Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / مسئلہ کشمیر کا فوجی حل نہیں ہوسکتا۔ بات چیت ناگزیر

مسئلہ کشمیر کا فوجی حل نہیں ہوسکتا۔ بات چیت ناگزیر

 

ایس سدھاکر ریڈی
کشمیر پھر ایک بار خبروں میں ہے۔ بلکہ یہ ہمیشہ ہی خبروں میں رہا ہے۔ اصل دھارے کا میڈیا چند استثنائی معاملوں کے ماسوا عام طور پر سرکاری تاثرات کو پیش کررہا ہے۔ کشمیر واقعی جل رہا ہے۔
کشمیری عوام کو مستقل احتجاجی قرار دیا جارہا ہے۔ نسلوں سے کشمیریوں کو ایسی صورتحال کی عادت سی ہوگئی ہے۔ سرینگر ضمنی انتخاب نے نظم و نسق کے دعوؤں کے کھوکھلے پن کو آشکار کردیا کہ چند گوشوں کے سوا سب کچھ نارمل ہے۔ اس الیکشن میں صرف 7 فیصد رائے دہندوں نے ووٹ ڈالے، 93 فیصد نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ عوام نے اس سے قبل مجالس مقامی کے انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے تھے، اور پھر اسمبلی الیکشن میں معقول حد تک اچھی رائے دہی ہوئی، اور جب پارلیمانی انتخابات منعقد کئے جاتے ہیں، صرف معمولی تناسب میں ووٹنگ ہوتی ہے۔ کیا اسے کشمیریوں کی طرف سے ہندوستانی پارلیمان پر عدم اعتماد سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ہندوستانی دستور کے آرٹیکل 370 پر عمل آوری میں ناکام ہوگئی؟ یا الیکشن سے بے اعتنائی کی وجہ اس کے انعقاد کا وقت ہے؟ یہ ضمنی چناؤ اس لئے ہوا کیونکہ پی ڈی پی کا منتخب رکن احتجاجاً مستعفی ہوگیا کہ پی ڈی پی۔ بی جے پی کی ریاستی حکومت کی پالیسیاں کشمیر کے مسائل کی یکسوئی میں ناکام ہوگئی ہیں۔
کشمیر کی صورتحال برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ڈرامائی طور پر بدل گئی۔ وہ مقامی کشمیری نوجوان تھا جو بتایا جاتا ہے کہ عسکریت پسند بن گیا تھا۔ اب دوسرا کمانڈر جو ایک اور مقامی کشمیری نوجوان تھا اور جسے برہان وانی کی جگہ مقرر کیا گیا تھا، وہ بھی مارا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس کے جلوس جنازہ میں شریک ہوئے۔ ماضی میں عسکریت پسند یا مسلح دہشت گردوں کو پاکستان سے دراندازوں کے طور پر گھسایا جاتا تھا لیکن یہ تشویش کا معاملہ ہے کہ سات دہے گزر جانے کے بعد بھلے ہی چند مگر مقامی نوجوان مسلح عسکریت پسندی میں شامل ہورہے ہیں اور انھیں ہمدردی اور حمایت حاصل ہورہی ہے۔
کشمیر ہندوستان سے اس کے الحاق کے روز سے ہی پاکستان کے ساتھ مستقل مسئلہ ہے۔ کشمیر کی دستورساز اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں گے جب کہ آرٹیکل 370 کشمیر کو خصوصی موقف دیتا ہے۔ یہ داخلی خودمختاری کا یقین دلاتا ہے۔ یہ انڈین یونین کو قبول ہے اور دستورِ ہند میں شامل ہے۔ یہ قبول تو کرلیا گیا مگر اس پر کبھی بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ خوبصورت وادیٔ کشمیر کا ایک حصہ پاکستان کے زیرقبضہ ہے۔ ایک گوشہ جو اگرچہ معمولی ہے، ہمیشہ ہی پاکستان میں شامل ہوجانے کا خواہاں رہا ہے۔ کچھ زیادہ بڑا گوشہ آزاد کشمیر کے حق میں ہے۔ اور شاید عظیم تر گوشہ کٹرپسند پاکستان کے مقابل سکیولر انڈیا کا حصہ برقرار رہنا چاہتا ہے معہ آرٹیکل 370 ، اور خصوصی موقف اور کشمیری شناخت۔ لیکن کیوں اور کب فکر کی تبدیلی شروع ہوئی؟ کون ذمہ دار ہے؟ اس میں شک نہیں کہ آرٹیکل 370 پر عمل آوری میں کچھ مسائل ہیں۔ اس سے ہوسکتا ہے شمال مشرقی ریاستوں وغیرہ سے ایسے کچھ نئے مطالبات اُبھر سکتے ہیں۔ اس سے علحدہ طور پر نمٹنا پڑے گا۔ لیکن ہم نے داخلی خودمختاری کا تیقن دیا ہے اور یہ ایفائے عہد کی ضرورت ہے۔
تقسیم ہند سے قبل نہ محمد علی جناح اور نا ہی مسلم لیگ کبھی کشمیری عوام کی حمایت جٹا سکے۔ شیخ عبداللہ کی غیرمعمولی قیادت وادی میں روایتی سکیولر اقدار کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی۔ کئی علحدگی پسند قائدین پاکستانی دہشت گردوں کے نشانے پر تھے اور مخالفین علحدگی کے ساتھ صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ اتنے برسوں میں علحدگی پسندوں میں پھوٹ پڑی، متحدہ ہوئے، پھر منتشر ہوئے اور کمزور پڑگئے۔ ان پر اعتبار بھی گھٹ چکا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں متواتر حکومتوں کی افسوسناک ناکامی نے صورتحال کو بدل دیا ہے۔ علحدگی پسند بننے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ عوام اور سکیورٹی فورسیس کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ پی ڈی پی۔ بی جے پی کا موقع پرست اتحاد یکسر ناکام ہے اور صورتحال مزید بگڑ گئی۔
مذاکرات کے کئی دَور پہلے بھی ہوچکے لیکن کبھی کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوا۔ اب حالات کو بچانے کیلئے بات چیت کا ایک اور دَور ضروری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ علحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گی۔ اگر وہ صرف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کرنا چاہتی ہے تو یہ فضول کوشش ہوگی۔ اسے تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے آرٹیکل 370 پر عمل درآمد کا وعدہ کرنا چاہئے۔

عوام بمقابلہ سلامتی دستے
کسی ملک کی آرمی کو سرحدوں اور دشمن سے قوم کے دفاع کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے خود اپنے عوام کے خلاف استعمال نہیں کرتے ہیں۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسیس کو ملک کے کسی بھی حصہ میں لا اینڈ آرڈر کے کنٹرول کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ عسکریت پسندوں اور پاکستانی دہشت گردوں کی دراندازی کے سبب آرمی کو سکیورٹی فورسیس کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ اب کئی دہے گزر چکے ہیں، فوج نے امن و ضبط کی برقراری جاری رکھی ہوئی ہے اور اکثر و بیشتر عوام اور فوج مدمقابل ہوجاتے ہیں۔ فورسیس کے بے دریغ استعمال ، قانون خصوصی اختیارات برائے مسلح افواج (افسپا) کے تحت ہلاکتوں نے عوام کو آرمی سے بدظن کرڈالا ہے۔ اس لئے افسپا اور آرمی سے دستبرداری کے مطالبات ہورہے ہیں۔
حال ہی میں سرینگر میں پولنگ کے روز ایک شہری کو جو ووٹنگ کے بعد واپس ہورہا تھا، پکڑ کر ملٹری جیپ سے باندھ دیا گیا تاکہ وہ سنگباری کرنے والوں کے خلاف انسانی ڈھال کا کام کرے، جس پر بڑا ہنگامہ ہوا ہے۔ انکوائری کا حکم دیا گیا۔ لیکن اس دوران میجر گوگوئی جس نے انسان کو ڈھال کے طور پر بندھوایا تھا، اسے گیلنٹری ایوارڈ دیا گیا اور اس کی فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے مدافعت کی ہے۔ فوج کو بلاشبہ مشکل صورتحال کا سامنا ہے لیکن کسی شہری کو انسانی ڈھال کے طور پر باندھنے سے کشمیریوں کیلئے ہرگز کوئی اچھا پیام نہیں جائے گا۔
جنرل راوت کے ریمارکس
جنرل راوت نے اس موقع پر بعض ناپسندیدہ تبصرے کئے ہیں۔ اُن کی دانست میں ’’کوئی ملک جہاں لوگ فوج سے خوف نہ کھائیں، اس کی تباہی ہوجائے گی اور کشمیر میں جنگ گندی نوعیت کی ہے اور (اسی لئے) مختلف چالیں اختیار کرنے پڑے ہیں‘‘ وغیرہ۔ آرمی کا خوف تو دشمن کو ہونا چاہئے۔ عوام کو چاہئے کہ آرمی کی توقیر کریں، آرمی کو چاہیں نا کہ آرمی سے خائف ہوجائیں۔ عوام کا فوج سے ڈرنا سامراجی خیال ہے۔ خوف کے نتیجے برہمی پیدا ہوگی۔ ایسا کیونکر ہونا چاہئے؟ فوج کو مثالی برتاؤ کے ذریعہ احترام و عزت پانا چاہئے۔
کشمیر میں خود ہمارے عوام کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہے۔ یہ تو لا اینڈ آرڈر کی برقراری کا معاملہ ہے۔ پتھراؤ کرنے والے برہم ہجوم ہیں لیکن دہشت گرد نہیں۔ اُن سے مختلف طرح نمٹا جانا چاہئے۔ یہ ہوسکتا ہے جس کیلئے عوام میں اعتماد پیدا کرتے ہوئے اُن کے دل جیتنے ہوں گے۔ اگر اُن سے دشمنوں جیسا سلوک کیا جائے تو ایسا کرنا انھیں دشمن کے خیمے میں بھیج دینے کے مترادف ہوگا۔ اسی لئے مذاکرات ضروری ہیں۔
پاکستان ناکام مملکت ہے۔ وہ مذہبی دہشت گردوں پر قابو پانے سے قاصر ہے۔ آرمی کا ایک حصہ اُن کی حمایت کرتا ہے۔ آزاد کشمیر بچ کر ، سنبھل کر ، اپنی بقاء نہیں کرپائے گا۔ لیکن اگر اسے انڈیا کا لازمی حصہ برقرار رہنا ہے تو ہندوستان کو ایسا اعتماد پیدا کرنا چاہئے کہ یہ سکیولر مملکت ہے۔ اگر یہ ہندوتوا انڈیا بننے کی راہ پر چل پڑے تو عوام قبول نہیں کریں گے۔ ہندوستان کو کشمیر کے عوام کیلئے دستوری ضمانتوں پر عمل آوری کے بارے میں اعتماد بھی پیدا کرنا چاہئے۔
حالیہ سمینار منعقدہ دہلی میں ایک یونیورسٹی پروفیسر نے یوں تبصرہ کیا: ’’میں اسلامی پاکستان کی بجائے سکیولر انڈیا میں رہنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ لیکن اگر ہندوتوا ہندوستان اور اسلامی پاکستان کے درمیان انتخاب کرنا پڑجائے تو میں آخرالذکر کو ترجیح دیتا ہوں۔‘‘ یہی کچھ کشمیری عوام کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔
کشمیر کو بہت دیر ہوجانے سے قبل بچالینا چاہئے۔ بات چیت سے ہی کام بن سکتا ہے۔ ہم نے ملٹری حل کو آزما لیا مگر اس سے کام نہ بنا۔ خوبصورت کشمیر جو جنگی نقطہ نظر سے کلیدی محل وقوع کا حامل بھی ہے، اسے تنگ نظری پر مبنی طریقوں کے ذریعے نہیں بلکہ دیانت دارانہ کوششوں سے بروقت بچالینا چاہئے۔ اس مسئلہ کا حل فوجی نہیں سیاسی ہونا چاہئے۔ ہندوستان کو نہ صرف کشمیر بطور زمین درکار ہے بلکہ اس کے محنتی، خوش طبع لوگوں کی ضرورت بھی ہے۔ کاش! حکمرانوں پر سوجھ بوجھ غالب آئے اور کشمیر کو بچانے میں مدد ملے۔

TOPPOPULARRECENT