Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / مسئلہ تین طلاق اور یکساں سیول کوڈ کا مسلمان ‘ صفیں درست کرلیں

مسئلہ تین طلاق اور یکساں سیول کوڈ کا مسلمان ‘ صفیں درست کرلیں

خلیل قادری
مرکز کی نریندرمودی نے ایسا لگتا ہے کہ اپنے حقیقی عزائم کا اظہار شروع کردیا ہے ۔ ملک بھر میں ان دنوں یکساں سیول کوڈ اور تین طلاق کا مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔ مرکزی حکومت تین طلاق کی روایت کو ختم کرنے کے در پہ ہے اور اس نے سپریم کورٹ میں اپنا حلفنامہ بھی داخل کردیا ہے ۔ حکومت کا استدلال ہے کہ تین طلاق کی روایت در اصل خواتین کے ساتھ امتیاز اور ان کے حقوق کو تلف کرنے کے مترادف ہے ۔ اس روایت کو ختم کرنا چاہئے ۔ مرکز کا یہ بھی استدلال ہے کہ یہ مسئلہ مذہب کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ جنسی امتیاز کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ مرکزی حکومت کسی نہ کسی بہانے سے شریعت میں مداخلت کی کوشش میں مصروف ہوگئی ہے ۔ جہاں تک تین طلاق یا یکساں سیول کوڈ کا مسئلہ ہے یہ در اصل حکومت کے ایجنڈل کا حصہ ہے جو اسے آر ایس ایس نے دیا ہے اور اس کو ایسا لگتا ہے کہ ایک مقررہ مہلت دیدی گئی ہے کہ اس کے اندر اندر یہ مسئلہ چھیڑ دیا جائے ۔ پھر ملک بھر میں جو حالات پیدا ہوتے ہیں ان کی مطابقت میں آئندہ کی حکمت عملی کو قطعیت دی جائیگی ۔ یہ آر ایس ایس کا دیرینہ ایجنڈہ ہے جس کو مرکز کی نریندر مودی حکومت کے ذریعہ لاگو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔نریندر مودی حکومت کے مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے غیرمحسوس طریقے سے ہندوتوا نظریات اور آر ایس ایس کے ایجنڈہ پر عمل آوری کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ چاہے یہ مسئلہ تعلیمی اداروں میں مداخلت کرکے نصاب کو مسخ کرنے کا ہو یا پھر بیف پر امتناع کا ہو ۔ چاہے یہ مسئلہ جموں و کشمیر کو دئے گئے خصوصی موقف کا ہو یا پھر یکساں سیول کوڈ کا ہو ۔ تقریبا ایک سال قبل ہی دفتر وزیر اعظم کے وزیر نے یہ مسئلہ چھیڑنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ حکومت جہاںکشمیر کو خصوصی موقف ختم کرنا چاہتی ہے وہیں وہ ملک میں یکساں سیول کوڈ بھی نافذ کرنا چاہتی ہے ۔ اس وقت حکومت کی ترجیحات قدرے مختلف تھیں اس لئے اس مسئلہ کو زیادہ ہوا نہیں دی گئی اور نہ طول دیا گیا بلکہ اس وقت خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی گئی ۔ بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شکست کے بعد چند مہینوں کیلئے مرکز نے آر ایس ایس کے ایجنڈہ پر عمل آوری کیلئے نئی حکمت عملی تیار کی اور اس کے تحت اب تین طلاق اور یکساں سیول کوڈ کا مسئلہ چھیڑ دیا گیا ۔ یہاں مرکزی حکومت خواتین کے حقوق کی بات کرنے لگی ہے تو اسے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مذہب اسلام میں خواتین کو جو حقوق اور جو درجہ دیا گیا ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں دیا گیا ہے ۔ عورت کو اسلام میں وہ مقام دیا گیا ہے کہ ایک شوہر کیلئے اسے نصف ایمان کردیا گیا ‘ اولاد کی جنت اس کے قدموں تلے کردی گئی اور باپ کیلئے اسے جنت میں داخلہ کا ذریعہ بنادیا گیا۔ دنیا میں بھی عورت کو اسلام نے بہترین مقام دیا ہے لیکن آج بدلتے وقتوں کے ساتھ اگر کسی کی ترجیحات اور کسی کی سوچ میں تبدیلی آسکتی ہے تو یہ ان کا اپنا قصور ہے اس کیلئے مذہب کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا ۔

جہاں تک شریعت محمدی کا سوال ہے اور اسلامی اصولوں اور قوانین کی بات ہے اس میں کسی طرح کی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی ۔ اس تعلق سے سوچا بھی نہیں جاسکتا ۔ اس کیلئے چاہے کتنے ہی میٹھے الفاظ اور انداز اختیار کئے جائیں ۔اس تبدیلی کے عمل کو دنیاوی دکھاوے کیلئے کتنا ہی پرکشش بناکر پیش کرنے کی کوشش کی جائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ شریعت میں نہ کوئی تبدیلی ہوئی ہے اور نہ کبھی ہوسکتی ہے ۔ ہندوستان کے دستور میں بھی یہ گنجائش ہے کہ ملک میں ہر مذہب کے ماننے والے اپنے مذہبی عقیدہ پر کاربند رہ سکتے ہیں اور انہیں اپنے مذہب پر عمل آوری کی پوری آزادی حاصل ہے ۔ شریعت میں مداخلت کی کوشش در اصل راست یا بالواسطہ طور پر دستور ہند سے ہی کھلواڑ کے مترادف ہے ۔ یہ کوششیں نہ قابل قبول ہوسکتی ہیں اور نہ کبھی یہ کامیاب ہوسکتی ہیں۔ ملک کے مسلمان چاہے سماجی ‘ سیاسی ‘ معاشی اور تعلیمی اعتبار سے کتنے بھی پست ہوں لیکن وہ شریعت میں مداخلت کی کوششوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے اور متحدہ جدوجہد کرینگے ۔ حکومتیں اپنے طور پر مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے بانٹنے اور گروپس میں تقسیم کردینے کی کوششیں کر رہی ہے ۔ اس کیلئے فرقوں اور مسلک کا سہارا لیا جا رہا ہے لیکن مسلمانوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ فرقے اور مسلک کوئی معنی نہیں رکھتے جہاں شریعت محمدی کا سوال آجائے ۔ ہم کو اپنے گھروں کی لڑائیاں اور اختلافات گھروں کی چار دیواری میں رکھتے ہوئے شریعت کے تحفظ کیلئے ایک جٹ اور متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔ اگر مسلمان اب بھی یہاں متحد نہیں ہونگے تو پھر انہیں سازشوں کا شکار کرکے جس طرح فرقوں میں بانٹا گیا ہے اسی طرح چھوٹے چھوٹے گروپس میں تقسیم کردیا جائیگا اور پھر ان کیلئے کسی بھی سازش سے بچنا نہ صرف مشکل بلکہ نا ممکن بھی ہوجائیگا ۔ گذشتہ مہینوں اتر پردیش میں ایک نوجوان کی موت نے ایک ایسا موڑ لایا تھا جب بریلی کے مولانا توقیر رضا ذمہ داران سے اظہار ہمدردی و یگانگت کرنے کیلئے دارالعلوم دیوبند پہونچ گئے تھے ۔ جس طرح وہ فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیوبند پہونچے تھے اسی طرح دیوبند میں بھی ان کا پرجوش خیر مقدم کیا گیا تھا ۔ یہ ایک خوش آئند پہل تھی اور اس تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے اغیار کی سازشوں سے نمٹا جاسکتا ہے ۔ جن سازشوں کو ہم متحد ہوکر مقابلہ کے ذریعہ ناکام بناسکتے ہیں انہیں سازشوں سے اگر ہم آپس میں بٹ جائیں تو پھر ہم بکھر کر رہ جائیں گے اور اغیار کی سازشیں کامیاب ہوجائیں گی ۔

فی الحال کو مسئلہ شدت کے ساتھ ابھار دیا گیا ہے اس کا مقصد بھی حکومت کیلئے اور بی جے پی کیلئے صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ اسے نہ مسلم خواتین سے دلچسپی ہوسکتی ہے اور نہ ان کے مفادات سے ۔ خود ہندو سماج میں جو فرسودہ رسوم و روایات ہیں ان پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے اور حیرت کی بات ہے کہ وہ حکومت خواتین کے حقوق کی بات کر رہی ہے جس کے سربراہ خود اپنی شریک حیات کے حقوق ادا کرنے میں ناکام ہیں اور وہ خاتون آج بھی تنہا زندگی گذارنے پر مجبور ہے ۔ نہ سنگھ پریوار کو اس کے حقوق کی فکر ہے اور نہ خود نریندر مودی کی کابینہ کے وزرا اس تعلق سے کوئی تبصرہ کرنے کو تیار ہیں۔ ایسا کرنے سے انہیں کوئی انتخابی فائدہ نہیں ملتا اس لئے یہ مسئلہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس حکومت سے ہر کام اس انداز سے کروا رہے ہیں کہ انہیں سیاسی اور انتخابی فائدہ حاصل ہوجائے ۔ اب اترپردیش کے اسمبلی انتخابات بی جے پی کا اصل نشانہ ہیں ۔ پارٹی کو یہ اشارے مل چکے ہیں کہ پنجاب اور گجرات میں اس کی حالت دگرگوں ہونے والی ہے ایسے میں وہ اتر پردیش میں بہرصورت کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے اسی لئے یہ خطرناک کھیل شروع کیا گیا ہے جس کے در اصل کئی نشانے ہیں۔ یہ ایسا مسئلہ چھیڑ دیا گیا ہے جس کے ذریعہ حکومت ایک تیر سے کئی نشانے لگانا چاہتی ہے ۔ اس کا فوری اور اولین مقصد تو اترپردیش کی سیاست میں اتھل پتھل پیدا کرنا اور فائدہ حاصل کرنا ہے تاکہ اسے وہاں اقتدار حاصل ہوسکے ۔ اس کے علاوہ حکومت شریعت میں مداخلت کے اپنے ارادوں کو بھی واضح کر رہی ہے تاکہ مسلمانوں میں پستی اور کمتری کا جو احساس پیدا ہونے لگا ہے اس کو مزید تقویت دی جاسکے ۔ اگر مسلمان پست ہوجائیں یا اپنے حوصلے ترک کردیں تو پھر ان کی سازشیں بآسانی کامیاب ہوسکتی ہیں۔ یہ حقیقت خود مسلمانوں کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک مسلمان اپنے حوصلے قائم رکھیں گے اور باہمی اتحاد کے ذریعہ ایسی سازشوں اور چیلنجس کا سامنا کرنے تیار رہیں گے ان کے خَاف کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ حکومت ابتداء میں تین طلاق یا یکساں سیول کوڈ جیسے مسائل پر مباحث شروع کرکے مسلمانوں کے موڈ اور ان کے حوصلوں کا بھی امتحان لینا چاہتی ہے ۔ وہ صورتحال کو دیکھ کر مستقبل میں مزید متنازعہ مسائل کو مسلمانوں پر مسلط کرنے کے منصوبے رکھتی ہے ۔ جس تیزی سے حکومت نے ملک میں متنازعہ مسائل کو اچھال کر ماحول کو پراگندہ کرنا شروع  کردیا ہے اس سے یہ بھی حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ حکومت ترقی کے محاذ پر یکسر ناکام ہوچکی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کو عوام مذہبی منافرت کے ماحول کا شکار ہوکر فراموش کردیں۔

آر ایس ایس اور بی جے پی چاہتے ہیں کہ کسی بھی قیمت پر اترپردیش میں اقتدار حاصل کیا جائے ۔ اتر پردیش اس کیلئے مرکز کے بعد دوسری اہم سیڑھی ہے جس کو حاصل کرکے وہ اپنے دیگر مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ شائد حکومت ان مسائل کو اتنی جلدی عوامی حلقوں میں موضوع بحث بنانے سے گریز بھی کرتی اگر کشمیر کے حالات کی وجہ سے اسے تنقیدوں کا سامنا کرنا نہیں پڑتا ۔ کشمیر میں کئی مہینوں سے حالات خراب ہیں او وہاں پیالٹ گنس کے استعمال کی وجہ سے ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں اور سینکڑوں اپنی بصارت و بینائی سے محروم ہوگئے ہیں ۔ اس پر ملک بھر میں حکومت کے خلاف ناراضگی کی لہر پیدا ہوئی ۔ پھر سرجیکل حملوں پر حکومت نے جس طرح سے فوج کے رول کو گھٹاکر سیاسی سطح پر فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی وہ بھی حکومت کیلئے کارگر اور موثر ثابت نہیں ہوئی ۔ اب حکومت کی اس کوشش پر سوال اٹھنے لگے ہیں تو پھر حکومت نے اچانک ہی تین طلاق اور یکساں سیول کوڈ کے متنازعہ مسائل کو نہ صرف چھیڑ دیا بلکہ اسے شدت کے ساتھ عوامی حلقوں میں موضوع بحث بھی بنادیا ۔ تین طلاق کا مسئلہ ویسے تو سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے اور حکومت نے وہاں اس کی مخالفت میں حلفنامہ بھی داخل کردیا ہے لیکن اسے ایک منظم طریقے سے عوامی حلقوں میں موضوع بحث بناکر حکومت دوسرے مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے میں کچھ حد تک ضرور کامیاب ہوگئی ہے ۔ حکومت وقتی طور پر بھلے ہی متنازعہ مسائل کو بھڑکا کر اپنی کارکردگی سے عوام کی توجہ ہٹانے میں کامیاب ہوجائے لیکن اسے یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ملک اس کی ایسی کوششیں کچھ مٹھی بھر شرپسندوں کو خوش کرسکتی ہے لیکن ملک کے عوام کی اکثریت اسے قبول نہیں کرتی اور وہ حکومت سے جواب ضرور طلب کرینگے ۔ ملک کے وسیع تر مفاد میں حکومت کو اپنی ریشہ دوانیوں سے باز آجانا چاہئے ۔ حکومت کی پالیسیاں اور اس اقدامات انتخابی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ قومی مفاد کے نقطہ نظر سے تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کے سامنے کئی کام ایسے پڑے ہیں جن پر اس کی توجہ ضروری ہے لیکن حکومت ایسے مسائل میں مصروف ہوگئی ہے جن سے ترقی کا سفر بھی متاثر ہوسکتا ہے اور ملک کا سکون چین بھی ۔ خود مسلمانوں کو بھی سازشوں اور نزاکتوں سے بھرے اس پرفتن دور میں اپنی صفوں کو درست کرلینے کی ضرورت ہے ۔ جب تک مسلمان ایک صف نہیں ہوجاتے اس وقت تک اغیار کی سازشیں ہوتی رہیں گی اور عین ممکن ہے کہ کچھ سازشیں کامیاب بھی ہوجائیں ۔ ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے تو پھر مسلمانوں کو اپنی صفیں درست کرنی ہونگی اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ انہیں جذباتیت کا شکار ہونے کی بجائے سنجیدگی کے ساتھ حالات کو سمجھنے کی اور اس کے مطابق اپنی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر ہندوستان کے مسلمان ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر اغیار کی سازشیں خاک میں مل جائیں گی لیکن اگر مسلمان ایسا نہیں کرپائیں گے تو پھر اغیار اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوجائیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT