Saturday , September 22 2018
Home / آپ کے سوال / مسئلہ علم غیب کی وضاحت

مسئلہ علم غیب کی وضاحت

سوال : سیرت کے واقعات کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک واقعہ نظر سے گزرا، ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے کچھ سوالات ذہن میں آئے، اس امید کے ساتھ تحریر کر رہا ہوں کہ جواب دیا جاکر ممنون و مشکور فرمائیں گے۔
جنگ احد کے بعد مشرکین نے دھوکہ سے مسلمانوں کو قتل کرنے کی سازش شروع کردی ماہ صفر ۴ھ؁ میں قبیلہ عضل وقارہ کے لوگ مدینہ آئے اور حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم میں سے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے ہیں۔ان کی تعلیم و تربیت کیلئے اپنا معلم بھیج دیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی فرمائش پر دس معلمین کو روانہ فرمایا جن کے امیر حضرت مرثدؓ تھے ، مقام رجیع میں پہنچ کر ان ظالموں نے آٹھ صحابہ کرام کو شہید کردیا اور حضرت خبیب اور ایک صحابی کو قریش مکہ کے ہاتھوں بیچ دیا جنہوں نے دونوں کو سولی دیکر شہید کرڈالا۔ اسی مہینہ میں اس سے بڑا بیر معونہ کا دلخراش واقعہ پیش آیا ۔ ابو براء عامر بن مالک نے آکر حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمائش کی کہ اہل نجد کو اسلام کی دعوت دینے اور دین سکھانے کیلئے آپؐ صحابہ کرام کو روانہ فرمائیں۔ اس کی طرف سے حفاظت کے وعدے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر بڑے بڑے قرا ء صحابہ کو روانہ فرمادیا جن کے امیرمنذر بن نمرد تھے ، جب یہ دعوتی وفد بیر معونہ پہنچا تو اس دھوکہ باز نے قبلہ ’’زفل‘‘ اور ’’ذکوان‘‘ وغیرہ کے لوگوں کو ساتھ لیکر ان پر حملہ کردیا اور کعب بن زید کے علاوہ تمام قرا ء صحابہ کو شہید کر ڈالا ۔ اس المناک حادثہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت صدمہ پہنچا اور ایک مہینہ تک نماز فجر میں قنوت نازلہ پڑھی۔
اب میرا سوال ہے کہ کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان واقعات کا پہلے سے علم نہیں تھا ؟ یا کم از کم وحی کے ذریعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حالات اور حادثات سے آگاہ نہیں کیا گیا تو اس کی کیا مصلحت ہے ؟
احسن علی ابرار، کنگ کوٹھی
جواب : سوال میں ذکر کردہ واقعات کی استناد و مزید تفصیل کے قطع نظرنفس سوال علم غیب سے متعلق ہے اور علم غیب اللہ تعالیٰ کی مطلق ، قدیم لا محدود صفت ذاتی ہے۔ جس طرح خدا کی ذات میں کوئی شریک نہیں اس طرح اس کی صفات میں بھی کوئی شریک نہیں ۔اگر کوئی کسی مخلوق حتیٰ کہ کسی نبی کو اللہ تعالیٰ کے صفات میں سے کسی ایک صفت میں بالذات ، بالفعل حقیقۃ شریک ٹھہرائے وہ سراسر کفر ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ عالم الغیب بالذات ہے۔ ارشاد الٰہی ہے : عالم الغیب والشھادۃ وھو الحکیم الخبیر۔ وہی غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور وہی بڑا حکمت والا، خبردار ہے (سورۃ الانعام 73:6 )
انی اعلم غیب السموات والارض وأعلم ما تبدون وما کنتم تکتمون۔ میں آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھتا ہوں اور میں وہ جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ جو تم چھپاتے ہو(سورۃ البقرۃ 33/2 )
و عندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الاھو۔ ترجمہ : اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں ان کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا ۔ (سورہ الانعام 59:6 )
علم غیب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفت ذاتی ہے ، مخلوقات میں سے کوئی بھی از خود غیب کا علم نہیں رکھتے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جس کو چاہے غیب پر مطلع فرماتا ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کفار و مشرکین کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے : وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء فامنوا باللہ ورسلہ وان تومنوا و تتقوا فلکم اجر عظیم۔
(اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ تمہیں غیب پر مطلع فرمادے لیکن اللہ اپنے رسولوں سے جسے چاہے (غیب کے علم کیلئے) چن لیتا ہے ۔ سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور اگر تم ایمان لے آؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے ۔سورۃ آل عمران( 179:3 )
عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احد ، الا من ارتضی من رسول ۔
(وہ غیب کا جاننے والا ہے، پس وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے (سورۃ الجن 27-26/72 )
اللہ تعالیٰ کا واضخ ارشاد ہے: ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی فرماتے ہیں (آل عمران 44:3 )
سورہ ھود میں ارشاد ہے : تلک من انباء الغیب لوجیھا الیک یہ (بیان ان ) غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں (سورۃ ھود 49/11 )
سورۃ تکویر میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے غیبی علوم سے واقف ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر غیبی خبریں بتانے پر بخل بھی نہیں کرتے ارشاد ہے: وما ھو علی الغیب بضنین یعنی آپ غیب پر بالکل بخالت نہیں فرماتے۔(سورۃ التکویر 24:81 )
متذکرہ بالا نصوص قرآنی سے واضح ہے کہ علم الغیب بالذات اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ا پنے فضل سے علوم غیبی پر مطلع فرماتا ہے ۔ انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام کا غیبی خبری بیان کرنا اللہ تعالیٰ کے اذن ومشیت کے تابع ہے ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو کشف، الہام ، القاء اور خواب وغیرہ کے ذریعہ بعض غیبی امور کی تلقین فرماتا ہے۔ جو علم غیب کلی وذاتی کے قطعاً منافی نہیں ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہتے تو کفار و مشرکین دو پہاڑوں کے درمیان روندئے جاتے ، پہاڑ سونا بن جاتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ اختیارات و تصرفات کو اس کی مرضی اور حکم کے مطابق جاری فرمایا اور تمام انبیاء کا یہی عمل رہا ہے ۔ انہوں نے صعوبتیں اٹھائی ہیں ، تدبیریں کیں اور توکل کیا اور عملی طور پر امت کو اس دنیا میں راہ حق پر چلنے اور دعوت دینے کا سلیقہ بتایا ۔ اگر وہ دنیوی امور میں ہر وقت معجزات کا استعمال کرتے تو وہ ا پنی قوم اور آنے والی نسل کیلئے کیسے نمونہ ہوتے ،کیونکہ بعد میں آنے والی قوم جب باطل کا مقابلہ کرے گی تو کیا وہ معجزات اور کرشمے کا انتظار کرتے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے گی یا باطل کے خلاف جدوجہد حسن تدبیر ظاہری وسائل کو روبعمل لاتے ہوئے توکل کرے گی ۔
جس ذات اقدس کے حکم و اشارہ پر چاند شق ہوتا ہو ،ڈوبا سورج طلوع ہوتا ہو، کنکریاں گویا ہوتی ہوں، شجر و حجر حکم کی تعمیل میں دوڑتے ہوں ، جانور کلام کرتے ہوں، ہوائیں اپنی ٹھنڈک فرو کردیتی ہوں، انگشتہائے مبارک سے چشمیں ابل پڑتے ہوں ، جن کی نگاہیں جنگ موتہ کا منظر دیکھتی ہوں جن کے گوش مبارک مکہ کے ٹیلوںمیںہوئی سرگوشی کو سنتے ہوں، جس ذات مکرم نے ابتدائے آفرینش سے تاقیامت و بعد قیام قیامت مختلف ا حوال ، و کوائف کو بیان کیا ہو۔ جس ذات اقدس نے اپنی سر کی آنکھوں سے غیب الغیوب حقیقۃ الحقائق خدائے ذوالجلال کے نور کا مشاہدہ کیا ہو، اس ذات کیلئے مٹھی بھر دشمنوں پر فتح پانا کیا بڑی بات تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل و کردار سے ساری امت کو جدوجہد کرنے ، حسن تدبیر اختیار کرنے ، باطل کا مقابلہ کرنے ، دشمن کے مکر کو سمجھنے اور اس کے لئے منصوبہ بندی کرنے کا عملی نمونہ چھوڑا ہے اور 23 سال کے مختصر عرصہ میں اسلا م کو مکہ مکرمہ کی سنگلاخ وادی سے فروغ دیکر شرق غرب میں پہنچادیا اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم ، اذن اور مشیئت کے تابع ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے فضل سے اپنے محبوب بندوں کو غیب پر مطلع فرماتا ہے اور اسی کے حکم پر وہ اس کو ظاہر کرتے ہیں یا سکوت اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قضاء و قدر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی کمال بندگی ہے۔

کفن کے متعلق ضروری مسائل
سوال : کفن کیسا ہو ؟ مقدار کفن کیا ہو ؟ مرد و عورت اور بچے کیلئے کتنے کپڑوں میں کفن دینا مستحب ہے ؟
(2 مرد اور عورت کو کفن پہنانے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟
(3 اگر کوئی غریب مرجائے تو اسے نئے کفن کے بجائے دھوئے ہوئے پاک کپڑے میں کفناسکتے ہیں یا نہیں ؟
محمد بلال خان، بازار گھاٹ
جواب : میت کو کفن دینا فر ض کفایۃ ہے ۔ مرد کے کفن میں تین کپڑے مسنون ہیں ۔ چادر ، تہہ بند کفنی اور عورت کے کفن میں پانچ کپڑے : چادر ، تہہ بند ، کفنی ، سینہ بند اوڑھنی۔
چادر کی مقدار اتنی ہونی چاہئے جو سر سے لیکر پیر تک کافی ہو۔ تہہ بند بھی گویا چادر ہی ہے لیکن پہلی چادر سے کسی قدر چھوٹی ، یہ بھی سر سے پیر تک ہوتی ہے ۔ کفنی ایک قسم کا کرتہ ہے جو گردن سے لیکر پیر تک ہوتا ہے مگر اس میں آستین و کلی نہیں ہوتی ۔ سینہ بند کی مقدار سینہ سے لیکر زانوں تک اور اوڑھنی تین ہاتھ طول دو بالشت عرض۔
اگر کفن مسنون نہ ملے تو مرد کو صرف دو کپڑے چادر ، تہہ بند اور عورت کو تین کپڑے چادر ، تہہ بند اوڑھنی بھی کافی ہے ۔ اگر اس قدر بھی نہ ملے تو جو کچھ مل جائے لیکن کم سے کم اتنا کپڑا ضروری ہے جو پورے جسم کو چھپاسکے ورنہ لوگوں سے طلب کر کے پورا کریں یا جس قدر جسم کھلا رہے اس کو گھانس وغیرہ سے چھپادیں۔ اگر مطلق کپڑا میسر نہ آئے تو پاک گھانس میں میت کو لپیٹ دیں اور قبر میں رکھ کر نماز پڑھ دیں۔
قدرت ہونے پر مرد کو تین اور عورت کو پانچ کپڑوں سے کم نہیں دینا چاہئے اور اس میں ز یادتی بھی درست نہیں۔ چھوٹے بچوں کو ایک دو کپڑوں میں بھی کفنادیں تو جائز ہے لیکن بہتر یہ کہ پورا کفن ہو۔ جو بچہ مرا ہوا پیدا ہو یا حمل گرجائے اس کو ایک کپڑے میں لپیٹ دینا کافی ہے (کفن مسنون کی ضرورت نہیں)کفن انہی کپڑوں کا ہونا چاہئے جن کا پہننا حالت زندگی میں جائز تھا ۔ پس مردوں کیلئے خالصہ ریشمی یا کسم و زعفرانی رنگ کے کپڑوں کا کفن درست نہیں۔ البتہ عورتوں کو دیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کیلئے زندگی میں ان کپڑوں کا پہننا جائز و درست ہے لیکن سب کیلئے سفید کپڑا ہی افضل ہے ۔ کفن کیلئے کپڑا نیا ہو تو احسن ہے ورنہ پرانا بھی کافی ہے ۔
کفن پہنانے سے قبل کفن میں تین یا پانچ مرتبہ کسی خوشبودار چیز کی دھونی دینا مستحب ہے ۔ مرد کو کفن دینے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے کفن کی چادر کسی تخت پر بچھاکر اس پر تہہ بند بچھائیں ، پھر تہہ بند پر کفنی نصف بچھاکر باقی نصف میت کے سر کی طرف چھوڑیں۔ اس کے بعد میت کو غسل کے تختہ سے لاکر اس پر لٹادیں اس طرح کہ دونوں ہاتھ دونوں پہلو میں رکھیں۔ سینہ پر نہ رکھیں۔ نہ نماز کی طرح رکھیں اور کفنی پہنائیں اس طرح کہ میت کا سر کفنی کے گریباں سے باہر نکال کر سر کی طرف رکھی ہوئی آدھی کفنی کو میت پر پھیلادیں پھر تہہ بند لپٹیں۔ اس طرح کہ میت کے بدن پر پہلے تہہ بند کی بائیں جانب رکھیں پھر دائیں جانب تاکہ دائیں جانب بائیں جانب کے اوپر رہے۔ پھر اس کے بعد چادر اسی طرح لپیٹ دیں کہ دائیں جانب بائیں کے اوپر رہے۔
عورت کے کفن پہنانے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے کفن کی چادر کسی تخت پر یا بوریئے پر بچھاکر اس پر سینہ بند اور سینہ بند پر تہہ بند بچھائیں پھر تہہ بند پر کفنی بچھاکر عورت کو اس پر لٹادیں اور کفنی پہنائیں۔ پھر (خوشبو لگانے اور اعضاء سجدہ پر کافور ملنے کے بعد سر کے بالوں کے دو حصے کر کے سینہ پر (دائیں بائیں) کفنی کے اوپر رکھ دیں اور اوڑھنی (کھلی ہوئی) سر اور بالوں پر اوڑھادیں، اس طرح کہ بالوں کے دونوں حصے آخر تک اوڑھنی کے دونوں کناروں کے نیچے چھپ جائںے پھر اس کے بعد تہہ بند لپٹیں پھر سینہ بند (سینہ کے اوپر بغلوں سے نکال کر زانوں تک ) پھر چادر لپیٹ دیں۔ اس طرح کہ ہر دائیں جانب بائیں جانب کے اوپر رہئے۔ کپڑے کی دھجیوں سے دونوں کنارے اور درمیان کمر سے نیچے باندھ دیں تاکہ ہوا وغیرہ سے کفن کھل نہ جائے ۔ جنازہ کے اوپر جو چادر اڑھاتے ہیں وہ کفن میں داخل نہیں۔

TOPPOPULARRECENT