Sunday , May 27 2018
Home / Top Stories / مسئلہ ایودھیا کی یکسوئی کیلئے سری سری کی مساعی پر مسلم قائدین کو شبہات

مسئلہ ایودھیا کی یکسوئی کیلئے سری سری کی مساعی پر مسلم قائدین کو شبہات

LUCKNOW, NOV 15 (UNI)- Founder of Art of Living Sri Sri Ravi Shankar meeting with Uttar Pradesh Chief Minister Yogi Aditinyanth in Lucknow on Wednesday. UNI PHOTO-57u

مندر۔ مسجد تنازعہ کے فریقوں سے مذاکرات سے پہلے منصوبہ کے انکشاف کا مطالبہ، وسیم رضوی کے بیانات پر اعتراض

لکھنؤ ۔ 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) طویل عرصہ سے زیرتصفیہ ایودھیا تنازعہ کی یکسوئی کیلئے ہندو روحانی پیشوا سری سری روی شنکر کی مساعی پر مسلم تنظیموں نے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پہلے اپنے منصوبہ کا انکشاف کرنا چاہئے۔ مسلم قائدین نے شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کے چیرمین وسیم رضوی کے بیانات پر بھی شدید اعتراض کیا اور ان بیانات کو غیرضروری قرار دیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی اللہ رحمانی نے فون پر پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’یہ کہا جارہا ہیکہ سری سری روی شنکر اس مقدمہ کے ضمن میں تمام فریقین سے بات چیت کررہے ہیں لیکن انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کسی بھی اہم قائدین سے رابطہ نہیں کیا جو مسلمانوں کی قیادت کررہا ہے‘‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سری سری نے 12 سال قبل بھی ایسی ہی مساعی کی تھی اور کہا تھاکہ متنازعہ مقام ہندوؤں کو دیا جانا چاہئے۔ تاہم اس مرتبہ انہوں نے کونسا نیا فارمولہ اپنایا ہے اس کا انکشاف کیا جانا چاہئے‘‘۔ وسیم رضوی کے اختیار کردہ موقف پر اعتراض کرتے ہوئے مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ کسی بھی بورڈ کے چیرمین کو متنازعہ مقام کسی فریق کے حوالہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ مولانا رحمانی نے کہاکہ ’’اگر رضوی کی منطق ہیکہ میرباقی نے بابری مسجد بنائی تھی جو شیعہ تھا تو پھر اس صورت میں بھی یہ مسجد تمام مسلمانوں کو دی جانی چاہئے‘‘۔ شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان مولانا یسوب عباس نے رضوی کے بیانات پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ اس مسئلہ پر ان کا بورڈ بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ ہے۔ یسوب عباس نے کہا کہ ’’جہاں تک سری سری کی مساعی کا تعلق ہے انہیں پہلے اپنے فارمولہ کا انکشاف کرنا چاہئے اور ہماری عاملہ اس پر غوروخوض کرے گی‘‘۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی نے کہا کہ اگر روی شنکر کے پاس مسلمانوں کے دعویٰ کو مسترد کرنے کے سواء اگر کوئی اور تجویز بھی ہے تو وہ اس پر تبادلہ خیال کیلئے عاملہ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے۔ وی ایچ پی کے میڈیا انچارج شرد شرما نے اپنے بیان میں کہا کہ بات چیت کرنے کی کوئی منطق ہی نہیں ہے کیونکہ ہندوؤں کے پاس آثارقدیمہ کے ثبوت ہیں اور عدالتیں صرف ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کرناٹک میں 24 تا 26 نومبر منعقد شدنی 15 ویں دھرم سنسد میں رام مندر کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ظفریاب جیلانی نے کہا کہ وسیم رضوی اگرچہ وقف بورڈ کے چیرمین ہوسکتے ہیں لیکن عدالت میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جیلانی نے کہاکہ ’’مسجد 2010ء کے الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ میں شیعہ وقف بورڈ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے‘‘۔ رضوی نے گذشتہ روز بھی دعویٰ کیا تھا کہ ’’خوشگوار انداز میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایودھیا یا فیض آباد میں کوئی نئی مسجد تعمیر نہیں کی جائے گی۔ شیعہ وقف بورڈ مسلمانوںکی غالب آبادی والے کسی علاقہ میں اراضی کی نشاندہی کرے گی اور حکومت کو مطلع کیا جائے گا۔

بات چیت کی ضرورت نہیں : وی ایچ پی کا موقف
لکھنؤ ۔ 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وشوا ہندو پریشد نے ایودھیا تنازعہ پر کسی بات چیت کی ضرورت کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس ضمن میں آثار قدیمہ کے ثبوت موجود ہیں اور عدالتیں صرف ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلے کیا کرتی ہیں۔ وشوا ہندو پریشد کے ترجمان شرد شرما نے مسئلہ ایودھیا کی یکسوئی کیلئے آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن کے سربراہ سری سری روی شنکر کی پیشکش اور شیعہ وقف بورڈ کے چیرمین وسیم رضوی کی جانب سے دوستانہ حل تلاش کرنے کے دعویٰ کے تناظر میں یہ ریمارک کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وی ایچ پی اگرچہ سری سری کا احترام کرتی ہے لیکن انہیں ماضی میں کی گئی اس قسم کی کوششوں کو یاد رکھناچاہئے۔
ll عدالتی فیصلہ ہی قطعی ہوگا : گورنر رام نائیک (خبر صفحہ 5 پر)

TOPPOPULARRECENT