Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / مسئلہ روہنگیا : مذمتی بیانات سے زیادہ عملی کارروائی درکار

مسئلہ روہنگیا : مذمتی بیانات سے زیادہ عملی کارروائی درکار

پناہ گزینوں کو سلامتی سے اُن کے مقام کو پہنچانا حکومت ہند کا مقصد: معتمد خارجہ جئے شنکر
نئی دہلی ۔ 26اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام ) معتمد خارجہ ایس جئے شنکر نے آج کہا کہ ہندوستان کا مقصد روہنگیا پناہ گزینوں کو ان کے آبائی مقام کو سلامتی کے ساتھ واپس پہنچانا ہے اور استدلال کیا کہ اس بحران سے محض زبانی خرچ یا مذمتی بیانات کی بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں نمٹا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان پہلے ہی اس بحران کی سنگینی پر اپنی تشویش ظاہر کرچکا ہے اور بنگلہ دیش و میانمار کے ساتھ اعلیٰ سطح پر بات چیت منعقد کی گئی ہے ۔ معتمد خارجہ نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ راکھین ریاست سے بڑی تعداد میں لوگوں کا اخراج بنگلہ دیش کی طرف ہوا ہے جو واضح طور پر تشویش کا معاملہ ہے ۔ ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ روہنگیا آبادی اپنے آبائی مقام کو واپس خیرخوبی سے پہنچ جائے ‘ تاہم یہ آسان نہیں ۔

جئے شنکر یہاں ایک ایونٹ کے موقع پر اس بحران کے بارے میں سوال کا جواب دے رہے تھے ۔ ’’ ہمارا ماننا ہے کہ یہ صورتحال سے عملی اقدامات اور تعمیری گفت و شنید کے ذریعہ بہتر طور پر نمٹا جاسکتا ہے‘ نہ کہ محض مذمت پر اکتفا کیا جائے ۔ ہمیں بہت کچھ سنجیدہ ‘ حقیقت پسندانہ اور مقامی سطح پر حساس انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے ‘‘ ۔ ہندوستان میں لگ بھگ 40,000 روہنگیا پناہ گزین جموں ‘ حیدرآباد ‘ ہریانہ ‘ اترپردیش ‘ دہلی ۔ این سی آر اور راجستھان کے حصوں میں مقیم ہیں ۔ مرکزی وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں کو ایک پیام میں کہا تھا کہ گذشتہ چند دہوں میں دہشت گردی میں اضافہ اکثر اقوام کیلئے سنگین مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ غیرقانونی تارکین وطن دہشت گردانہ تنظیموں کا آسانی سے شکار ہوجاتے ہیں ۔ مرکز نے ریاستی حکومتوں کو ضلع سطح پر ٹاسک فورس تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے تاکہ غیرقانونی طور پر مقیم بیرونی شہریوں کی شناخت کرتے ہوئے انہیں ان کے وطن واپس بھیجا جاسکے ۔ ستمبر میں ایک پٹیشن پر مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ روہنگیا پناہ گزین سیکورٹی کیلئے سنگین خطرہ ہے کیونکہ ان میں سے کئی افراد کے دہشت گردانہ تنظیموں اور پاکستان کی انٹر سروسیس انٹلیجنس ( آئی ایس آئی ) کے ساتھ روابط ہے ۔ 13اکٹوبر کو فاضل عدالت نے کہا تھا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کا مسئلہ شدید نوعیت کا ہے اور مملکت کو اس معاملہ سے نمٹنے میں قومی مفادات اور انسانی حقوق کے درمیان توازن قائم رکھنے میں بڑا رول ادا کرنا ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT