Tuesday , October 16 2018
Home / شہر کی خبریں / مساجد میں معتکفین کو جمع کرنے اشتہار بازی پر علماء کی نا پسندیدگی

مساجد میں معتکفین کو جمع کرنے اشتہار بازی پر علماء کی نا پسندیدگی

اعتکاف کوئی رسم نہیں بلکہ صرف عبادت ہے ۔ مفتی صادق محی الدین فہیم
حیدرآباد۔7جون(سیاست نیوز) اعتکاف فرض کفایہ ہے اور اگر محلہ سے کسی ایک نے بھی ادا کردیا تو یہ فرض سب سے اتر جائے گا لیکن جاریہ رمضان المبارک کے دوران ایک ایسا عمل دیکھنے میں آیا ہے جس سے ذمہ دار علما اکرام اور مفتیان عظام حیرت میں مبتلاء ہیں اور افسوس کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ شہر کے اطراف کی مساجد میں معتکفین کو جمع کرنے کیلئے کی جانے والی پیشکش اور انہیں راغب کرنے کیلئے کی گئی اشتہار بازی کو علماء نے سخت ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے عمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اگر کوئی اس لالچ میں اعتکاف کیلئے پہنچ بھی جاتا ہے تو ایسی صورت میں فرض کفایہ ادا نہیں ہوگا بلکہ اس کا یہ اعتکاف مقبول ہو ہی نہیں سکتا تو سب کی جانب سے کیسے ادا کیا جائے گا! مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم نے اس صورتحال پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اعتکاف کوئی رسم نہیں ہے یہ ایک عبادت ہے اور عبادت کا تعلق دل سے ہے اور عبادت جذبۂ دل پر ہی موقوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو زبردستی یا لالچ دیتے ہوئے زبردستی اعتکاف میں بٹھایا جا تا ہے تو یہ مناسب نہیں بلکہ اس سے فرض کفایہ کی ادائیگی کی امید بھی نہیں رکھی جا سکتی ۔ مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم نے کہا کہ اعتکاف کیلئے نذر اور کپڑوں کی پیشکش اور ان کے لئے مسجد کی کمیٹیوں کی جانب سے خصوصی انتظام کیا جانا درست نہیں ہے بلکہ اس طرح کی پیشکش لالچ کے مترادف ہے ۔ مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری نے معتکفین کو اس طرح کی پیشکش اور اپنی ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر ڈالتے ہوئے فرار اختیار کرنے کی کوشش کو دینی تجارت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اس طرح کی پیشکش کی حرص میں آکر اعتکاف کرتا بھی ہے تواسے کوئی ثواب کی امید نہیں رکھنی چاہئے اور اس طرح کے معتکفین کی خدمت سمجھ کر جو کیا جا رہاہے وہ خدمت نہیں ہے بلکہ انہیں فراہم کی جانے والی پیشکش انہیں لالچ دینے کے مترادف ہے۔ مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری نے کہا کہ اس طرح کی کوششیں ترغیب یا شوق کیلئے نہیں ہیں بلکہ یہ کوششیں تحریص (حرص) کا سبب ثابت ہوں گی۔ انہو ںنے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں ان لوگوں کی جانب سے عام ہونے لگی ہیں جو معصوم عوام کے عقائد سے کھلواڑ کرتے ہیں اور اپنی ذہنیت و حاشیہ کے فروغ کی کوشش میں مصروف ہیں اور انہیں دینی علوم سے کوئی مطلب نہیں ہے۔مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے ان اطلاعات پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اعتکاف کے معنی اللہ سے رشتہ مضبوط کرنے کے ہیں اور اعتکاف پر صرف اپنے ارادے سے ہی جایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیک نیتی سے کئے جانے والے عمل کو ہی بارگاہ خداوندی میں درجۂ قبولیت حاصل ہوتا ہے اور اللہ کو اس طرح کے دنیا داری میں مبتلاء اعتکاف کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ شہر کے نواحی علاقو ںمیں موجود مساجد میں اس طرح اعتکاف پر لوگوں کو بٹھائے جانے کے سلسلہ کو فوری ترک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ نوجوان نسل میں دینی شعور اجاگر ہورہا ہے اور تعلیم یافتہ باشعور نوجوان اعتکاف میں ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے لیکن اس کے بر عکس اس طرح کی اطلاعات باعث تکلیف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT