Monday , December 18 2017
Home / کھیل کی خبریں / مسائل سے دوچار ہندوستانی ٹیم بنگلور میں کامیابی کیلئے پرعزم

مسائل سے دوچار ہندوستانی ٹیم بنگلور میں کامیابی کیلئے پرعزم

آج آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹسٹ کا آغاز
بنگلور۔3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) پونے ٹسٹ میں شکست اور وکٹ تنازعہ کے بعد ہندوستانی کرکٹ ٹیم کل یہاں ایم چنا سوامی اسٹیڈیم میں شروع ہونے والے دوسرے ٹسٹ میں اچھی کارکردگی کے ساتھ آسٹریلیائی کرکٹ ٹیم کے خلاف سیریز میں 1-1 کی برابری کے مقصد کے ساتھ اترے گی۔کپتان ویراٹ کوہلی کی نمبر ایک ٹسٹ ٹیم کوا سٹیون اسمتھ کی قیادت والی آسٹریلیائی ٹیم نے پونے میں پہلے ٹسٹ میں333  رن کے بڑے فرق سے شکست دیتے ہوئے اس کا 19 ٹسٹ میچوں میں ناقابل تسخیر برتری کاسلسلہ بھی روکا تھا۔ تاہم گھریلو میدان پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی میزبان ٹیم کی یہ شکست بہت سے معنوں میں حیرت زدہ کرنے والی رہی ۔ جہاں پونے کی وکٹ کے سلسلے میں بھی کافی سوال اٹھ رہے ہیں تو وہیں میزبان ٹیم کے کوچ انیل کمبلے نے یقین دلایا ہے کہ چار میچوں کی سیریز میں 1-0  سے پیچھے ہونے والی ہندوستانی ٹیم بنگلور میں شاندار واپسی کرے گی۔ہندوستانی ٹیم گزشتہ ٹسٹ سیریز میں جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ جیسی بڑی ٹیموں کو شکست چکی ہے ، لیکن آسٹریلیا سے پونے میں ملی شکست نے ہندوستانی ٹیم کی ان خامیوں کو اجاگر کیا ہے جو اب تک نظر انداز ہو رہی تھیں۔ دنیا کی نمبر دو ٹسٹ ٹیم سے سیریز جیتنے کیلئے اسے بنگلور میں ہر حال میں جیت درج کرنی ہوگی اور اس کیلئے کوہلی کی زیر قیادت ٹیم  کو بیٹنگ خاص طور پر ناقص اوپننگ، کیچ چھوڑنے اور فیلڈنگ میں اصلاح کرنا ہوگا۔ پونے ٹسٹ میں بیٹسمینوں نے مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 105 اور دوسری اننگز میں 107 رنز پر ہی گھٹنے ٹیک دیے تھے  جبکہ آسٹریلیائی ٹیم کے اسپنروں نے ہندوستانی حالات کا بہتر طریقے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میچ تین ہی دن میں نمٹا دیا تھا۔گزشتہ10  ٹسٹ میچوں میں 23 کیچ چھوڑنے والی میزبان ٹیم  نے صرف پونے میں ہی آسٹریلیا کے خلاف پانچ کیچ ڈراپ کئے ہیں جس کا اسے خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ علاوہ ازیں ہندوستانی ٹیم  اب بھی رن بنانے کے لئے خاص طور سے کپتان کوہلی پر ہی منحصر ہے ۔ آسٹریلیا سے پہلے مسلسل چار سیریز میں ڈبل سنچری بنانے والے کوہلی پونے میں صفر اور 13 رنز ہی بنا سکے تھے ۔ ان کے آوٹ ہوتے ہی باقی ٹیم بھی تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔خود کوہلی نے بھی میچ کے بعد کہا تھا کہ یہ ان کی ٹیم کی گزشتہ دو سال میں بدترین بیٹنگ تھی۔ مرلی وجے اور لوکیش راہل مسلسل مایوس کر رہے ہیں اس  جوڑی نے پہلی اننگز میں اوپننگ شراکت میں 26 رنز اور دوسری اننگز میں 10 رنز جوڑے ۔ تاہم یہ پہلی موقع نہیں ہے جب اوپننگ جوڑی اچھی شروعات نہیں دلا سکی۔بنگلہ دیش کے خلاف حیدرآباد میں واحد ٹسٹ میں اوپننگ شراکت میں انہوں نے دو رنز جوڑے تھے ۔ اس سے پہلے انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز میں راجکوٹ میں کھیلے گئے پہلے ٹسٹ میں مرلی اور گمبھیر نے پہلی اننگز میں 68  اور دوسری اننگز میں صفر رن جوڑے ۔ گمبھیر اس کے بعد ٹیم سے باہر ہو گئے ۔ وشاکھاپٹنم میں پھر دوسرے ٹسٹ میں مرلی۔ راہول نے پہلی اننگز میں چھ اور دوسری اننگز میں 16 رنز کا آغاز فراہم کیا تھا۔ پونے میں چتیشور پجارا، اجنکیا رہانے مڈل آرڈر میں جبکہ نچلی صف میں روی چندرن اشون، رویندر جڈیجہ اور ردھمان ساہا بھی ناکام رہے ۔کوہلی اگر بنگلور میں بیٹنگ آرڈر میں کچھ ردوبدل کا امکان بھی ہے لیکن کمبلے نے پھر سے رہانے پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آخری کھلاڑیوں میں ٹیم کا حصہ رہیں گے جس سے ٹرپل سنچری بنانے والے کرون نائر کی اب بھی ٹیم میں جگہ ملتی نہیں دکھائی دے رہی ہے ۔  اسپنروں نے پونے میں بھی توقع کے مطابق ہی مظاہرہ کیا اور اشون اور جڈیجہ نے سات اور پانچ وکٹ لئے ۔ وہیں جینت یادو بھی فائدہ مندرہے تھے نیز بنگلور کی وکٹ سست ٹرنر ہوگی  جس سے دونوں ٹیموں کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے ۔ہندوستان کا چنا سوامی اسٹیڈیم میں برابری کا ریکارڈ ہے جہاں اس نے اب تک کل 21  ٹسٹ کھیلے ہیں جن میں سے چھ ٹسٹ جیتے ہیں، چھ ہارے ہیں اور نو ٹسٹ ڈرا کھیلے ہیں۔ ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان بنگلور میں پہلی مرتبہ ٹسٹ میچ ستمبر 1979 میں کھیلا گیا تھا جو ڈرا رہا تھا۔ اس کے بعد دونوں ٹیمیں مارچ 1998 میں کھیلیں جس میں آسٹریلیا نے آٹھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ آسٹریلیا نے اکتوبر 2004  میں بھی ہندوستان کو اسی میدان پر 217  رنز سے شکست دی تھی لیکن ہندوستان نے اکتوبر 2010  میں آسٹریلیا کو سات وکٹوں سے شکست دی۔

TOPPOPULARRECENT