Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / مسئلہ کشمیر کو بہرصورت حل کیا جائیگا : راج ناتھ سنگھ

مسئلہ کشمیر کو بہرصورت حل کیا جائیگا : راج ناتھ سنگھ

دنیا کی کوئی طاقت ہمیں روک نہیں سکتی، دہشت گردوں کا ’ جئے شری رام ‘ کے نعروں سے جواب
بردولی ( گجرات ) 14 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ دنیا میں کوئی بھی طاقت حکومت کو مسئلہ کشمیر حل کرنے سے نہیں روک سکتی ۔ انہوں نے پاکستان پر تنقید کی اور کہا کہ وہ ہندوستان کے خلاف ناپاک سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے اور کشمیر میں سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے فوج کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کسی کو بھی کشمیر کے تعلق سے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ دنیا میں کوئی بھی طاقت ہمیں یہ مسئلہ حل کرنے سے روک نہیں سکتی ۔ وہ سورت ضلع میں بی جے پی کے گجرات گورو یاترا کے سلسلہ میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستان میں دہشت گرد بھیجتا رہتا ہے اور چاہتا ہے کہ ملک کو تقسیم کردیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا پڑوسی ملک ہے ۔ حالانکہ اس کا نام پاکستان ہے لیکن وہ ناپاک سرگرمیوں میں ملوث رہتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہندوستان کو تقسیم کردیا جائے ۔ وہ اسی لئے ہندوستان میں دہشت گردوں کو بھیجتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی نے باہمی مسائل کے پرامن حل کیلئے اپنی جانب سے ہر ممکنہ کوششیں کی ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے فوج سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی فائرنگ کا جواب گولیوں سے دیں اور امن کا سفید جھنڈا نہ دکھایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فوج کو مکمل آزادی دی ہے ۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ آپ دہشت گردوں کے خلاف کارروئی کیلئے آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجہ میں 2016 – 17 میں جموں و کشمیر میں ریکارڈ تعداد میں دہشت گرد ہلاک کئے گئے ہیں۔ ہمیں اس سلسلہ میں تعداد بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ ہر دن ایک یا پھر دو یا تین چار تک دہشت گرد ہلاک کئے گئے ہیں۔ ہمارے جوانوں نے ان کا ’ جئے شری رام ‘ کے نعروں سے جواب دیا ہے ۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ اتنی بھاری تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہو۔ راج ناتھ سنگھ نے واضح کیا کہ مودی حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعد انہوں نے ڈائرکٹر جنرل بی ایس ایف کو ہدایت دی کہ وہ پاکستان کی جانب سے فائرنگ کے جواب میں سفید جھنڈا لہرانے کی روایت کو ختم کردیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس روایت کا اس وقت علم ہوا تھا جب اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ پاکستان کی فائرنگ میں ایک ہندوستانی شہری ہلاک ہوگیا ہے ۔ بی ایس ایف کے ڈائرکٹر جنرل نے انہیں مطلع کیا تھا کہ پاکستان کی فائرنگ کے جواب میں سفید جھنڈا لہرانا پرانی روایت ہے ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان سے کہا جائے کہ ہم امن چاہتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا تھا 16 مرتبہ سفید پرچم لہرانے پر پاکستان کا جواب کیا تھا ۔ انہوں نے مجھ سے بتایا تھا کہ پاکستان نے کوئی سفید جھنڈا نہیں لہرایا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مزید سفید جھنڈا دکھانے سے گریز کرنے کہا تھا اور یہ واضح ہدایت دی تھی کہ پہلی گولی ہماری جانب سے نہیں چلنی چاہئے لیکن اگر ہم پر کوئی گولی چلائی جاتی ہے تو اس کا جواب دیا جانا چاہئے ۔

 

TOPPOPULARRECENT