Saturday , June 23 2018
Home / پاکستان / مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کیلئے اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل

مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کیلئے اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل

اسلام آباد۔ 12؍اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی رنگ دینے کی اپنی کوششوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے پاکستان نے آج اقوام متحدہ کے معتمد عمومی کو مکتوب تحریر کیا ہے کہ خط قبضہ اور بین الاقوامی سرحد پر جو ہندوستان سے متصل ہے، صیانتی صورتِ حال ابتر ہوچکی ہے اور عالمی ادارہ سے اپیل کی جاتی ہے کہ مسئلہ کی یکسوئی کے لئے مداخ

اسلام آباد۔ 12؍اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی رنگ دینے کی اپنی کوششوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے پاکستان نے آج اقوام متحدہ کے معتمد عمومی کو مکتوب تحریر کیا ہے کہ خط قبضہ اور بین الاقوامی سرحد پر جو ہندوستان سے متصل ہے، صیانتی صورتِ حال ابتر ہوچکی ہے اور عالمی ادارہ سے اپیل کی جاتی ہے کہ مسئلہ کی یکسوئی کے لئے مداخلت کی جائے۔ اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بانکی مون کے نام وزیراعظم پاکستان کے مشیر قومی سلامتی و اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے ہندوستان پر الزام عائد کیا کہ وہ دانستہ طور پر بِلااشتعال جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے اور گزشتہ چند ہفتوں سے سرحد پار سے مسلسل فائرنگ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کی خط قبضہ پر ابتر ہوتی ہوئی صیانتی صورتِ حال پر فوری توجہ دینے کی خواہش کرتا ہوں۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد پر ہی صیانتی صورتِ حال انتہائی ابتر ہوگئی ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈہ پر موجود انتہائی قدیم مسائل میں سے ایک ہے

جن کی ہنوز یکسوئی نہیں ہوسکی، حالانکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تیقن دیا گیا تھا کہ استصوابِ عامہ اقوام متحدہ کی زیر سرپرستی کروایا جائے گا اور جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے گا، لیکن اس قرارداد پر تاحال عمل آوری نہیں کی گئی۔ دفتر خارجہ پاکستان سے جاری کردہ مکتوب کی نقل میں پاکستان نے اقوام متحدہ کو یاددہانی کی ہے کہ عالمی ادارہ برسوں سے اپنے تیقن پر عمل آوری سے قاصر رہا ہے، حالانکہ یہ اس علاقہ کے پائیدار امن و سلامتی کا مسئلہ ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے گزشتہ ماہ خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں نواز شریف نے پُرزور انداز میں کہا تھا کہ جموں و کشمیر کے مسئلہ کی قطعی یکسوئی ضروری ہے اور یہ انتہائی بدبختانہ ہے کہ ہندوستان نے ایک ایسی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو اس کے مبینہ عزائم کے برعکس ہے کہ وہ اس مسئلہ پر پاکستان کے ساتھ سنجیدگی سے بات چیت کرے گا۔ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ہندوستان نے یکطرفہ طور پر مذاکرات منسوخ کردیئے اور استصوابِ عامہ کے جواز کو چیلنج کیا۔ معتمدین خارجہ کی سطح کی بات چیت 25 اگسٹ 2014ء کو مقرر تھی جس کو کوئی وجہ بتائے بغیر منسوخ کردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس مکتوب کو ایک سرکاری دستاویز کے طور پر سلامتی کونسل میں گشت کروایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کی پرامن یکسوئی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتا ہے جس کا ہم ہمیشہ خیرمقدم کرنے کے لئے تیار رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے موجودہ حالات تبدیل کرنے میں سہولت حاصل ہوگی اور اقوام متحدہ کا موقف بھی مستحکم ہوگا۔ سرتاج عزیز نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان خط قبضہ پر کشیدگی میں اضافہ کررہا ہے۔ مستقل شلباری اور فائرنگ کی وجہ سے بے قصور پاکستانی شہری ہلاک ہورہے ہیں۔ یکم تا 10 اکٹوبر کے دوران خط قبضہ پر 20 اور بین الاقوامی سرحد پر 22 جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہندوستان کی جانب سے کی گئیں جن میں 12 شہری ہلاک اور 52 زخمی ہوگئے جب کہ پاکستانی فوج کے 9 سپاہی بھی زخمی ہوئے۔ جون سے اگسٹ 2014ء تک جنگ بندی کی خلاف ورزی کے خط قبضہ پر 99 واقعات اور بین الاقوامی سرحد پر 32 واقعات پیش آئے۔ بحیثیت مجموعی 2014ء میں 174 بار خط قبضہ پر اور بین الاقوامی سرحد پر جنگ بندی کی خلاف کی گئی۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان نے انتہائی صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور اشتعال انگیزی کے باوجود جوابی کارروائی نہیں کی۔

TOPPOPULARRECENT