Monday , November 20 2017
Home / عرب دنیا / مساجد میں دہشت گردی انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ

مساجد میں دہشت گردی انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ

شدت پسندی کے سبب دور حاضر میں قبل اسلام جیسی صورتحا ل پر مسلمانوں میں تشویش
ریاض ۔ 4 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) جنگ میں وحشی جانور اپنا پیٹ بھرنے کے لیے خود سے کمزور جانورں کا شکار کرتے اور انہیں کھلے عام چیر پھاڑ کرتے ہیں مگر جب ان کا پیٹ بھر جائے تو وہ بھی دوسروں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔زمانہ قدیم میں جب خود انسان ابھی تہذیب وتمدن سے نا آشنا تھا تب بھی انسانوں نے جنگوں کے کچھ اصول وضع کر رکھے تھے۔ کچھ زمان ومان کی قیدیں بھی لگا رکھی تھیں۔ پرانے زمانے کے لوگوں نے بعض مہینے اور دن حرام قرار دے رکھے تھے جن میں بد سے بدتر دشمن کا خون بہانا بھی حرام سمجھا جاتا تھا۔ یہ کلچر قدیم عرب میں بھی تھا اور اسلام نے بھی اسے مشروط طور پر قائم رکھا۔مگر آج کے دور میں عالم انسانیت کو جس سیاہ دہشت گردی کا سامنا ہے اس کے کوئی قوانین اور ضوابط نہیں۔ جنگل کا قانون اور قدیم انسانی جنگی ضابطے بھی یہاں لاگو نہیں ہوتے۔ آج کے دہشت گرد جب چاہتے اور جہاں چاہتے ہیں نہتے لوگوں کا قتل کرتے اور مقدس مقامات کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔العربیہ ٹی وی کے پروگرام میں دور حاضر میں مساجد میں دہشت گردی اور نہتے لوگوں کے قتل عام کی مکروہ روایت پر روشنی ڈالی ہے۔ پروگرام میں بتایا گیا کہ مقدس مقامات پر حملوں کا آغاز بدقستمی سے اسلام کے قرون اولیٰ سے اس وقت شروع ہو گیا تھا جب حجاج بن یوسف نے خانہ کعبہ پر منجنیقوں سے حملہ کیا۔ اس کے بعد قرامطی فرقے نے خانہ کعبہ پر یلغار کر کے حجر اسود کو وہاں سے نکال لیا اور مکمل 22 سال تک حجر اسود قرامطہ کے قبضے میں رہا۔

آج بھی سرزمین حجاز کو حجاج بن یوسف اور قرامطہ کے پیروکاروں کا سامنا ہے۔ آج کے دہشت گرد زیادہ منظم انداز میں مساجد اور نمازیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے اور ان کا خون بہاتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے سعودی عرب میں دہشت گردوں نے کئی مساجد کو کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ مشرقی سعودی عرب الدالوہ اور الدمام کی جامع مساجد میں دہشت گردی کی گئی۔ جنوبی سعودی عرب میں نجران کے مقام پر ابہاء مسجد میں نمازیوں کاقتل عام کیا گیا۔ پڑوسی خلیجی ملکوں کی مساجد دہشت گردی کے نشانے پر ہیں جہاں اب تک دسیوں نمازیوں کا خون بہایا جا چکا ہے۔بدقسمتی سے مساجد کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والوں میں ان عناصر کا ہاتھ ہے جو خود کو اسلام کے سب سے بڑے نام لیوا قرار دیتے ہیں۔ شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر قابض دولت اسلامیہ “داعش” کہلوانے والی تنظیم کے عناصر سعودی عرب میں مساجد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ مساجد کو شہید اور نمازیوں کو خوف زدہ کر کے اپنے تکفیری نظریات مسلط کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT