہ پولیس ایکشن کے واقعات نے ان کے دل پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ان کے ماموں کا قتل اُن کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ سینکڑوں لوگ بے گھر و بے سہارا ہوگئے۔ عثمان آباد، بیڑ، مرہٹواڑہ کے کئی علاقوںمیں جو ظلم و ستم ڈھائے گئے وہ ناقابل بیان ہیں۔ شاید ان ہی انسانیت سوز واقعات نے ان کے مزاج میں طنز و مزاح کے جوہر پیدا کئے۔ مجتبیٰ حسین نے اپنے مداحوں کے پرہجوم جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ حیدرآباد اور حیدرآبادیوں سے محبت کی ہے اور ان کے فن کی حوصلہ افزائی حیدرآباد میں ہی ہوئی اور جب وہ دہلی گئے تو وہاں انھیں پھیلنے کا موقع ملا اور امکانات کی دنیا ان کے لئے وسیع تر ہوگئی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مزاح ہر انسان کی مادری زبان ہے ، ہنسنے کا انداز الگ الگ ہے لیکن ہنسی کی دولت سب کے حصہ میں آئی ہے، اس لئے وہ کمیونزم کے اس تصور کو دولت کی مساویانہ تقسیم کی جانی چاہیئے جو ممکن نہیں لیکن ہنسی کی مساویانہ تقسیم ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ خالق کائنات نے صرف انسان ہی کو ظرافت کی نعمت سے سرفراز کیا ہے دیگر مخلوقات اس نعمت سے محروم ہیں۔ جہاں تک ادب کا تعلق ہے طنز و مزاح کا آغاز مرزا غالب نے کیا تھا، غالب کے خطوط میں طنز و مزاح کا عنصر غالب رہا۔ جناب مجتبیٰ حسین نے حیدرآباد کو ’’ مملکت طنز ومزاح ‘‘ کی راجدھانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صنف کو فروغ دینے میں حیدرآباد کے ادیبوں اور شعراء نے نمایاں رول ادا کیا ہے۔اپنا مضمون پیش کرتے ہوئے کئی بار مجتبیٰ حسین نہایت گلوگیر آواز میں اپنے چاہنے والوں کا ذکر کرتے رہے۔ پدم شری پروفیسر سید ظل الرحمن صدر ابن سینا اکیڈیمی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ گذشتہ 40برس سے مجتبیٰ حسین کی تحریریں پڑھ رہے ہیں اور ان کی غیر معمولی صلاحیتوں سے متاثر ہیں۔ مجتبیٰ حسین نہ صرف ہندوستان، پاکستان بلکہ دنیا کے جن جن علاقوں میں اردو پڑھی جاتی ہے وہاں مقبول ہیں۔ ان کی تحریروں میں شگفتگی کے ساتھ ساتھ شائستگی بھی ہے جو مزاح نگاری کیلئے ضروری ہے۔ ابتداء میں ڈاکٹر سید مصطفی کمال ایڈیٹر ماہنامہ  شگوفہ نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جناب مجتبیٰ حسین نے اردو طنز و مزاح کو نئی جہت سے روشناس کرواتے ہوئے دنیائے ادب میں طنز و مزاح کیلئے ایک سازگار ماحول پیدا کیا۔ مجتبی حسین نصف صدی سے زائد عرصہ سے لکھ رہے ہیں لیکن بدلتے حالات میں بھی اپنی ظرافت اور مزاح نگاری کو انہوں نے کم ظرفی سے آلودہ ہونے نہیں دیا۔ حیدرآباد میں مسیح انجم، پرویز یداللہی، حمید عادل، ڈاکٹر عباس متقی، رشید الدین، حبیب ضیاء، رشید موسوی اور کئی ادیب پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں پہلی بار طنز و مزاح کی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جسکا سہرا مجتبیٰ حسین کے سر جاتا ہے، اس کے بعد ملک کے دیگر علاقوں میں بھی طنز ومزاح کی کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ پروفیسر ڈاکٹر اشرف رفیع نے صدارتی تقریر میں کہا کہ مجتبیٰ حسین نے اپنی بے لاگ تحریروں کے ذریعہ طنز و مزاح کو اردو کا اعلی درجہ کا ادب بنادیا۔ابوالکلام آزاد انسٹی ٹیوٹ کا آڈیٹوریم تنگ دامنی کا شکوہ کررہا تھا۔ کئی اصحاب و خواتین کو دو ڈھائی گھنٹوں تک کھڑے رہ کر تقاریر سننی پڑی۔ بعض لوگوں نے منتظمین سے شکایت کی کہ انہوں نے اس مخدوش اور ناکافی ہال کا انتخاب کرکے شرکاء کو زحمت سے دوچار کیا۔ اس تقریب میں احمد رشید شروانی، بیگم نصرت شروانی، تراب الحسن، نسیمہ تراب الحسن، پروفیسر بیگ احساس، سید افتخار حسین، لکشمی دیوی راج، ڈاکٹر شام سندر پرشاد، اودیش رانی، جناب عابد صدیقی، گل رعنا، شبینہ فرشوری، آمنہ تحسین، جے ایس افتخار، ایوب علی خاں، محبوب حسین اصغر، سید امتیاز الدین، ہادی راحیل ، احمد صدیقی مکیش، رؤ ف خیر، تسنیم جوہر، ڈاکٹر سید حسام الدین، فرید سحر، حسن عابد ( آئی اے ایس) فریدہ راج، ڈاکٹر رفیعہ سلیم، وہاب قیصر، محسن جلگانوی،ابراہیم ضیائی و بیگم ابراہیم ضیائی، رؤف خلش، ڈاکٹر حبیب نثار، احمد مرزا، کے این واصف، مضطر مجاز، قاری صدیق حسین، میر احمد علی خان، ڈاکٹر غوث الدین، بی بی رضا خاتون، آمنہ نور کے علاوہ کئی دانشوروں، اردو اساتذہ، ادیبوں اورشعراء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT