Saturday , December 15 2018

مسائل کی یکسوئی میں ناکام حکومت کا عدالتوں پر انحصار

خانکی اسکولس کی فیس کا تعین اور تھیٹرس میں اضافی قیمتوں کی وصولی پر عوام کو کوئی راحت نہیں

حیدرآباد۔12اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ خود سے حل نہ ہونے والے مسائل کو عدلیہ تک پہنچانے کے انتظامات کرتے ہوئے ان مسائل سے اپنا دامن جھاڑ رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے خانگی اسکولوں کی فیس کے معاملہ ہو یا تھیٹر میں اشیائے خورد و نوش کی اضافی قیمتوں کی وصولی کا مسئلہ ہو ان دونوں مسائل میں عوام کی جانب سے کافی دباؤ ڈالے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے کچھ حرکت ہوئی لیکن حکومت کے ان اقدامات سے خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں اور تھیٹر مالکین کو راحت حاصل ہوگئی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے خانگی اسکولوں کی فیس کو باقاعدہ بنانے جو اقدامات کئے اور کمیٹی کی تشکیل کے ذریعہ ایک سال تک سنوائی اور اس کے بعد رپورٹ کی تیاری کی گئی لیکن اس رپورٹ کو عدالت میں چیالنج کرکے حکم التواء حاصل کرلیا گیا جس کے سبب جاریہ سال خانگی اسکولوں کی فیس کو باقاعدہ بنانے کے عمل میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی جس کے نتیجہ میں تلنگانہ کے خانگی اسکولوں میں تعلیم دلوانے والے اولیائے طلبہ و سرپرستوں کو کوئی راحت حاصل نہیں ہوپائی اور اب جبکہ حکومت کو اس سلسلہ میں متوجہ کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو کہا جا رہا ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر دوراں ہے اسی لئے حکومت اس معاملہ میں کسی کاروائی سے قاصر ہے۔ اسی طرح حکومت کے محکمہ اوزان و پیمائش کی جانب سے تھیٹر میں اشیاء خورد و نوش پر من مانی قیمتوں کی وصولی کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا گیا اور دو یوم کی خصوصی مہم کے فوری بعد عدالت نے تھیٹر مالکین نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے کاروائی پر حکمت التواء حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن عدالت نے حکم التواء تو جاری نہیں کیا لیکن محکمہ اوزان و پیمائش کو نوٹس جاری کرکے ان کاروائیوں کا اندرون 4ہفتہ جواز پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے ۔ تھیٹر مالکین کا کہناہے کہ انہیں توقع ہے کہ 4 ہفتہ بعد انہیں بھی خانگی اسکولوں کی طرح راحت حاصل ہوجائے گی اور وہ بھی اپنی تجارت جاری رکھ سکتے ہیں۔ سرکاری عہدیداروں کا کہناہے کہ حکومت اور محکمہ جات کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں میں عدالت سے رجوع ہونے کی گنجائش موجود رکھنے کے سبب یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے اگر حکومت کی جانب سے قانون کے دائرے میں رہ کر کاروائیاں اور احکامات جاری کئے جاتے ہیں تو عوام کو راحت پہنچانے کے اقدامات عدالتی رسہ کشی کا شکار نہیں ہوں گے لیکن عوام طور پر مختلف محکمہ جات کی جانب سے ان امور کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT