Friday , December 15 2017
Home / دنیا / مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے باوجود  دہشت گردی ختم نہیں ہوگی : حسین حقانی

مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے باوجود  دہشت گردی ختم نہیں ہوگی : حسین حقانی

واشنگٹن ۔ 13 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے ایک سابق اعلیٰ سطحی سفارتی عہدیدار نے پاکستان کی کئی دہوں پرانی کشمیر پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر حل بھی ہوگیا تو اس کے باوجود بھی دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاسکتا اور نہ ہی مسلکی تشدد کو کم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی طالبان کو افغانستان میں قدامت پسند اسلامی حکومت کے قیام کے ارادے سے باز رکھا جاسکتا ہے۔ امریکہ کیلئے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے واشنگٹن میں کل ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل بھی ہوگیا تو وہ مسلکی تشدد ختم کرنے میں کس طرح مددگار ہوگا کیونکہ مسلکی تشدد وہ ہے جس کے تحت ایک انسان دوسرے انسان کو صرف اس لئے قتل کرتا ہے کہ وہ اس کا ہم مسلک نہیں ہے۔ کس طرح ہم طالبان کو ان کی قدامت پسند حکومت کے قیام کے ارادے سے باز رکھ سکتے ہیں۔ یہ وہ اہم سوالات ہیں جو جواب طلب ہیں۔ اس اجلاس اور مباحثہ میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے اسکالر اور جنوبی ایشیائی امور کی ماہر کرسٹین فیر نے بھی شرکت کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہیکہ اس موقع پر پاکستان کی حامیوں کی ایک بڑی تعداد جن میں پاکستانی سفارتخانے کے کچھ ملازمین اور صحافیوں نے اجلاس اور مباحثہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی۔

TOPPOPULARRECENT