Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / مسئلہ صرف تین طلاق تک محدود نہیں، ہندو راشٹرا اصل ایجنڈہ

مسئلہ صرف تین طلاق تک محدود نہیں، ہندو راشٹرا اصل ایجنڈہ

دیندار مسلمان پر فیصلہ اثرانداز نہیں ہوگا، مولانا ارشد مدنی کا ردعمل

نئی دہلی،22 اگست(سیاست ڈاٹ کام) جمعیۃ علما ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے طلاق ثلاثہ کوغیر آئینی قراردیئے جانے کے سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کو شریعت کے خلاف قرار دیا۔فیصلے پر اپنے فوری ردعمل میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ چونکہ ایک اکثریتی فیصلہ ہے اور پانچ ججوں نے الگ الگ اپنا فیصلہ سنایا ہے اس لئے اس فیصلہ کا سنجیدگی سے تجزیہ اور مطالعہ کرنے کے بعد ہی آئندہ کے لئے کوئی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔انہوں نے اس انتباہ کے ساتھ کہ آنے والا وقت مسلمانوں کے لئے اور بھی مسائل کوجنم دے سکتا ہے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ و ہ ہرگزمایوس نہ ہوں اور صبرو، ضبط اور امن کے ساتھ خیر کا راستہ نکالتے ہوئے اسلام کو اپنی زندگی کے ہرپہلو میں اتارنے کی سعی اور کوشش کریں۔ واضح ہو کہ سپریم کورٹ میں جسٹس کیہرسنگھ کی قیادت والی پا نچ رکنی آئینی بنچ نے آج اپنے ایک اہم اکثریتی فیصلہ میں طلاق ثلاثہ کوغیرآئینی قراردیتے ہوئے اس پرحکم موقوفی جاری کیا اورحکومت کو اس معاملے میں چھہ ماہ کے اندرقانون بنانے کی ہدایت دی ہے۔ جمعیۃ علما ہندکے صدر نے یہاں جاری ایک ریلیز میں مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں حکومت میں موجوداعلیٰ مسند نشیں کی مبینہ دلچسپی کے حوالے سے اندیشہ ظاہر کیا کہ آنے والا وقت مسلمانوں کے لئے اور بھی مسائل کوجنم دے سکتا ہے، جن کے لئے انہیں ذہنی طور پر تیاررہنے کی ضرورت ہے۔ معاملہ صرف طلاق تک ہی محدودنہیں ہے بلکہ یہ بر سر اقتدارسیاسی جماعت بی جے پی اوراس کی ‘مدرآگنائزیشن آر ایس ایس کے ملک کوہندوراشٹرمیں تبدیل کرنے اوریکساں سول کوڈتھوپنے کے ایجنڈہ کا ہی ایک حصہ ہے۔طلاق سے متعلق فیصلے پر اپنے ردعمل میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو مسلمان اسلام کوسمجھتا ہے اوراپنی زندگی شریعت کی پابندی کے ساتھ گذارنا چاہتا ہے، وہ شریعت پر عمل کرے۔جسے عدالت میں جانا ہے وہ جائے گا اورملک کا قانون اپنا کام کرے گامولانا مدنی نے کہا کہ قانونی ماہرین سے صلاح مشورہ کے بعد فیصلہ کے خلاف اپیل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ واضح ہو کہ اس معاملہ میں سب سے پہلے مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پرجمعیۃ علما ہند نے سپریم کورٹ میں سماعت کے لئے از خود قبول کی گئی عرضداشت کی مخالفت کی تھی اور اس معاملہ میں مسلمانوں کے حقوق(سنّی حنفی) کو پیش کیا تھااور سپریم کورٹ نے سو موٹو پٹیشن میں جمعیہ علما ہند کو بطور فریق تسلیم کیا تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT