Tuesday , July 17 2018
Home / پاکستان / مسئلہ کشمیر کی یکسوئی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل آوری سے مشروط

مسئلہ کشمیر کی یکسوئی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل آوری سے مشروط

اسلام آباد ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے وزیرخارجہ خواجہ آصف نے آج ایک بار پھر حسب معمول ہندوستان پر الزام عائد کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کی یکسوئی ’’بندوق کی نالی‘‘ کے ذریعہ کرنا چاہتا ہے۔ خواجہ آصف نے یہ ریمارک ’’کشمیر یوم یگانگت‘‘ کے موقع پر کئے جو پاکستان میں منایا جارہا ہے۔ خواجہ آصف نے اس موقع پر ہندوستانی کشمیر میں 20 غیرمسلح شہریوں کی ہلاکت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ہلاکتوں سے یہ واضح ہوجاتا ہیکہ ہندوستان مسئلہ کشمیر کی یکسوئی ’’بندوق کی نالی‘‘ پر کرنا چاہتا ہے اور ہندوستان نے اسے اپنی پالیسی بنا لیا ہے جبکہ پاکستان پر دہشت گردی اور مسئلہ کشمیر کو معلق کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔
اب ان 20 ہلاکتوں پر ہندوستان خاموش کیوں ہے؟ اگر یہی واقعہ پاکستان میں رونما ہوا ہوتا تو اس وقت سارے عالمی چینلوں پر یہی چیخ و پکار رہتی کہ پاکستان نے ایسا کردیا، پاکستان نے ویسا کردیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ ہندوستانی سیکوریٹی فورسیس نے اتوار کے روز تین انکاؤنٹرس میں 13 عسکریت پسندوں کو مار گرایا جن میں 13 فوجی جوان بھی شہید ہوئے جبکہ اننت ناگ اور شوپیان ڈسٹرکٹس میں چار شہری ہلاک ہوئے۔ خواجہ آصف نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر میں عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ گذشتہ 70 سالوں سے جموں و کشمیر کے بہادر عوام ہندوستانی جبر و ظلم کے خلاف بہادری سے لڑ رہے ہیں تاکہ انہیں بھی ’’الگ تھلگ‘‘ نہ رکھتے ہوئے قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ ہندوستان کو کشمیر تو چاہئے لیکن کشمیری عوام نہیں چاہئے۔ انہیں اپنے ہی وطن میں بیگانہ کردیا گیا ہے اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے وہ کسی دیگر سیارے سے آئے ہوں۔ جموں و کشمیر کے عوام کو ان حقوق سے محروم رکھا گیا ہے جن کی طمانیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد میں دی گئی ہے اور افسوس کی بات یہ ہیکہ ان قراردادوں پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی کیونکہ ہندوستان ان قراردادوں سے دستبردار ہوکر اب ان کا پابند نہیں رہا بلکہ کشمیری عوام پر ظلم و جبر کے ذریعہ ان کی آواز کو دبانا چاہتا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام نے خود اپنے ہی وطن میں احساس اجنبیت کو ختم کرنے ایک ایسی جدوجہد چلا رکھی ہے جس کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے جو قربانیاں دی ہیں ان کا تقابل کسی دیگر قربانی سے نہیں کیا جاسکتا حالانکہ ان پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے عزائم سرد نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔ ’’ہندوستانی قبضہ‘‘ کے خلاف جس طرح کشمیری عوام نے اپنی لڑائی جاری رکھی ہے اسے نہ صرف حکومت پاکستان بلکہ پاکستانی عوام کے علاوہ دنیا کے ہر گوشہ میں بسنے والے انصاف پسند لوگ سلام کرتے ہیں اور اس بات کے خواہاں ہیں کہ کشمیری عوام کو ہر نوعیت کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد فراہم کی جائے۔ پاکستان بین الاقوامی برادری کو ان کا وہ وعدہ یاد دلانا چاہتا ہیکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کا اطلاق کرواکر اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی تحقیقات کیلئے بین الاقوامی برادری ہندوستان پر دباؤ ڈالے کہ وہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کے حقائق معلوم کرنے والے مشنز کی جموں و کشمیر تک رسائی کو ممکن بنائے۔ یاد رہیکہ پاکستان کی کابینہ نے حالیہ تشدد کے بعد ’’کشمیر یوم یگانگت‘‘ منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر مختلف ریالیوں، مظاہروں اور ملک گیر پیمانے پر واکس (چہل قدمی) کا انعقاد کیا گیا تھا۔ دنیا کے ایسے تمام ممالک جہاں پاکستانی آباد ہیں وہاں بھی کشمیریوں سے اظہاریگانگت کیلئے مختلف ریالیوں کا انعقاد کیا گیا تھا تاکہ بین الاقوامی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کی جاسکے کہ کس طرح ہندوستان نے جموں و کشمیر میں ظلم و جبر کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
دریں اثناء پاکستان کے صدر ممنون حسین نے بھی علحدہ سے ایک بیان دیتے ہوئے کشمیریوں کو تیقن دیا کہ ان کی منصفانہ جدوجہد میں پاکستان ان کے شانہ بشانہ ہمیشہ موجود رہے گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ کشمیر میں خونریزی کو روکنے اپنا مؤثر رول ادا کرے۔

TOPPOPULARRECENT