Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مسابقتی انٹرنس امتحانات میں شرکت کرنے والی طالبات کو مشورہ

مسابقتی انٹرنس امتحانات میں شرکت کرنے والی طالبات کو مشورہ

مہندی لگا کے نہ رکھنا …
مسابقتی انٹرنس امتحانات میں شرکت کرنے والی طالبات کو مشورہ
مہندی لگے ہاتھوں کی فنگر پرنٹ اور بائیو میٹرک شناخت نہیں ہوپاتی
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی تعطیلات کا سیزن بھی شروع ہوجاتا ہے اور تعطیلات میں تقریبا ہر گھر میں کوئی نہ کوئی تقریب ضرور ہوتی ہے ۔ خاندانی تقریب میں شرکت کے لیے ہر فرد کی اپنی انفرادی اور بہتر تیاری ہوتی ہے جس میں کالج کی طالبات سرفہرست رہتی ہیں جنہیں بناؤ سنگھار پر زیادہ توجہ دیتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے جس میں ہاتھوں پر مہندی کے دلچسپ اور جاذب نقش و نگار ڈالنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔ نیز گرمائی سیزن میں مسابقتی انٹرنس امتحانات بھی ہوتے ہیں اور اس مرتبہ ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں کئی انٹرنس امتحانات اسی عرصے میں ہورہے ہیں ۔ آن لائن انٹرنس امتحانات میں شرکت کرنے والی طالبات کو اس مرتبہ اپنے ہاتھوں کو مہندی کے نقش و نگار سے آراستہ کرنے سے پرہیز کرنا پڑے گا کیوں کہ تلنگانہ اسٹیٹ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن ( ٹی ایس سی ایچ ای ) نے آن لائن امتحانات کا منصوبہ بنایا ہے اور ٹی ایس سی ایچ ای کے 7 اہم امتحانات ایم سیٹ ، ای سیٹ ، آئی سیٹ ، لا سیٹ ، پی جی لا سیٹ ، پی جی ای سیٹ اور ایڈسیٹ امتحانات ماہ مئی میں منعقد ہونے والے ہیں اور ماہ مئی شادیوں کا بھی سیزن ہوتا ہے جس میں طالبات ، جوش خروش کے ساتھ شرکت کرتی ہیں اور ان کے ہاتھ مہندی کے عربی اور انڈین ڈیزائنر سے دلکش روپ و رنگ اختیار کرچکے ہوتے ہیں ۔ مذکورہ 7 امتحانات کے لیے بائیو میٹرک فنگر پرنٹ کو ضروری بنادیا گیا ہے لہذا مہندی جو کہ ہاتھوں پر اپنا مکمل اثر ختم کرنے کے لیے 3 تا 6 ہفتے کا وقت لیتی ہے ۔ ان کے لیے فنگر پرنٹ کا مرحلہ عبور کرنا مشکل ہوتاہے ۔ لہذا مہندی لگے ہاتھ اس سال کئی انٹرنس امتحانات سے محروم ہوسکتے ہیں ۔ یہاں اس حقیقت کا تذکرہ بھی اہم ہے کہ مہندی یا اس طرح کے نقش و نگار والے ہاتھوں کی فنگر پرنٹ مشین یا بائیو میٹرک نظام توثیق نہیں کرتا اور ان کی شناخت نہیں ہوپاتی جس سے ان کے امتحان میں شرکت کرنے کا خواب اور تیاری سب رائیگاں ہوجائے گی ۔ مذکورہ 7 امتحانات کے کنوینرس اور ٹی ایس سی ایچ ای کے ارباب مجاز کے پاس ایسا کوئی منصوبہ بھی نہیں ہے کہ جو طالبات امتحانات میں شرکت کے لیے فیس اور فارم داخل کرچکے ہیں ان کے ہاتھوں کی مہندی سے اگر فنگر پرنٹ اور بائیو میٹرک میں شناخت نہیں ہوپاتی ہے تو ان کے لیے کیا کیا جائے گا ۔ ٹی ایس سی ایچ ای کے نائب چیرمین پروفیسر ٹی پاپی ریڈی نے کہا کہ جو طالبات امتحانات میں شرکت کرنے والی ہیں انہیں سختی کے ساتھ تاکید کی جاتی ہے کہ وہ ہاتھوں پر مہندی یا کسی قسم کا کوئی اور رنگ نہ لگائیں ۔ امید کی جارہی ہے کہ مستقبل میں عصری ٹکنالوجی مہندی لگے ہاتھوں کی شناخت بھی کرپائے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT